حزب اختلاف کا ہنگامہ رست وخیز غیر ضروری

0

پارلیمنٹ کے رواں سرمائی اجلاس کا آج چوتھا دن بھی کم و بیش ہنگاموں کی ہی نذر ہوگیا۔بغیر معافی مانگے راجیہ سبھا کے12ارکان کی معطلی ختم کرنے کے مطالبہ پر حزب اختلاف اڑا رہا اور راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیانائیڈو اپنے موقف کو درست ٹھہراتے ہوئے مصر ہیں کہ ایوان میں معافی مانگے بغیر معطلی ختم کرنے پر غور نہیں کیا جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس، این سی پی، آر جے ڈی، ٹی آر ایس، ترنمول کانگریس اور حزب اختلاف کی دوسری جماعتیں ایوان سے واک آئوٹ کرگئیں۔
ان ارکان کی معطلی ایسا نہیں ہے کہ اسی رواں اجلاس میں ہوئی ہو۔ راجیہ سبھا کے ان 12ارکان کو گزشتہ مانسون اجلاس کے دوران ان کی مبینہ بداخلاقی کی وجہ سے معطل کیاگیا تھا جو رواں سرمائی اجلاس کی بقیہ مدت تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہندوستانی پارلیمان میں پہلی بار ارکان کو معطل کیاگیا ہو، اس سے قبل بھی کئی بار ایسا واقعہ پیش آچکا ہے لیکن معاملہ زیادہ طول نہیں کھینچ پاتا تھا، اس کیلئے دونوں جانب معاملہ کو سلجھانے کا مزاج پایاجاتا تھا لیکن این ڈی اے کے اس دور حکومت میں حزب اختلاف اپنی ناکامی کی جھنجلاہٹ ایوان میں نکال رہاہے جس کی وجہ سے معاملہ طول پکڑچکا ہے۔
سرمائی اجلاس کے پہلے دن سے دونوں ایوانوں میں کارروائی اسی طرح متاثر ہورہی ہے اور ملک کا کروڑوں روپیہ برباد ہورہاہے۔ اس کی ذمہ داری جہاں حکمراں جماعت پر عائد ہوتی ہے وہیں حزب اختلاف بھی خود کو اس کی ذمہ داری سے مبراقرار نہیں دے سکتا ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں جہاں حکمراں جماعت کو ایوان میں اپنے احتساب کیلئے رہنا چاہیے وہیں حزب اختلاف کو بھی جمہوریت کے حقیقی جوہر کو برقرار رکھنے اور عوام کی امنگوں و توقعات کے اظہار میں اہم کردار ادا کرناچاہیے لیکن موجودہ پارلیمنٹ میں اب تک ایساکوئی منظر نامہ سامنے نہیں آیا ہے جہاں جمہوریت کا یہ جوہر اپنی تابناکی کے ساتھ جلوہ گر ہوا ہو۔ حکمراں جماعت اپنی عددی برتری کی وجہ سے خود کو ہر طرح کے احتساب سے بالا تر سمجھ رہی ہے وہیں حزب اختلاف پوری طرح سے بکھرا ہوا ہے بلکہ بے ترتیبی اور بدنظمی کا شکار نظر آرہاہے۔ ایسا لگ رہاہے کہ ملک میں شاید ہی کوئی جماعت ہو جس کے پاس ’ حزب اختلاف ‘ کا کردار اداکرنے کا کوئی وژن یا حکمت عملی ہو۔
حزب اختلاف کی اس بے بضاعتی سے نہ صرف پورے پارلیمانی نظام کی افادیت متاثر ہورہی ہے بلکہ پارلیمانی جمہوریت پر خطرات کے بادل بھی منڈلانے لگے ہیں۔ جمہوریت کا اندازہ لگانے والے مختلف اشاریوں میں ہندوستان کی عالمی درجہ بندی مسلسل ا نحطاط کا شکار ہے۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا تمغہ اسی وقت ہندوستان کو زیب دے گا جب ملک میں ’ پارلیمانی اپوزیشن‘ پورے استحکام کے ساتھ روبہ عمل ہو لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ گزشتہ دو میقات سے 16اوررواں17ویں پارلیمان میں اپوزیشن بوجوہ اپنا کردار ادا نہیں کرپارہاہے۔
303کے زعم میں مبتلابھارتیہ جنتاپارٹی اگر اس حقیقت کو بھول جاتی ہے کہ اسے ملک کے صرف37.36فیصد لوگوں نے ہی منتخب کیاہے، 63فیصد لوگ ایسے ہیں جن کی تائید سے حکومت محروم ہے توایسے میں حزب اختلاف کی ذمہ داری حکومت سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہ حزب اختلاف کافرض بن جاتا ہے کہ وہ ان 63فیصد عوام کی آواز ایوان تک پہنچائے لیکن ایسا ہو نہیں رہاہے۔بکھرائوا ور بدنظمی کا شکار اپوزیشن قیادت کے فقدان میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی معاملے میں حکومت کے خلاف اتفاق رائے قائم نہیں ہوپارہا ہے۔انتہائی اہم معاملات اور موضوعات پر بھی ایوان کے اندر اور باہر دونوں جگہ حزب اختلاف میںہم آہنگی قائم نہیں ہوپاتی ہے اور اکثر معاملات میں و ہ خاموش رہ جاتے ہیں حتیٰ کہ حکمراں جماعت کے سنگین مظالم پر بھی خاموشی اور ٹک ٹک دیدم والی کیفیت رہتی ہے۔ حزب اختلاف کایہ کمزور کردار 63فیصد کی بھاری تعداد کیلئے سوہان روح ہے۔
ان حالات میں ملک کو ابھی 12ارکان کی معطلی پر ہنگامہ رست و خیز نہیں بلکہ حزب اختلاف کے ایسے سرگرم کردار کی ضرورت ہے جو جمہوریت کی حفاظت اور پارلیمانی نظام کے عین مطابق ہو۔ہنگامہ کو طول دینے کی بجائے حزب اختلاف کی مختلف جماعتوں کو جمہوریت کی حفاظت کیلئے مطلوب اپنے کردار پر توجہ دینی چاہیے تاکہ ملک کی صورتحال کو بہتر بنایاجاسکے اور63فیصد عوام کی نمائندگی بھی ہوسکے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS