افغانستان میں امن دور کی بات

0

سنجیو پانڈے

افغان امن مذاکرات کی شروعات گزشتہ سال ستمبر میں دوحہ میں ہوئی تھی۔ ان مذاکرات کے نتیجے ابھی تک تو حوصلہ افزا نہیں رہے ہیں۔ امن مذاکرات میں شامل فریقوں کے مابین آج بھی اعتماد کی کمی نظر آرہی ہے۔ کوئی بھی فریق نرم رُخ کا مظاہرہ نہیں کررہا ہے۔ بات چیت جہاں سے شروع ہوئی تھی، تقریباً وہیں پر ہی ہے۔ ایسے میں مذاکرات میں پیش رفت کا تصور کرنا بے معنی ہے۔ گزشتہ دنوں طالبان اور افغان حکومت کے نمائندے پھر سے دوحہ میں ملے اور بات چیت شروع ہوئی ہے۔ لیکن اس کا کیا نتیجہ نکلے گا، یہ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔
افغانستان کی نومنتخب حکومت اور طالبان کے درمیان سب سے بڑا تنازع اقتدار میں شراکت داری سے متعلق ہے۔ موجودہ وقت میں افغانستان پر حکومت کررہے صدر اشرف غنی اور ان کے حامی کسی بھی قیمت پر طالبان کی قیادت قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہیں، طالبان بھی غنی اور ان کے حامیوں کی قیادت کو نہیں مان رہے ہیں۔ ایسے میں افغانستان کا اگلا سیاسی-انتظامی ڈھانچہ کیسا ہوگا، حکومت کیسی ہوگی، اس پر اتفاق رائے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ حالاں کہ اس دوران دونوں فریقین کے سامنے تین طرح کی تجاویز آئی ہیں۔ ایک تجویز یہ ہے کہ موجودہ حکومت کی قیادت میں طالبان اقتدار میں شامل ہوجائیں۔ دوسری تجویز یہ کہ طالبان کی قیادت میں حکومت بنے، جس میں موجودہ حکومت کے لوگ شامل ہوں۔ اور تیسری تجویز یہ ہے کہ ایک عبوری سرکار بنائی جائے۔ لیکن صدر اشرف غنی ان تجاویز پر راضی نہیں ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ غنی الیکشن کے لیے راضی ہیں جس میں عوام ووٹ دے کر نئی حکومت منتخب کریں۔ حالاں کہ طالبان عبوری حکومت کی تشکیل کی تجویز پر راضی ہیں، لیکن وہ حکومت میں شامل ہونے کو تیار نہیں ہیں۔

دوحہ میں چل رہے امن مذاکرات سے متعلق ابھی بھی شش و پنچ ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کیا افغانستان سے پوری طرح سے اپنی فوج ہٹالے گی، اس سے متعلق ابھی بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ کیا طالبان کے تسلط کو شمالی افغانستان میں مضبوط ازبیک اور تاجک قبول کرلیں گے؟ کیا ایران چاہے گا کہ طالبان پوری طرح سے کابل پر قبضہ کرکے بیٹھ جائیں؟ کیوں کہ اس علاقہ کی جغرافیائی سیاست میں پاکستان کی مضبوطی ایران قبول کرنے کے لیے آج بھی تیار نہیں ہے۔ ایسے حالات میں افغانستان میں امن ابھی دور کی بات ہے۔

