ہندوستان میں انصاف کا بدلتا تصور

0

محمد فاروق اعظمی

افلاطون کے نظریہ انصاف کے مطابق انصاف انسان کے ضمیرکی آواز ہے۔ اس آواز پر کوئی بیرونی ذریعہ یا طاقت اثر انداز نہیں ہونی چاہیے۔ انصاف کا مطلب لوگوں کے درمیان اور لوگوں و معاشرے کے درمیان ہم آہنگی ہے۔یہ انصاف کا کوئی عالم گیرتصور ہو یا نہ ہولیکن بظاہر اس میں کوئی عیب نظرنہیں آتا ہے لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ افلاطون کے اس نظریہ انصاف کی بنیاد پر کھڑا ہمارا نظام عدل،انصاف کی فراہمی کے معاملہ میں اصولوں کی پاسداری سے آج بھی کوسوں دور ہے۔ عمل کی دنیامیں آج عدالتیںدوست کے ساتھ اچھا سلوک اور دشمن کے ساتھ برا سلوک کرنے کے پول مارکی نظریہ انصاف کی پیرو ہیں۔اس نظریہ انصاف پر عمل درآمد کیلئے ایک خیالی دشمن بھی پیدا کرلیا ہے، جسے مسلمان کہتے ہیں۔ یہ آزمائش نچلی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدالتوں تک میں نظرآجاتی ہے۔ قانون کا ایک ہی ترازو ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کیلئے الگ باٹ استعمال کیاجاتا ہے۔
اس کی تازہ ترین مثال بلقیس بانو کو عدالت سے ملنے والا جواب ہے۔2002گجرات فساد کے دوران بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور اہل خانہ کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزاپانے والے11 مجرموں کو ایمنسٹی پالیسی کے تحت رواں سال 15 اگست کو جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ بلقیس نے گجرات حکومت کی معافی کی پالیسی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی تاکہ اس کے مجرموں کو واپس جیل بھیجا جاسکے۔پہلے تو سپریم کورٹ کی جسٹس بیلہ ایم ترویدی نے خودکو اس معاملے کی سماعت سے الگ کرلیا اور بعد میںجب بلقیس بانو کی طرف سے پیش ہونے والی ایڈووکیٹ شوبھاگپتا نے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا کی بنچ پر زور دیا کہ اس معاملے کی سماعت کیلئے ایک اور بنچ کی تشکیل کی ضرورت ہے تو چیف جسٹس نے جواب میں کہاکہ براہ کرم ایک ہی بات کا بار بار ذکر نہ کریںاور ان کی عرضی خارج کردی گئی۔
اس سے قبل 20اکتوبر2022 کو اترپردیش میں رام پور کی ایک عدالت نے بھی انصاف کے اسی نظریہ پر عمل درآمد کیا۔ نفرت انگیزتقریر کے معاملے میں سماج وادی پارٹی کے رہنما ’ اعظم خان‘ نام کے ملزم کو 3برسوں کی قید اور2ہزار روپے جرمانہ کی سزاسناکر ’ انصاف پرورری‘ کی تاریخی مثال پیش کی ہے۔اس کے ساتھ ہی اترپردیش اسمبلی کے ’ عزت مآب ‘ اسپیکر ستیش مہاپانا نے بھی اعظم خان کی رکنیت رد کرتے ہوئے ایک منتخب رکن اسمبلی کو نااہل قرار دے کر انصاف پروری اور قانون کی عمل داری کا وہ ثبوت پیش کیا ہے جو لوح انصاف پر ’ستارۂ امتیاز‘ کی طرح برسوں اپنی آب و تاب دکھاتا رہے گا۔
اعظم خان کا بنیادی جرم یہ ہے کہ وہ ایک ایسے لیڈر ہیں جو بولتے ہیں، تنقیدکرتے ہیں، سوال پوچھتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، حق کیلئے آوازاٹھاتے ہیں، پسماندہ، درماندہ مسلمانوں کی تعلیم کیلئے فکر مند رہتے ہیں، ان کیلئے تعلیمی ادارہ قائم کرتے ہیں، یونیورسٹی بناتے ہیں، وہ اپنی عزت نفس کا سودا نہیں کرتے ہیں، قید و بند کی صعوبتیں کم کرانے کیلئے ’ معافی نامہ‘ نہیں لکھتے ہیں۔ان پر حکومت نے الزام لگایا تھا کہ 2019کی انتخابی مہم کے دوران اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کی شان میں وہ گستاخی کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان دونوں لیڈروں کے خلاف انہوں نے ایسی زبان استعمال کی ہے جو مذہبی جذبات بھڑکانے، نفرت، دشمنی اور تعصب پھیلانے کاموجب ہے۔ اعظم خان کے خلاف فرد جرم میں یہ بھی درج ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو بی جے پی کے خلاف متحد کیاتھا اور یہ کہاتھا ’’آپ (مسلمان) ان سے بدلہ لیں جو آپ کو کتے کا بچہ اور کتا کہتے ہیں۔‘‘ یادرہے کہ نریندر مودی جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو2013 میں ایک انٹرویو کے دوران جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا انہیں 2002 گجرات فساد پر افسوس ہے، تو مودی جی نے کہا تھا ’ ’اگر کوئی اور گاڑی چلا رہا ہے اور ہم پیچھے بیٹھے ہیں، تب بھی اگر ایک کتے کا بچہ پہیہ کے نیچے آجائے تو تو درد ہوگا یا نہیں؟‘‘
