کردار سے دینا ہوگاامت کو رحمت کا ثبوت

0

حافظ محمد ہاشم قادری
مصباحی جمشیدپور

دعا کی بے پناہ اہمیت ہے، قرآن و احادیث میں اس کے احکام واضح طور پر موجود ہیں۔ دعا خدا اور بندے کے درمیان سب سے مضبوط اور نزدیکی تعلق ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ میں دعا مانگنے والوں کی دعا قبول کرتا ہوں،جب وہ مجھے پکارے‘‘(البقرہ- 186)۔ حدیث پاک میں دعا کو عبادت بلکہ عبادت کا مغز قرار دیا گیا ہے(مسند احمد جلد4،صفحہ 271)دوسرے مذاہب میں بھی دعا کی ترغیب دی گئی ہے اور دعا ئیہ الفاظ بھی ان کی مذہبی کتابوں میں موجود ہیں۔لیکن اسلام کے بنیادی عقیدۂ توحید سے ان کا دور دور تک تعلق نہیں ہے۔ اسلام میں عقیدۂ توحید پر قائم رہتے ہوئے اللہ رب العزت سے ہی اپنی بے بسی اور اپنی ضرورتوں کی التجا کا حکم ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے اسی کی تعلیم دی اور خود عمل کرکے دکھایا۔ جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی رحمتؐ فرماتے ہیں ’’ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دے اور تمہارے رزق کو وسیع کردے۔ رات دن اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہوکہ دعا سلاح( ہتھیار) مومن ہے‘‘۔ دعا سبھی مانگتے ہیں ، سب اپنے لئے ، اپنوں کے لئے مانگتے ہیں۔ اللہ کے رسولؐ نے دعا مانگنے کا طریقہ بتایا، فرمایا:(مفہوم) پہلے اپنے نفس کے لئے پھر اپنوں کے لئے پھر دوسروں کے لئے دعا مانگو۔
دنیا میں جتنے جلیل القدر انبیاء کرام گزرے ہیں انہوں نے عقیدۂ توحید کی دعوت دی اور اللہ کے دین کی طرف انسانوں کو بلایا۔ جن قوموں نے اپنے نبی کو جھٹلایا ،ان کو ستایا اور ان کی دعوت کو ٹھکرایا تو ان کے رسولوں نے ان کے لئے بد دعا کی اور اللہ نے بد دعا قبول فرماتے ہوئے ان قوموں کو برباد اور ہلاک کر دیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے جب ان کو جھٹلایا اور ستایا تو حضرت نوح ؑ نے اس طرح بد دعا کی’’ نوح نے کہا اے میرے رب ان کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔ اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا بدکار اور سخت کافر و نا شکرا ہی ہوگا‘‘( نوح26-27:) ۔ اسی طرح حضرت لوطؑ اور حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کی گمراہی اور ڈھٹائی پر بد دعا کی اور وہ قومیں ہلاک ہوئیں۔ حضرت موسیٰؑ نے فرعون اور اس کی قوم کے خلاف جو بددعا کی اس کا بیان کلامِ الٰہی میں اس طرح موجود ہے۔’’ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور مال و دولت سے نوازرکھا ہے۔ اے رب ان کے مال برباد کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں‘‘(یونس- 88)۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعا قبول فرمائی کہ ان کے دلوں میں ایمان قبول کرنے کی گنجائش ہی نہ رہی، جسے مہرلگ جانا کہا جاتاہے۔ معلوم ہوا دل کی سختی بھی بڑا عذاب ہے۔ اس سے اللہ بچائے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ آنکھ سے آنسو نہ بہے ، دل اچھوں کی طرف مائل نہ ہو۔ چنانچہ جیسا حضرت موسیٰ ؑنے دعا فرمائی ایسا ہی ہواکہ فرعونیوں کے درہم و دینار ، پھل اور کھانے کی چیزیں پتھر ہوگئیں اور انہیں ایمان کی توفیق نہ ملی۔ڈوبتے وقت لایا ایمان قبول نہ ہوا۔
