دشا روی کو ضمانت ملنا آئین کی فتح

0

عبدالحفیظ گاندھی

دہلی کی ایک عدالت نے ٹول کٹ معاملہ میں دشا روی کو ضمانت دے دی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج دھرمیندر رانا نے ضمانت دیتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ ٹول کٹ میں تشدد کو بھڑکانے جیسا کچھ موجود نہیں ہے۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ کسان تحریک میں 26 جنوری 2021کو جو تشدد ہوا اس کو دشاروی کے ذریعہ انٹرنیٹ پر ٹول کٹ شیئر کرنے کے ساتھ دہلی پولیس جوڑرہی تھی۔ اس میں دہلی پولیس کا کہنا تھا کہ دشا نے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر تشدد بھڑکانے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کو بدنام کرنے کی سازش کی ہے۔ جج نے اس سازش کو ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ سازش کو ثابت کرنے کے لیے پختہ ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہاں ایسے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ سرکاری وکیل نے بھی اعتراف کیا کہ ٹول کٹ اور 26جنوری کو ہونے والے تشدد کے درمیان کوئی راست تعلق نہیں ہے۔
کورٹ نے غداری کا الزام جو دشاروی پر دہلی پولیس نے لگایا ہے پر کہا کہ غداری کا الزام ایسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتا ہے جو تشدد کے ذریعہ عوام میں امن کی خرابی کا باعث بن سکتی ہیں۔ ٹول کٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے جس میں تشدد کے لیے اکسایا گیا ہو۔
یہ آرڈر مکمل طور پر1962کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے کیدارناتھ سنگھ بنام اسٹیٹ آف بہار کے مطابق ہے۔ کیدارناتھ سنگھ کے کیس میں سپریم کورٹ نے غداری یعنی سیکشن 124-A، انڈین پینل کوڈ1860 کے دائرہ کو کم کردیا تھا اور کہا تھا کہ غداری صرف انہی معاملات میں عائد کی جاسکتی ہے جن میں تشدد ہوا اور تشدد کے ذریعہ امن و امان کو بھنگ کرنے کی کوشش کی گئی۔ غداری کے معاملات میں تشدد ایک اہم ایشو ہے۔ اگر کسی کی تقریر اور نعروں کے بعدکسی بھی طرح کا تشدد نہیں ہوا تو پھر وہاں غداری نہیں عائد کی جاسکتی۔
ادھر کچھ برسوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ حکومتیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگوں پر غداری کا الزام عائد کرکے جیلوں میں ڈال دیتی ہیں۔ برسوں لوگوں کو ضمانت نہیں ملتی۔
دہلی کی عدالت کے دشاروی ضمانت آرڈر میں ایک بات بہت اچھی کہی گئی ہے کہ کسی بھی جمہوریت میں شہری حکومت کے ضمیر کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔ انہیں محض اس لیے جیل میں نہیں ڈال دیا جائے گا کہ انہوں نے سرکاری اسکیموں کی مخالفت کی ہے۔ مختلف رائے رکھنا لوگوں کا بنیادی حق ہے۔ لوگوں کی جانب سے حکومت پر تنقید اس لیے بھی ضروری ہے کیوں کہ اس سے حکومت کو اپنی پالیسیوں میں خامیوں کا علم ہوتا ہے۔ ان تنقیدوں کو بنیاد بنا کرحکومت اپنی غلطیوں کی اصلاح کرسکتی ہے۔
جج نے یہ بھی کہا کہ زمانہ قدیم سے ہی ہندوستان میں تنقید کرنے کی روایت رہی ہے۔ جمہوریت میں تنقید کا اپنا مقام ہے۔ تنقید کے حق کے بغیر جمہوریت کا تصور کرنا مشکل ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہاٹس ایپ گروپ یا ٹول کٹ بنانا کوئی جرم نہیں۔ آج کے سوشل میڈیا کے دور میں اکثر لوگ اپنی بات زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے ٹول کٹ کا استعمال کرتے ہیں۔
دہلی کی عدالت کا یہ حکم اس معنی میں بہت اہم ہے کہ اس نے آئین میں دیے گئے بولنے کی آزادی کے حق میں مزید اضافہ کیا ہے۔ دہلی پولیس کے الزام کہ دشا روی نے ٹول کٹ کو شیئر کرکے ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے پر کورٹ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اپنی بات global audienceتک پہنچانا آرٹیکل19میں کسی بھی شخص کا بنیادی حق ہے۔ کوئی شخص اپنے حساب سے ملک میں چل رہے ایشوز پر اپنی رائے قائم کرسکتا ہے اور اس کو مختلف رائے رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کا مکمل حق ہے۔ اس آرڈر سے آرٹیکل 19کو بڑھا(expand) دیا ہے۔ اس کے مطابق ہندوستان میں ہی نہیں دنیا کے کسی بھی حصہ تک اپنی بات پہنچانے کا حق ہندوستان کے لوگوں کو ہے۔