یہ وہ تقریر ہے جسے عدالت نے ’ نفرت انگیز‘ سمجھتے ہوئے ملزم اعظم خان کو مجرم قرار دیا اور 3برسوں کی قیدوجرمانہ کی سزاسنادی تو دوسری اترپردیش اسمبلی کے اسپیکر نے اعظم خان کے گلے میں نااہلی کا طوق ڈال دیا۔
یہ درست ہے کہ نفرت انگیزی قابل گرفت و مواخذہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ گرفت اور مواخذہ صرف اعظم خان کا ہی کیوں۔ رکن پارلیمنٹ پرویش ورما، تیجسوی سوریہ، رکن اسمبلی اترپردیش نند کشور گرجر،یتی نرسمہا نند، بی جے پی لیڈر سنگیت سوم، گیان دیو آہوجا،نوپور شرما، کپل مشرا، انوراگ ٹھاکراور بندی سنجے کمارکی نفرت کازہراگلتی زبان کا مواخذہ کیوں نہیں ؟ ان کے خلاف کارروائی میں حکومت کے ہاتھ پائوں کیوں پھولتے ہیں، عدالتیں ازخود نوٹس لینے سے کیوں قاصر ہیں؟ ان کی زہر افشانی کے مقابلے اعظم خان کی تقریر کی حیثیت تو ’ یاددہانی‘ کے سواکچھ بھی نہ تھی۔
دہلی سے بھارتیہ جنتاپارٹی کے رکن پارلیمنٹ پرویش ورما نے تو کھلے اسٹیج سے پولیس کی سنگینوں کے سایہ میں مسلمانوں کے تجارتی اور معاشی بائیکاٹ کرنے کی اپیل اور اعلان کیا تھا۔ مسلمانوں کو سبق سکھانے کیلئے ان کی معیشت کچلنے کا نعرہ دینے والے پرویش ورما کی تائید میں ایم ایل اے نندکشوران سے بھی چند ہاتھ آگے نکل کر یہ کہتے سنے گئے کہ دہلی فساد کے دوران انہوں نے اورا ن کے ساتھیوں کے مسلمانوں کو مارا (قتل کیا) اور ہمیشہ ماریں گے۔
2013کے مظفر نگر فساد کے ملزم مغربی اتر پردیش کے بی جے پی لیڈر سنگیت سوم نے تو مسلمانوں کے خلاف راج پوتوں کو ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دیتے ہوئے یہ کہا کہ جس طرح سے ایک طبقے کی آبادی بڑھ رہی ہے، ان سے دہشت پھیل رہی ہے، راجپوت سماج کو پھر سے ہتھیار اٹھانا ہوں گے۔
تلنگانہ بی جے پی کے صدر بندی سنجے کمار کی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ی تو اس حد تک بڑھی ہوئی ہے کہ وہ کھلے عام مدارس کو بم دھماکوں کا ذمہ دار قرارد یتے ہوئے آنے والے ’ رام راجیہ‘ میں اردو زبان پر مکمل پابندی کا اعلان کرتے ہیں۔
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے جعفرآباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران مسلمانوں کے خلاف بی جے پی لیڈر کپل مشرا کا ویڈیو اور ان کی شر انگیز تقریر تو تمام ہندوستانیوں نے سنی تھی، اس تقریر کے بعد ہی فروری 2020 میںدہلی میں فساد پھوٹ پڑاتھا اور سیکڑوں مسلمان مارے گئے تھے۔مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر تو بھرے جلسہ میں گولی مارنے کا نعرہ دیتے ہیں توہری دوار کے ’ دھرم سنسد میںتو باقاعدہ مسلمانوں کی نسل کشی کا عزم بھی کیاگیا۔
ان تمام معاملات میں انتظامیہ سے شکایت بھی کی گئی، ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی، عدالتوںمیں مقدمے بھی دائر کیے گئے لیکن ان میں سے کسی کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے نہ انہیں گرفتار کیاگیا، نہ ان کی زبان بندی کا کوئی اقدام اٹھایاگیا اور نہ عدالتوں نے ہی اپنی ’ انصاف پسندی‘ کا ثبوت دیتے ہوئے کوئی مقدمہ فیصل کیا۔ کیا اس کی وجہ یہ نہیں سمجھی جائے کہ ان میں سے کوئی بھی ’ اعظم خان ‘ نہیں تھا۔ ان کے نام پرویش ورما، تیجسوی سوریہ، نند کشور گرجر،یتی نرسمہانند، سنگیت سوم، گیان دیو آہوجا، نوپور شرما، کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر اور بندی سنجے کمار تھے۔اورہماری انتظامیہ نفاذ قانون میںاور عدالتیں انصاف کی فراہمی میں دوست اور دشمن(خیالی) کا کھلا امتیاز برت رہی ہیں۔حالانکہ افسران اور جج صاحبان کو جو نصاب پڑھایا جاتا ہے، اس میں ایسے ہر امتیاز اور انفرادیت کی نفی کرتے ہوئے ’ انصاف ‘ کو ریاست کی روح قرار دیاگیا ہے۔لیکن افسوس کہ اب اس روح پر ہی وار ہونے لگے ہیں۔
[email protected]