حالات، ماحول اور مسائل کا صحیح ادراک ضروری ہے

0

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

مجھے لگتا ہے بھارت کی آزادی کے بعد جو سماج اور سیاست کے اندرونی حرکیات (Internal Dynamics) تھی اس کو سمجھنے میں مسلمانوں سے غلطی ہوئی ہے اور وہ نئے ہندوستان میں اپنا رول اور اپنی ذمہ داری طے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو جو قیادت میسر آئی چاہے وہ مذہبی رہی ہو یا سیاسی وہ زیادہ تر خود غرض (Self Seeker) تھی، بلکہ ان کے سامنے ملی اور ملکی مفاد پہلی ترجیح نہیں تھی۔ ان کی ساری جدوجہد ان کے ذاتی مفاد کے ارد گرد گھومتی تھی اور اس کی تکمیل ہوتے ہی وہ اعلان کرنے لگتے تھے کہ سب خیریت ہے۔
ہم پچھلے پچھتر سالوں سے ایک اندھیری سرنگ میںہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس سرنگ سے باہر آئیں۔ مسلمانوں کو جو بھی مسائل درپیش ہیں ان کی نوعیت وقتی نہیں ہے۔ شدت وقتی ہے جیسے روس نے یوکرین پر حملہ کردیا۔ یہ وقتی با ت ہے۔ اسی طرح اس وقت مسلمانوں پر پے در پے حملے ہورہے ہیں۔ یہ بھی وقتی بات ہے۔ اس سے ہندوستان سے نہ اسلام ختم ہوگا اور نہ مسلمان ختم ہوں گے۔ لوگ ڈر جائیں گے، پریشان ہوں گے، ان کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جائے گا، ان کے گھر مکان توڑ دیے جائیں گے اور ان کو جیلوں میں ٹھونس دیا جائے گا۔ یہ سب ان کو ڈرانے اور ان کا حوصلہ پست کرنے کی نیت سے کیا جارہا ہے۔ ایسی حرکتوں سے آج تک نہ کوئی قوم مٹی ہے اور نہ آگے مٹے گی۔ سنگھ پریوار جس طرح مسلمان حکمرانوں کی تاریخ بتارہا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے اپنے پورے دورِ حکمرانی میںہندوؤں پر ظلم کیا تو کیا اس کے نتیجے میں ہندو دھرم ختم ہوگیا، ہندو قوم مٹ گئی۔ جب تب نہیں ہوا تو اب کیا مسلمانوں پر ظلم ڈھانے سے مسلمان مٹ جائیں گے اسلام کو دیس نکالا مل جائے گا۔ ہمیں ایسے خوف اور اندیشوںسے باہر نکلنا چاہیے۔ ہاں کچھ لوگ اس ظلم کے ضرور شکار ہوں گے اور وہ کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کا دکھ درد بانٹنا ہماری قومی ، ملی اور انسانی ذمہ داری ہے اور ان کی ہرممکن مالی، اخلاقی اور قانونی مدد کی جانی چاہیے۔
1857 کی پہلی جنگ آزادی کے وقت ہندوؤں اور مسلمانوں نے جس بے مثال یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور جو قربانیاں دیں اس کو دیکھ کر انگریزوں کے ہوش اڑ گئے تھے اوران کی سمجھ میں آگیا کہ اگر ان کا اتحاد نہیں توڑا گیا تو ان کی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔ اس لیے انھوں نے بھارت کے دھرم، سماج اور تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور اپنے طرزِ حکمرانی میں واضح تبدیلی لاتے ہوئے حکومت، عدلیہ، انتظامیہ اور نظامِ تعلیم، نصابِ تعلیم اور فوج میں ایسی تبدیلی کی جس سے دونوں قوموں کے درمیان دوری، بے اعتمادی ، اختلاف اور دشمنی کے احساس پیدا ہوں۔ آزادی کی تحریک جیسے جیسے زور پکڑتی گئی ، دونوں قوموں کے درمیان اختلاف بھی تیزی سے بڑھتے چلے گئے۔ اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے دونوں قوموں کے اختلاف کو اسی طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا بلکہ نت نئے اختلاف اختراع کیے گئے تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ دونوں ایک نہیں دو قوم ہیں جن کے درمیان کوئی نقطۂ اتحاد نہیں ہے۔
1947ء میں ملک آزاد تو ہوا مگر یہ دو حصے میں بٹ گیا۔ یہ سرجری نہیں تھی بلکہ بوچری تھی جس کی ٹیس اور درد پورے ملک نے محسوس کیا۔ گھاؤ اتنا بڑا اور گہرا تھا کہ آج تک نہیں بھرسکا ہے۔ یہ وہ دور تھا جبکہ پورے ملک کو دارو ئے شفا کی ضرورت تھی۔ گاندھی کے قتل نے رہی سہی امید پر پانی پھیر دیا۔جواہر لعل نے تنہا ان حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر وہ اکیلے پڑ گئے۔ کانگریس پارٹی اور اس کی بڑی بڑی شخصیتوں نے ان کا ساتھ نہیںدیا۔مسلمان تقسیم سے پہلے کی تلخیوں اور مباحث سے باہر نہیں نکل پائے، نتیجہ وہ پوری طرح ماضی کی گرفت میں رہے۔ مستقبل کے حالات اور اندیشوں نے انہیں ایک خول میں بند کردیا اور وہ الگ تھلگ ہوکر جینے لگے۔ یہ طرزِ فکر اور طرزِ عمل غلط تھا اس کو بتانے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔
آج جبکہ ہم اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ہیں اور ملک میں ایک ایسی قوت حکمراں ہے جو آزادی کی جدوجہد اور اس کے آئیڈیل سے الگ تھلگ رہی۔ اس کا خواب اکثریت کی حکمرانی کا قیام ہے جہاں اقلیتیں یا تو دوسرے درجے کی شہری ہوں گی یا انہیں اپنی محدود اور مشروط اختیار کے ساتھ جینا ہوگا۔ یہ بالکل نیا ہندوستان ہے مگر یہ ایک ٹھوس حقیقت بن کرابھر رہا ہے۔ ہمیں اب پوری طرح جاگ جانا چاہیے اور آنکھیں کھول کرحقیقت واقعہ کا گہرائی سے جائزہ لے کر نئے سرے سے اپنی حکمت عملی اور ترجیحات طے کرنی چاہیے۔ یہ گھڑی محشر کی ہے اور تو عرصۂ محشر میں ہے ،پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے۔
مضمون نگار بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل کے سابق وائس چیئرمین ہیں
[email protected]