مغربی بنگال کے انتخابات اور مسلمان

0

ڈاکٹر محمد طارق ایوبی

ملک اس وقت ایک خطرناک صورت حال سے گزر رہا ہے۔ محسوس کرنے والے کر رہے ہیں کہ ملک تانا شاہی (Dictator Ship) کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس وقت ملک کا ایک بڑا طبقہ احتجاج کر رہا ہے۔ اس احتجاج کی ابتدا سے ہم کہہ رہے ہیں کہ مذہب وبرادری واد سے اوپر اٹھ کر یہ احتجاج صرف کسانوں کا ہے، اس کے اور بھی مشترکہ مفادات ہیں، اس کا یہ لازمی نتیجہ ہوگا کہ اگر یہ کامیاب ہوتا ہے تو بی جے پی کی رعونت، تاناشاہ سوچ اور طاقت میں کمی آئے گی، لیکن اگر وہ اس کو بے نتیجہ ختم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو پھر ہندوستان کی تاریخ میں آئندہ کم از کم جب تک بی جے پی بر سر اقتدار رہے گی کوئی احتجاج نہیں ہوگا۔ آر ایس ایس اپنے ایجنڈوں کو نافذ کرنے کے بہت قریب پہنچ چکی ہے، ہم ہیں کہ ابھی بھی راہیں دیکھ رہے ہیں، اپنے ہی آشیانوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اب تو کسانوں کے قائدین بھی برسرمحفل یہی کہہ رہے ہیں کہ ’’ اگر یہ آندولن یوں ہی ختم ہوگیا تو پھر آئندہ کوئی آندولن نہیں ہوگا، یہ احتجاج صرف زرعی قوانین ختم کرانے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ تاناشاہی کو روکنے اور جمہوریت کو بچانے کے لیے بھی ہے، اس لیے عام لوگوں کو اس کی حمایت کرنا چاہیے اور اسے طاقت پہنچانا چاہیے‘‘۔اسی دوران بنگال کے انتخابات ہونا طے ہیں، پھر مستقبل قریب میں اترپردیش میں بھی انتخابات ہوں گے،بنگال اب تک فرقہ پرستی کی لپیٹ سے بچا تھا، مگر اس وقت وہاں دو قسم کی فرقہ پرستی کے واقعات ہو رہے ہیں، بی جے پی کی کرم فرمائیوںکے نتائج تقریباً روزانہ ظاہر ہورہے ہیں، بنگال کے اقتدار کی خاطر بی جے پی کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔
دانشمندی کی بات یہ ہے کہ اس وقت ملک کو اس صورتِ حال سے نکالنے کی بھرپور کوشش کی جائے، کیوں؟اس لیے کہ اس ملک میں آزادی کے بعد سے اب تک کا جو سفر ہے اس نے مسلمانوں کو بالکل الگ تھلگ کردیا ہے، اگر اس کا بنیادی ڈھانچہ باقی رہتا ہے تو اس کا فائدہ سب کو ہوگا، لیکن کیا یہ واقعہ نہیں کہ اگر اس کا بنیادی اور دستوری ڈھانچہ منہدم ہوتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان ہمیں اٹھانا پڑے گا۔ کیا CAA اور NRC کے ذریعہ اس کا واضح عندیہ نہیں ملا، پھر کیا ہماری طرح کوئی اور اپنے تشخص اور اپنی تہذیب وثقافت کو لے کر حساس ہے یا ہوسکتا ہے۔ پھر یہ بھی بہت صاف بات ہے کہ آزادی کے بعد جو منظر نامہ بنا اور مسلم قیادت نے جس طرح سے خود کو کانگریس میں ضم کرلیا، اس کے نتیجہ میں ’’حصہ داری اور اپنی قیادت ‘‘کا امکان ختم ہوگیا، کانگریسی ذہنیت کے لوگوں نے اس کوشش کو تاریخ کا دفینہ بنادیا، آج نفرت جس حد تک جا پہنچی ہے اس کے نتیجہ میں ’’حصہ داری‘‘ اس معنی میں جس کا جنون سوار ہے محض ایک سراب ہے۔ مسلم نام کے ساتھ سیاسی پارٹی وہ بھی ’’مجلس اتحاد المسلمین‘‘ جس کی شناخت ملک میں خود اس کے بیانات اور کچھ میڈیا کی کرم فرمائی سے فرقہ پرستی کی بن گئی ہو، اس کی قیادت میں حصہ داری کی بات کرنا کون سی دانشمندی ہے۔ ستر سال کی تاریخ میں آپ نے ایک کو سیکولرزم کی سند دی اور ایک کو کمیونلزم کی، گویاآپ نے خود ہی اپنے دوست ودشمن کا تعین واعلان کردیا، جو کہ کسی بھی ملک میں بسنے والی کسی بھی اقلیت کی سب سے بنیادی غلطی ہے، پھر تماشا یہ ہے کہ اب تک جسے آپ پانی پی پی کر دشمن جان وایمان کہتے رہے، اس کے بر سر اقتدار آتے ہی آپ کو ’’حصہ داری‘‘ کا خیال آنے لگا اور یہ خیال اس زور سے ستانے لگا کہ اپنے صوبہ میں غیر مؤثر کردار اور بغیر کسی حصہ داری کو ثابت کیے آپ ملک کے ان صوبوں میں پہنچ گئے جن کا ملکی سیاست میں اہم کردار ہے، جہاں محض مذہب وبرادری کی بنیاد پر ووٹنگ کی جاتی ہے۔ یہ ایک اہم سوال ہے کہ 2014میں بی جے پی کی لہر کے ساتھ ہی آپ کو یہ خیال کیوں ستانے لگا اور مودی جی کا چہیتا میڈیا آپ کو اس قدر کیوں پرموٹ کرنے لگا؟
حصہ داری کا کس قدر امکان ہے، یہ حقیقت ہے یا محض ایک فسانہ، صاف جواب یہ ہے کہ جس جنون کے ساتھ حصہ داری کا نعرہ لگایا جارہا ہے وہ محض سراب ہے، اس کا فائدہ بہت کم بلکہ بالکل نہیں کے برابر ہے، البتہ نقصانات فوری اور شعوری بھی ہیں اور دوررس اور غیر شعوری بھی۔ بہار میں اگر آپ کو اپنی قیادت کے نام پر5سیٹیں مل گئیں تو بھی آپ ودھان سبھا میں کون سا مؤثر کردار ادا کرلیں گے یہ تو کسی بھی جماعت کے مسلم امیدوار کو مل سکتی تھیں، ہاں یہ ضرور ہوا کہ سیمانچل سے پچھڑے طبقہ کا بی جے پی نے نائب وزیراعلیٰ بناکر آئندہ کے لیے سیمانچل کی مسلم سیاست کا گلا گھونٹ دیا۔ سیمانچل میں صرف کشن گنج ایسا ہے جہاں تنہا مسلم اپنے ووٹ سے کسی کو بھی کامیاب کرسکتے ہیں لیکن اس کے علاوہ دیگر سیٹوں پر بہرحال پچھڑے طبقہ کا کچھ ووٹ درکار ہی ہوتا ہے۔ نائب وزیراعلیٰ کا عہدہ ان 5سیٹوں پر ایسا بھاری پڑے گاکہ آئندہ الیکشن میں انھیں بچانا بھی مشکل ہوگا، کیونکہ پچھڑے طبقات سے جو ووٹ مسلم امیدواروں کو ملتے تھے، اس داؤ کے بعد اب وہ بی جے پی کے کھاتے میںجائیں گے۔ یوپی کی سیاست میں تقریباً سو سیٹوں پر مسلم ووٹ مؤثر ہے، مگر زمینی سیاست کے بغیر محض نعروں اور تقریروں کی بنیاد پر اس کا فائدہ بھی نہیں مل سکتا اور پھر دیگر پارٹیاں آسانی سے یہ فائدہ اٹھانے بھی نہیں دیں گی، پھر بھی مان لیجیے کہ اگر آپ بیس پچیس سیٹیں حاصل کرلیں تو ودھان سبھا کی ساری جماعتیں آپ کے خلاف متحد ہوجائیں گی، پھر آپ کیا کریں گے سوائے اس کے کہ احتجاج کرتے رہیں اور مزید طعنے جھیلتے رہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ گجرات کے گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کو سخت مقابلہ کرنا پڑا تھا، بنگال وہ واحد ریاست ہے جہاں بی جے پی کی دال اب تک نہیں گلی بلکہ گودی میڈیا کے مطابق ممتا آخری اور واحد عورت ہے جو بی جے پی کے خلاف کھڑی ہے۔ یوپی کے جاٹوں نے علانیہ کہہ دیا کہ ہم نے بی جے پی کو ووٹ کیا مگر اس نے دھوکہ دیا، اس کی وجہ سے بی جے پی کی سیاسی زمین میں دراڑ پڑی ہے، لیکن عین موقع پر وہ اپنا کامیاب اور استحصالی ’’ہندومسلم کارڈ‘‘ کھیلے گی اور کامیاب ہوجائے گی۔ اس کے لیے آپ کا چہرہ خوفناک بناکر پیش کیا جاتا ہے اور آپ کی زبان بھی ملک کے سیکولر مزاج کے خلاف چلتی ہے، بلکہ بسا اوقات اہم مباحثوں کا رخ غیر ضروری بحثوں کی طرف موڑ دیتی ہے۔ جب ارنب گوسوامی کے چیٹ کا معاملہ گرم ہونا چاہیے تھا تو ہم اور ہمارا میڈیا اعظم گڑھ اور جون پور کی مسلم سیاست میں الجھے ہوئے تھے، بہرحال بالآخر نتیجہ یہ ہوگا کہ سارے ہندو اپنے دکھ درد اور کسانی کھیتی سب بھلاکر آپ کے خلاف ہندو کو نہیں ہندوتو کو ووٹ کریں گے۔ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہندوستان جیسے ملک میں ہم کو ہندو اور ہندوتو میں فرق کرنا ہوگا۔ ہندو کو ساتھ لے کر ہندوتو کو شکست دی جاسکتی ہے مگر ہندوتو کی روش اختیار کرکے صرف اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ بی جے پی کے پاس پولرائزیشن کے بہت سے طریقے ہیں، بالکل بجا ہے، مگر جتنا آسان آپ کے نام پر پولرائز کرنا ہے اتنا کچھ اور نہیں۔ چین وپاکستان کی سچائی سے بڑی حد تک عوام واقف ہوئے ہیں، مذہبی افیم کا نشہ کسان آندولن سے کچھ اترا ہے، مگر ہندو مسلم منافرت کی چربی کسی وقت بھی چڑھ سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مسلمان کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ بلکہ یہ سوال بعض بہت تجربہ کار اور دیدہ ور لوگ بھی کرنے لگتے ہیں۔ پہلی بات یہ سمجھ لیجیے کہ ہم ’’حصہ داری‘‘ کے بالکل خلاف نہیں، لیکن طرزِ عمل میں اختلاف رکھتے ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ اقلیتوں کو کسی کا غلام نہ ہوکر موقع پرست ہونا چاہیے اور اپنی شرطوں کی بنیاد پر مناسب وحسبِ حال فیصلہ لینا چاہیے۔ فی الحال مسلمانوں کی اولین ذمہ داری اور ترجیح یہ ہے کہ وہ طاقت کے ارتکاز سے ملک کو بچائیں۔طاقت کا ارتکاز ملک کوSingle Party Rule کی طرف لے جارہاہے جو کہ جمہوریت کے لیے خطرناک تو ہے ہی البتہ اس کی سب سے زیادہ قیمت ہمیں چکانی پڑ سکتی ہے۔ ہندوستان کے فیڈرل سسٹم سے فائدہ اٹھاکر ہر صوبہ میں اس پارٹی یا اس اتحاد کو کامیاب کریں جو بی جے پی کو شکست دینے کی اہلیت رکھتا ہو، یہ اس وقت کے حالات کا ترجیحی تقاضا ہے۔ مستقبل کے لیے مسلمانوں کو ملک کی سیاست میں اپنی یقینی حصہ داری کے لیے بلا تفریق ایک ایسا سیاسی پریشر گروپ تشکیل دینا چاہیے جس کی باگ ڈور تو ان کے ہاتھ میں ہو لیکن اس پر فرقہ پرستی کا لیبل نہ لگا ہو، اس کا سب سے پہلا تقاضا ہوگا کہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی مؤثر گروپ محض سیاسی نقطۂ نظر سے متحد ہوں اور پھر وہ اپنے منصوبہ اور اپنی شرائط کی بنیاد پر ہر صوبہ کی سب سے بڑی پارٹی کو اپنا تعاون دیں اور اپنی پسند کے امیدواروں کو کامیاب کریں۔ اس وقت بھی مسلم گروپ ان قیادتوں سے ملاقات کریں اور اپنی شرائط رکھیں، جن کو معلوم ہے کہ مسلم ووٹ کے بغیر وہ بر سر اقتدار نہیں آسکتے۔ واقعہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے اب تک ہم نے غیر مشروط حمایت کی ہے، یا بعض شخصیات وگھرانوں نے محض اپنے اثر ورسوخ کی خاطر ملت کو مختلف جماعتوں کے پاس گروی رکھا ہے، لیکن اب واقعی ’’حصہ داری‘‘ کو یقینی بنانے کے لیے مذکورہ بالا پروگرام پر عمل ضروری ہے اور اس کی خاطر یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے مفاد کی خاطر مذہبی جذبات کا استعمال کرنے والے سیاسی و نیم سیاسی لوگوں سے دامن چھڑایاجائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں ایکٹیو سیاسی حصہ داری کے لیے ہماری تنظیموں کو سیاسی شعور کی بیداری پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی، لوکل پالیٹکس میں اپنے تربیت یافتہ امیدواروں کو اتارنا ہوگا۔ علاقائی انتخابات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، وہیں سے زمینی طاقت پروان چڑھتی ہے، اپنی قوم کی ترقی کے لیے بھی علاقائی انتخابات بہت اہم ہوتے ہیں، مگر ہماری توجہ صرف پارلیمنٹ اور ودھان سبھا پر رہتی ہے،جبکہ ملک کی جغرافیائی، مذہبی اور خاص طور پر موجودہ نفرت انگیز صورتِ حال میں ’’علیحدگی پسند سیاست‘‘ اور ’’اپنی قیادت‘‘ کا نعرہ خواب ہے، سراب ہے، فریب ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں، آنے والا وقت ہماری بات کو مزید وضاحت سے سمجھا دے گا۔اس وقت کے ملکی منظر نامہ کو دیکھتے ہوئے ملت کے باشعور طبقہ کی ذمہ داری دوبالا ہوجاتی ہے کہ ایک طرف تو اسے اپنی قوم کو پُر فریب استحصالی نعروں سے بچانا ہے، دوسری طرف اب اس کو بے دام غلام نہ بننے دینے کی ذمہ داری بھی نبھانا ہے۔ جنون سے فائدہ اٹھانا چاہیے مگر جنون اگر حکمت سے خالی اور بے لگام ہو تو سوائے نقصان کے اور کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے، البتہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خوش کن نعرے اور پر فریب لفاظی صرف دشمن کی خصوصیت نہیں ہوتی بلکہ دوست بھی اس کا استعمال بہت خوبصورتی سے کرکے غیروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here