دوحہ میں جاری بات چیت سے متعلق نہ تو طالبان کو بہت امیدیں ہیں، نہ افغان حکومت کو۔ گزشتہ 6ماہ میں کئی راؤنڈ کی بات چیت ہوئی، لیکن سب بے نتیجہ رہی۔ بہت سے لوگ اس کے لیے اشرف غنی کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں تو ایک طبقہ حل نہ نکلنے کے لیے طالبان کو ذمہ دار بتا رہا ہے۔ طالبان افغانستان میں پوری طرح سے اسلامک نظام والی حکومت چاہتے ہیں۔ اس کی افغانستان میں زبردست مخالفت ہورہی ہے۔ طالبان کی حکومت میں افغان خواتین پر جس طرح کے مظالم ہوئے اور پابندیاں عائد کی گئی تھیں، وہ ملک کو ایک طرح سے قدیم زمانہ میں دھکیلنے جیسا تھا۔ اسی ماہ کابل میں لڑکیوں کے ایک اسکول کو نشانہ بناکر کیے گئے خودکش حملہ میں60سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ یہ حملہ طالبان کا پیغام تھا کہ لڑکیوں کو اسکول بھیجنا بند کیا جائے۔ اس لیے افغان خواتین اب کسی بھی قیمت پر طالبان کی حکومت کے حق میں نہیں ہیں۔ افغان امن مذاکرات میں بھی خواتین کی آزادی اور حقوق کا ایشو خاص طور پر اٹھتا رہا ہے۔ وہیں طالبان کے تسلط کے خلاف ازبیک، تاجک اور ہزارا قبائل بھی پوری طرح سے متحد ہیں۔
امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد افغانستان میں خودکش حملوں میں اچانک سے تیزی آئی ہے۔ طالبان کا یہ جارحانہ رُخ شبہ پیدا کرنے والا ہے۔ وہ امن مذاکرات بھی کررہے ہیں اور ساتھ ہی افغانستان میں مسلسل حملے بھی کررہے ہیں۔ ایک جانب وہ پاکستان سے بھی صلاح مشورہ کررہے ہیں تو دوسری جانب ایران و روس کے ساتھ بھی رابطہ میں ہیں۔ گزشتہ دنوں طالبان کے کچھ سینئر کمانڈروں نے حکمت عملی بنانے کے لیے پاکستان میں اپنے کمانڈروں اور آئی ایس آئی کے سینئر افسران سے ملاقات کی۔ دراصل پاکستان حکمراں کسی بھی قیمت پر کابل کو کنٹرول کرنے کے اس سنہری موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔ بیچ بیچ میں طالبان کمانڈر اپنے روسی اور ایرانی رابطہ کاروں سے بھی مشورہ کررہے ہیں اور اس کا نتیجہ بھی سامنے آتا رہا ہے۔
اب نہ تو طالبان کو امریکہ پر کوئی اعتماد رہ گیاہے، نہ ہی امریکہ کو طالبان پر۔ امریکی انتظامیہ طالبان کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ کیوں کہ طالبان ابھی بھی القاعدہ کے رابطہ میں ہیں اور اس کے بڑے دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ جب کہ طالبان اور امریکہ کے مابین ہوئے معاہدے میں یہ طے ہوا تھا کہ طالبان القاعدہ کے دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیں گے۔ اس کے باوجود اسامہ بن لادن کے رشتہ دار اور کچھ خطرناک القاعدہ دہشت گرد طالبان کی پناہ میں ہیں۔ حالاں کہ طالبان کے سینئر کمانڈروں نے اپنے لوگوں کو ہدایت دے رکھی ہے کہ وہ غیرملکی دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں۔ لیکن زمین پر اس ہدایت کو تسلیم نہ کرتے ہوئے طالبان اندر ہی اندر نئی حکمت عملی تیار کرنے میں لگے ہیں۔
دوحہ میں چل رہے امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ افغانستان سے متعلق پاکستان کا نظریہ ایک دم صاف اور واضح ہے۔ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی دلیل ہے کہ افغانستان اس کا سب سے قریبی پڑوسی ہے، اس لیے وہ معاشی، سیاسی طور پر اہم ہے۔ چوں کہ افغانستان کا سب سے مضبوط قبیلہ پشتونوں کا پاکستان میں رہنے والے پشتونوں کے ساتھ روٹی-بیٹی کا رشتہ ہے، اس لیے پاکستان کسی بھی قیمت پر کابل میں اپنے مفادات کی قربانی نہیں دے سکتا۔ پشتونوں کی بڑی آبادی پاکستان کے خیبر پختونخواں صوبہ میں ہے۔ ایسے میں کابل میں پاکستان حامی حکومت کا ہونا اس کے مفاد میں ہوگا۔
پاکستان حکمراں امریکی ڈپلومیسی کو ہمیشہ شک کی نظروں سے دیکھتے رہے ہیں۔ ممکنہ طور پر اسی لیے وقت وقت پر وہ افغانستان سے منسلک معاملات میں امریکہ کو جھٹکا بھی دیتے رہے ہیں۔ آئی ایس آئی کے افسران کی دلیل ہے کہ امریکہ کا آج جو دشمن ہے، وہ کل امریکہ کا دوست ہوسکتا ہے۔ افغانستان سے لے کر مغربی ایشیا تک کی امریکی ڈپلومیسی پر امریکی ڈیپ اسٹیٹ(ایک گروپ جو خفیہ طریقہ سے ریاست کی پالیسیوں کو متاثر کرتا ہے، چاہے اقتدار پر کوئی بھی پارٹی قابض ہو) کا قبضہ ہے۔ ڈیموکریٹ ہوں یا ری پبلکن، افغانستان سے لے کر مغربی ایشیا تک کے معاملات میں دونوں ایک ہی پالیسی اپناتے ہیں۔ بیشک دونوں کی زبان اور الفاظ کا انتخاب تبدیل ہوتا رہتا ہے، لیکن ان کی ڈپلومیسی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ پاکستان پاور اسٹیبلشمنٹ کی دلیل ہے کہ براک اوباما کی زبان تو نرم تھی، لیکن ان کے ساتھیوں کی زبان افغانستان سے متعلق دھمکانے والی رہی۔ وہ اکثر پاکستان کو دھمکی دینے والے انداز میں بات کرتے تھے۔ ان کی دلیل ہے کہ امریکی اقتدار اس علاقہ کے ممالک کو آپس میں لڑانے کے کھیل میں ہی یقین کرتا آیا ہے، تاکہ اس پورے خطہ میں امریکی مفادات کا حصول ہوتا رہے۔ لیکن ڈونالڈ ٹرمپ کے دفتر میں صورت حال تبدیل ہوئی۔ ٹرمپ خود ہی دھمکی دینے والی زبان کا استعمال کرنے لگے۔ دراصل افغانستان میں پاکستان کے اپنے آزاد مفادات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں وہ اپنا کھیل امریکی اثر سے باہر نکل کر کھیلتا ہے۔ پاکستان ویسے تو افغان امن مذاکرات میں امریکہ کی مدد کرنے کا دعویٰ کرتا رہا ہے، لیکن وہ پوری طرح سے امریکہ کے اشارے پر چل رہا ہے، یہ کہنا غلط ہوگا۔
یقینی طور پر دوحہ میں چل رہے امن مذاکرات سے متعلق ابھی بھی شش و پنچ ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کیا افغانستان میں زمین سے پوری طرح سے اپنی فوج ہٹالے گی، اس سے متعلق ابھی بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ کیا طالبان کے تسلط کو شمالی افغانستان میں مضبوط ازبیک اور تاجک قبول کرلیں گے؟ کیا ایران چاہے گا کہ طالبان پوری طرح سے کابل پر قبضہ کرکے بیٹھ جائیں؟ کیوں کہ اس علاقہ کی جغرافیائی سیاست میں پاکستان کی مضبوطی ایران قبول کرنے کے لیے آج بھی تیار نہیں ہے۔ ایسے حالات میں افغانستان میں امن ابھی دور کی بات ہے۔
(بشکریہ: جن ستّا)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here