اب لکش دیپ پر نظر

0

شوق حکمرانی اپنے ساتھ ایسے کئی آزار لے کر آتی ہے جو حکمرانوں سے انسانیت کا جوہر نچوڑ لیتی ہے۔ حکمراں خود کو انسانوں سے بالاتر ارفع مخلوق سمجھنے لگتا ہے اور اس بدگمانی کا شکار ہوجاتا ہے کہ اس کے حاشیہ خیال میں آنے والی ہر سوچ اس کی مملکت کیلئے اصلاحات کی نوید بن کر سامنے آتی ہے۔ تاریخ میں ایسے حکمرانوں کا ذکر خاص طور کیاگیا ہے تاکہ دنیا اس سے عبرت لے، سبق سیکھے اور ایسے حکمرانوں کا ہاتھ پکڑ ے جو بزعم خود مصلح اعظم کا کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔گزشتہ کئی برسوںسے ہندوستان جنت نشان بھی ایسے ہی حکمرانوں کا مشق ستم بنا ہوا ہے۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی، سی اے اے، این آرسی اورر یاستوں کی جغرافیائی اور سیاسی تقسیم کی نادرخیالی کے بعد زرعی اصلاحات کے نام پر کسانوں کو سرمایہ داروں کا غلام بنانے کیلئے قانون سازی بھی ہوگئی اور اب ملک کے انتہائی جنوب میں واقع مجموعۂ جزائر لکش دیپ پر نظر عنایت ہوئی ہے۔ مرکز کے زیر انتظام اس خطہ کیلئے ’لکش دیپ پنچایت راج ریگولیشن2021‘کا مسودہ جاری کیاگیا ہے۔اس بل کی تجویز کے مطابق2سے زیادہ بچوں کے والدین پر مقامی بلدیاتی انتخاب لڑنے پر پابندی عائد ہوجائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان بھر میں سب سے کم شرح آبادی لکش دیپ کی ہے۔32مربع کلومیٹر پر 10آباد اور مجموعی طور پر36جزائر میں کل آبادی فقط65ہزار ہے اور یہاں آبادی میں اضافہ کی شرح صرف6.23فیصد ہے جب کہ ہندوستان بھر میں یہ شرح17.70فیصد ہے۔ ایسے میں یہ ’ نادر‘ قانون لانے کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔
اس کے ساتھ کئی اور قانونی مسودے ہیں۔ان میں سے ایک ’اینٹی سوشل ایکٹیویٹز ریگولیشن بل2021‘ہے جس کے قانون بن جانے پر کسی کو بھی گرفتارکرنے اور اس گرفتاری کو عرصہ ایک سال تک صیغہ راز میں رکھے جانے کا اختیار انتظامیہ کو حاصل ہوجائے گا۔ دوسرا مسودہ ’انیمل پریوینشن ریگولیشن 2021‘ہے جس میں گائے، بیل، بھینس اور بچھڑوں کے ذبیحہ پر پابندی کی تجویز ہے۔تیسرا’لکش دیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن2021‘ہے اس میں کہاگیا ہے کہ ’ ترقیاتی مقاصد ‘ کیلئے کسی کی بھی کوئی قطع اراضی حکومت جب چاہے تحویل میں لے سکتی ہے۔یہ مسودے ابھی قانون بننے کے عمل سے گزررہے ہیں۔
اگریہ مسودات قانونی شکل اختیار کرگئے تو ہندوستان کا زیور کہاجانے والا یہ مجموعۂ جزائر اپنی انفرادیت کھودے گا اور مقامی تہذیب وثقافت بھی ختم ہوجائے گی۔ لکش دیپ میں چونکہ براہ راست مرکز کی حکمرانی ہے اور مرکز یہاں اپنی حکومت چلانے کیلئے ایڈمنسٹریٹر مقرر کرتا ہے۔دسمبر2020میں اس مرکزی علاقہ کا ایڈمنسٹریٹر نامزد ہونے والے پرفل کھوڑاپٹیل نے اسی قانونی مسودہ میں جو تجاویز رکھی ہیں، اس کی چہار جانب سے مخالفت ہورہی ہے۔لکش دیپ کی آبادی کا کہنا ہے کہ نئے ایڈمنسٹریٹر جزائر کی منفرد طرز زندگی کو تباہ کرناچاہتے ہیں۔
مرکز کی جانب سے لکش دیپ میں کی جانے والی اصلاحات میں شراب پر سے پابندی ہٹاکر جزیرہ میں شراب خانے قائم کرنے کی کھلی اجازت دے دی گئی ہے۔تمل بولنے والی لکش دیپ کی آبادی میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور یہ اب تک شراب سے پاک علاقہ کے طور پر اپنی شناخت رکھتا ہے۔نئے ایڈمنسٹریٹر کا دعویٰ ہے کہ شراب خانے قائم ہوجانے سے سیاحت کافروغ ہوگا لیکن لکش دیپ کی آبادی اس سے متفق نہیں ہے اوراس کی سخت مخالفت کررہی ہے۔ پرفل کھوڑاپٹیل نے جزائر کے اطراف سے گزرنے والے مال بردار بحری جہازوں کو قریبی ریاست کیرالہ کے ’بندرگاہ بے پور‘ کے بجائے منگلور کی جانب کیے جانے کے احکامات بھی صادر کردیے ہیں۔لکش دیپ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کیرالہ میں واقع بے پور بندرگاہ کافی قریب ہے اور ریاست کیرالہ سے مقامی آبادی کے مستحکم ثقافتی اور تہذیبی تعلقات ہیں۔ایسا کرکے لکش دیپ کی تہذیب و ثقافت کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اب تک امن و سکون کا گہوارہ رہے لکش دیپ میںان قانونی مسودوں اور ایڈمنسٹر یٹرپرفل کھوڑا پٹیل کے نت نئے اقدامات نے بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے، لوگوں میں شدید غم و غصہ ہے، تنازعات کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔مقامی آبادی مرکز ی حکومت سے یہ بل واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ’سیولکش دیپ‘کا سیلاب آیاہواہے۔
ایک ایسے وقت میں جب ہندوستان کوروناوائرس کی تباہی جھیل رہاہو، اس طرح کے غیرافادی اقداما ت کو کوئی بھی صحیح الدماغ شخص مناسب نہیں سمجھے گا۔کورونا اور لاک ڈائون کے ایسے ہی ایام میں گزشتہ سال کسانوں کی ’ فلاح و بہبود‘ کے نام پر تین قانون بنائے گئے جن کے خلا ف کسان مظاہر ہ کررہے ہیں اور اب تک 300سے زیادہ کسانوں نے اپنی جان بھی گنوادی ہے۔
بہتر تو یہ ہوتا کہ زرعی قوانین اور اس کے خلاف ہورہے احتجاج کے اس تجربہ کو سامنے رکھتے ہوئے لکش دیپ کے معاملے میں مقامی آباد ی کواعتماد میں لے کر کوئی فیصلہ کیا جاتا لیکن ایسا نہ کرکے ایڈمنسٹریٹر کے ذریعہ مرکز بزور طاقت اقدامات کررہاہے جو کسی بھی حال میں مناسب نہیں ہے اور یہ نراشوق حکمرانی ہی کہاجائے گا جو انسانوں کیلئے ہمیشہ سے سبب آزاربناہوا ہے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here