دہلی پولیس نے اس الزام کہ دشا نے ملک کو توڑنے کی سوچ رکھنے والی تنظیم اور لوگوں سے زوم پر بات کی تو اس پر کورٹ نے کہا کہ کیا اس تنظیم پر ہندوستان میں پابندی عائد ہے؟ سرکاری وکیل نے کہا نہیں۔ کورٹ نے پھر پوچھا کیا اس تنظیم اور لوگوں پر کوئی کیس درج ہے؟ سرکاری وکیل نے کہا نہیں۔ اس پر عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ایسے لوگوں سے جن کی ساکھ ٹھیک نہیں ہے، صرف ان سے تعلق رکھنا اور بات کرنا کسی کو مجرم کی فہرست میں نہیں لے آتا ہے۔
یہ بات بالکل درست ہے کہ جب آپ معاشرے میں رہتے ہیں تو آپ کے ہر قسم کے لوگوں سے تعلقات ہوسکتے ہیں بشرطیکہ آپ غلط کاموں میں ملوث نہ ہوں۔ برے لوگوں سے جان پہچان کسی کو برا نہیں بنا دیتی۔
دشا روی کے معاملہ میں میڈیا کا رول بھی بہت مایوس کن رہا۔ اس کی گرفتاری کے پہلے دن سے ہی میڈیا کے ایک حصہ کے ذریعہ دشا روی کو بدنام کرنے کا کھیل شروع ہوچکا تھا۔ بغیر ثبوتوں کے گمراہ کن سرخیوں کے ساتھ دشا کو ہندوستان کو بدنام کرنے کی بین الاقوامی سازش کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ خالصتان موومنٹ سے بھی دشا کو جوڑا گیا۔ عدالت کے ضمانتی آرڈر سے یہ واضح ہوگیا کہ میڈیا بغیر کسی ثبوتوں کی بنیاد پر دشا روی کو بدنام کررہی تھی۔ ہندوستان میں میڈیا ٹرائل پر بھی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ ہر معاملہ میں میڈیا جج اور تفتیشی ایجنسی بن جاتا ہے اور اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے۔ میڈیا کو اپنی بات کہنے کا حق ہے لیکن ہر بات ثبوتوں کی بنیاد پر کہی جانی چاہیے۔
دشا روی کی گرفتاری کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ دشا کو پولیس مزید سنگین الزامات میں پھنسا سکتی ہے۔ لیکن عدالت کے آرڈر نے بہت سی چیزیں صاف کردی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ دہلی پولیس کے پاس دشا روی معاملہ میں scantyاورsketchyثبوت ہیں۔ اس لیے عدالت نے دشا کو ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔
شروع سے ہی اس معاملہ میں دہلی پولیس کچھ قانونی پہلوؤں کو نظرانداز کرتی آئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دہلی پولیس کچھ جلدبازی میں تھی۔ بنگلورو سے دشا روی کو دہلی لاتے وقت ٹرانزٹ ریمانڈ نہیں لی گئی۔ بنگلورو کی عدالت سے دہلی پولیس کو ٹرانزٹ ریمانڈ لینی چاہیے تھی۔ اس مسئلہ پر دہلی ہائی کورٹ کا 2019کا ایک فیصلہ بھی ہے جس میں کورٹ نے کہا ہے کہ کسی ملزم کو پولیس کے ذریعہ ایک ریاست سے دوسری ریاست لے جاتے وقت ٹرانزٹ ریمانڈ لینا ضروری ہوتا ہے۔
دہلی میں دشا روی کو عدالت میں پیش کرتے وقت بھی اس کی مرضی کا وکیل مہیا نہیں کرایا گیا تھا۔ یہ بھی دشا کے آئینی حق کی خلاف ورزی تھی۔ اس کو اپنی پسند کا وکیل رکھنے کا حق تھا، جسے دہلی کی عدالت میں پیش کرتے وقت درکنار کیا گیا۔
ایسا لگتا ہے کہ پولیس اپنے سیاسی بوسز کو خوش کرنے کے لیے بغیر ثبوتوں کے لوگوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ لوگ حکومت کے خلاف نہ بولیں اس لیے انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے۔ جھوٹے مقدمات کو لڑتے ہوئے لوگوں کی عمر نکل جاتی ہے۔ اس میں پولیس کا کچھ نہیں جاتا، صرف لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت سنگین مسئلہ ہے۔ قانون کا بے جا استعمال لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ بے جا استعمال کو روکنے کے لیے عدالتوں کا ایک اہم رول ہے۔ دشا روی معاملہ میں ایک اچھا آرڈر آیا ہے۔ امید ہے کہ اینٹی سی اے اے معاملات میں جو لوگ غلط پھنسائے گئے ہیں عدالتیں ان کو بھی جلد انصاف دیں گی اور وہ لوگ بھی جلد ہی ضمانت پر باہر آئیں گے۔ ضمانت کے مسئلہ پر قانون واضح ہے ’’bail is the rule and jail is the exception.‘‘(ضمانت قاعدہ ہے اور جیل بھی اس سے مستثنیٰ ہے۔)
کیس اتنے لمبے چلتے ہیں کہ عدالت کا عمل ہی لوگوں کے لیے سزا جیسا ہوجاتا ہے۔ اس لیے لوگوں کو ضمانت پر رہا کرکے کیس چلانا چاہیے۔ ایسا اس لیے کیوں کہ مان لیجیے کہ کسی کیس میں نمٹارے کے بعد کوئی بے قصور ثابت ہوتا ہے تو پھر جیل میں گزارے گئے وقت کو کیا کوئی عدالت یا کوئی قانون واپس کرسکتا ہے؟ نہیں کرسکتا۔ اس لیے ضمانت لوگوں کا حق ہونا چاہیے۔ عدالتیں اس حق کو لوگوں کو دلانے میں مدد کریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ آئین کی مضبوطی کی طرف ایک ٹھوس قدم ثابت ہوگا۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here