پھر مہنگا ہوا ایندھن

0

پٹرول ڈیزل اور رسوئی گیس کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف پورے ملک میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مقابلہ آرائی ہے اور دونوں ہی 100 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئے ہیں۔اس بیچ رسوئی گیس کی قیمت میں بھی بدھ کی آدھی رات سے 25 روپے فی سلنڈر کا اضافہ کردیاگیا ہے۔رواں مہینہ میں رسوئی گیس کی قیمت میں تین بار کرکے100روپے فی سلنڈر کا اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑھتی مہنگائی کو قابو میں کرنے کے بجائے حکومت کی جانب سے طرح طرح کی دلیلیں دی جارہی ہیں۔ کبھی اس مہنگائی کا ملبہ سابقہ حکومتوں کے سر ڈالا جارہا ہے تو کبھی ان پر لگنے والے محصولات کو قومی مفاد بتاکر جائز ٹھہرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اب ایک اور شوشہ چھوڑا گیا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کو جی ایس ٹی کے دائرہ میں لانے کی ’خصوصی کوشش‘ کررہی ہے اور مارچ کے دوسرے ہفتہ میں جی ایس ٹی کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کرکے اس کی سفارش کی جائے گی۔حکومت کی یہ کوشش بارآور ہونے کیلئے جی ایس ٹی کونسل کی دو تہائی حصہ کی حمایت درکار ہوگی۔ لیکن ایسا لگتا نہیں ہے کہ یہ بیل منڈھے چڑھ پائے گی۔بی جے پی اور مرکزی حکومت کا ہمیشہ ہی یہ دعویٰ رہاہے کہ اگرا ن دونوں ایندھن کو جی ایس ٹی کے دائرہ میں لے آیا جائے تو قیمتیں قابو میں ہوں گی لیکن مختلف ریاستوں کی جانب سے ہونے والی رکاوٹ کے سبب یہ ممکن نہیں ہوپارہا ہے۔ حکومت کی دلیل ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر محصولات کے جاریہ ضوابط کے تحت مرکزایک مقررہ شرح سے محصول عائد کرتا ہے لیکن مختلف ریاستوں میں ویلیو ایڈیڈ ٹیکس یعنی ویٹ کا نرخ الگ الگ ہونے کی وجہ سے ہر ریاست میں ان کی قیمت الگ الگ ہوتی ہے۔ مہاراشٹر میں ایندھن سب سے مہنگا فروخت ہوتا ہے تو جزائر انڈومان و نیکوبار میں ان کی قیمت ملک میں سب سے کم ہوتی ہے۔ اگر انہیں جی ایس ٹی کے دائرہ میں شامل کرلیا جائے تو ملک بھر میں ان کی قیمت یکساں ہوجائے گی۔
یہ ہو سکتا ہے کہ جی ایس ٹی کے سبب قیمتیں ملک بھر میں یکساں ہوجائیں لیکن اس عمل سے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ قیمتوں کو قابو میں رکھاجاسکے گا۔ابھی رسوئی گیس جی ایس ٹی کے دائرہ میں ہے لیکن اس کی قیمت رواں مہینہ میں ہی تین بار بڑھائی جاچکی ہے۔ آج کولکاتہ میں14کلو والا گھریلو استعمال کا ایک سلنڈر 800روپے میں مل رہاہے جس میں 17روپے کی حقیر سی زرتلافی بھی شامل ہے۔
بڑھتی قیمتوں کے اس موجودہ دور میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ مرکزنے اپنے محصولات کی نرخ میں کمی کی ہو۔ بلکہ یہ بار ریاستوں نے ہی اٹھایا ہے اور اپنے ویٹ میں کمی کرکے عوام کو راحت دینے کی کوشش کی ہے۔ ایک ہفتہ قبل مغربی بنگال کی حکومت نے پٹرول پر لگنے والے ریاستی ویٹ میں1روپے فی لیٹر کی کمی کی تھی، اس سے قبل بھی کئی ریاستیں یہ اقدام کرچکی ہیں۔ایسے میں جی ایس ٹی اور ریاستوں کی رکاوٹ کو حیلہ سازی ہی سمجھاجائے گا۔
مغربی بنگال سمیت ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات دہلیز پر پہنچ چکے ہیں۔بڑھتی مہنگائی نے حزب اختلاف کو ایک اور ایشو دے دیا ہے۔ آج ہی مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے پٹرولیم مصنوعات کے خلاف علامتی احتجاج کیا ہے اور اپنے گھر سے سکریٹریٹ تک جانے کیلئے کار کی بجائے الیکٹریکل اسکوٹر کی سواری کی ہے۔ ریاستی وزیرشہری ترقیات فرہادحکیم یہ اسکوٹر چلا رہے تھے اور وزیراعلیٰ ان کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں،دونوں کے گلے میں مہنگائی کے خلاف پوسٹر لٹکے ہوئے تھے۔سکریٹریٹ نوانو پہنچ کر انہوں نے اسکوٹی پر بیٹھے ہوئے ہی میڈیا سے خطاب کیا اور کہا کہ مرکز کی مودی حکومت نے ملک کو بیچ ڈالا ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں ہر روزاضافہ ہورہاہے۔ بی ایس این ایل سے ایئر انڈیا تک سب کچھ فروخت ہورہا ہے۔ اسکوٹی سے ان کا سکریٹریٹ پہنچنا بڑھتی مہنگائی اور نجکاری کے خلاف ان کا علامتی احتجاج ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کے خلاف ممتابنرجی کا یہ منفرد احتجاج اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے یا اسے اسمبلی انتخاب کے پس منظر میں ممتابنرجی کا اٹھایاہوا قدم کہا جائے۔ اس سے قبل بھی جب جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بے لگام ہوئی ہیں حزب اختلاف نے شدید مزاحمت کی ہے۔ آج سے45سال قبل جب آنجہانی اٹل بہاری باجپئی اپوزیشن لیڈر تھے توپٹرول کی بڑھتی قیمت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وہ بیل گاڑی سے پارلیمنٹ پہنچے تھے اور اندرا گاندھی کی حکومت کے خلاف ایک طوفان کھڑا کردیاتھا۔
پٹرول ڈیزل کامسئلہ عوام سے جڑا ہوا ہے، ان کی بے لگام قیمتوں کا براہ راست اثر روز مرہ کے استعمال کی چیزوں پر پڑتا ہے۔ اگرا نہیں یوں ہی چھوڑ دیاگیا تو عوام میں پیدا ہونے والے احتجاج اور اشتعال کو بھی نہیں روکا جاسکتا ہے۔ اس صورتحال سے بچائو کا ایک ہی راستہ ہے کہ کسی قیل و قال اور حیلہ سازی کے بجائے حکومت بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں کرے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here