نبی رحمتؐ نے دشمنوں کے لئے دعا مانگی، ان کی ہدایت کی دعا مانگی۔ یہ بڑے دل و جگر کاکام ہے۔ زیادہ تر لوگ دشمنوں کے لئے بد دعا ہی کرتے ہیں لیکن قربان جائیے رب کریم کی شان رب العالمین پراللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا تعارف رب العالمین کی حیثیت سے کر ایا ہے۔ سورہ الفاتحہ کی ابتدا اسی سے ہوتی ہے۔ رب العالمین کامطلب ہے سارے جہان کاپالنے والا اور پرورش کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول محمدؐ کا تعارف رحمت اللعالمین سے کرایا۔یعنی سارے جہان کے لئے رحمت۔’’اے نبی ، ہم نے تو تم کو دنیا والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘(انبیائ107-)۔ کفار نے آپؐ کو جھٹلایا، آپ ؐکی مخالفت کی، آپؐ کو انتہائی اذیت دی بلکہ آپؐ کے قتل کا منصوبہ بنایا مگر نبی رحمتؐ نے ان کے لئے بد دعا نہ کی، ہدایت کی دعا کی۔حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ صحابہ ؓنے عرض کیا یا رسول اللہ مشرکوں پر بد دعاکیجئے۔نبی رحمت نے فرمایا میں لعنت کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا ہوں۔ میں تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں(مسلم ، کتاب البروالصلہ والادب، باب النہی عن لعن الدواب)۔
احادیث میں دشمنوں کے لئے دعا مانگنے کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ نبی رحمت ؐ نے لبید بن عاصم یہودی کو جس نے آپؐ پر جادو کیا تھااور خیبر کی اس یہودن کو جس نے زہر آلود بکری کی ران آپؐ کودی تھی،معاف فرما دیا اور دعا سے نوازا(مدارج النبوت ، ج۔اول،ص74) ۔ آج مسلمانوں کایہ شیوہ ہوگیاہے کہ جب اسے کسی سے تکلیف پہنچتی ہے تو کہتا ہے (بلکہ کرتاہے) میں اینٹ کاجواب پتھر سے دوں گا۔ افسوس صد افسوس آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ نبی رحمتؐ کی سنت یہ ہے کہ آپؐ نے پتھر کھائے جواب میں پتھر نہیں برسائے۔بلکہ ان کی ہدایت کی دعا کی اور آپ کی دعا قبول ہوئی۔ دنیا نے دیکھ لیاکہ طائف کی اگلی نسل نے کلمہ پڑھ لیا۔کل طائف کے لوگ رسول اللہ کے دشمن تھے آج طائف کے لوگ کلمہ پڑھ رہے ہیں، آپؐ کی امت میں ہیں۔ یہ کرشمہ تھا آپؐ کی رحمت بھری دعاؤں کا اور آپ کے رحمت اللعالمین ہونے کا۔آپؐ کی زندگی سراپا رحمت تھی۔ زحمت، تشدد ، انتقام جیسی چیزیں آپ ؐکے اندر نہ تھیں۔یہی وجہ تھی کہ دشمن بھی آپؐ کا گرویدہ ہوجاتا تھا اور آپؐ کی رحمت بھری شخصیت سے متاثر ضرور ہوتا تھااور آپؐ کو صادق الامین کے لقب سے پکارتا تھا اور اکثر کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوجاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسولؐ کی اس صفت اور اس کے اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔’’ (اے پیغمبر) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم دل واقع ہوئے ہو ورنہ اگر تم تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے۔ ان کے قصور معاف کردو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو‘‘( آل عمران- 159)۔
جس طرح ہمارے آقاؐ کی پہچان رحمت ہے اسی طرح امت محمدی کی پہچان بھی رحمت ہونی چاہئے۔ مسلمان اپنی فیملی کے لئے،اپنے محلہ اور سماج کے لئے ،اپنے ملک اور تمام انسانوں کے لئے رحمت بننے کی کوشش کریں۔اس وقت ایسے حالات پید اہوگئے ہیں کہ مسلمانوں کو زحمت سمجھا جارہاہے، ان کو ظلم و تشدد سے جوڑا جارہا ہے۔ مسلم نوجوانوں میں صبر وتحمل اور رواداری کا جذبہ کم ہورہا ہے۔ ان کو اپنے رسول کی سیر ت کو Role Modelماننا چاہئے،اپنانا چاہئے۔ ہم مسلمانوں کو اپنا کر دار ادا کرنا ہوگا۔ اپنی شخصیت کو رحمت والی بنانی ہوگی، اپنے کردار سے رحمت کا ثبوت دینا ہوگا اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے رسول کی رحمت بھری سیرت کو اپنانا ہوگا۔ ہم تمام امتیوں کو اپنے آقاؐ کی اتباع کرتے ہوئے حسن و اخلاق اور عفو ودرگزر کو اختیار کرنا چاہئے۔
q qq

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here