جشن و لادت مولائے کا ئنات

0

محمد عابد حسین نظامی
کامل الفقہ جامعہ نظامیہ
ایم اے اسلامیات مانو و
ناظم تحریک فیضانِ انواراللہ

اللہ رب العزت کا بے پناہ شکر احسان عظیم ہے کہ ہمیں اپنے رحم وکرم سے اس دنیا میں پیدا فرماکراشرف المخلوقات کے درجہ سے سرفرازفرمایا،نبی معظمؐ کی امت بابرکت میں ثا بت قدم رہنے کااعزاز بخشااورنبی پاکؐکے جانثاروں یعنی اپنے انعام یافتگان برگزیدہ بندوں کاذکرخیرکرنے کی توفیق عطافرمائی۔معززقارئین محترم یہ مہنہ رجب المرجب کا ہے جس کی ۱۳۔تا ریخ کو خلیفہ چہارم ،نبی پا ک ؐ کے چچازاد بھائی، دامادرسول حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولا دت ہوئی۔
آپ کا اسم مبارک علی،کنیت ابو الحسن اور ابو تراب،القاب مرتضیٰ،حیدر،اسد اللہ،کرم اللہ وجہ الکریم۔آپ کا سلسلہ نسب علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہا شم بن عبد مناف ہے۔آپ کی والدہ ما جدہ کا نام فاطمہ بنت اسد بن ہاشم عبد مناف ہے۔
جاہ ولادت:۔ حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی ولا دت کے لئے اللہ رب العا لمین نے اپنے گھر خانہ کعبہ کا انتخاب فرمایا جب حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی ولا دت ہو ئی تو تمام افراد خاندان نے دیکھا کہ آپ نے آنکھ کھول کر کسی کو نہیں دیکھا،اورنہ ہی اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ نوش فر مایاتوسب نے کہاکہ کیا یہ معذورہے؟ جو آنکھ کھول کر کسی کو نہیں دیکھتا جب کہ ہر بچہ پیدا ہو نے کے بعدکسی کودیکھے یا نہ دیکھے اپنی ماں کو ضرور دیکھتاہے اورآپ کی والدہ ماجدہ بھی صبر کر رہی ہیں اور انتظار میں ہیں کہ میرے نورنظر کی آنکھ کب کھو لے گی۔
آغوشِ نبی کریم ؐ کی عظمت:۔ جب یہ بات نبی پاک ؐ کو معلوم ہو ئی کہ چچا ابو طا لب کو لڑکا ہوا مگر وہ آنکھ کھول کراپنی ماں کو بھی نہیں دیکھ رہے ہیں اورنہ ہی دودھ نوش فرمارہے ہیں تو نبی مکرم نور مجسم ؐ تشریف لائے چچی جان کی گود سے آپنی آغوشِ نبوت میں جب لیا ،اوراپنی انگشت شہادت کے ذریعہ اپنا لعاب دہن اُس نو مولو د شیر خدا کے منہ میں رکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ حیدر کرار نبی معظم ؐ کے انگشت مبارکہ کو نہ صرف چوم کر چھوڑا بلکہ چوستے جا رہے ہیں،پھر کچھ دیر بعد حضرت علی نے اپنی آنکھ کھو لی تو صرف ظاہری آنکھ ہی نہیں بلکہ ما تھے کی آنکھو ں سے نبی پاک ؐ کے رخِ زیبا کی زیارت فر مائی،نبی پاک ؐ نے اپنے چچا زاد بھا ئی کو بو سہ دیا، تب سارے افرادخاندان خوشی ومسرت میں مچلنے لگے۔تو معلو م ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی آنکھ اِ س لئے بند تھی۔
مناقب علیؓ:۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان کو ن بیان کر سکتا ہے؟اِس لئے کہ اللہ پاک نے آپ کو وہ اعلیٰ مقام عطافرمایاہے جس کی تعریف کے لئے ہماری زندگیاں ختم ہو جائینگی لیکن علی کے ایک لفظ کی مدحت بھی ختم نہیں ہو تی کہ قیامت کا وہ سورج طلوع ہو جائیگا۔بس تبرکاً نجات کا ذریعہ بنا نے کے لئے آپ کا ذکر خیر ہم کر لیتے ہیں جس طر ح حضرت شیخ الاسلام با نی جا معہ نظا میہ علیہ الر حمہ نے فر مایا
ٹھیرا کفارہ گناہوں کا جو ذکر اؤلیا
ازقسم عبادت ہے جو ذکر انبیاء
یعنی اللہ والوں کا ذکر کرناگویا گناہوں کاکفارہ ہے اور انبیاء علیھم السلام کا ذکر کرنا گویاعبادت ہے۔ہم زندگی بھر بھی آپ کی تعریف بیان کرتے رہیں تو آپ کی شان میں کوئی زیادتی ہونے والی نہیںہے اور نہ کریں تو کمی بھی ہو نے والی نہیں ہے کیونکہ وہ اللہ رب العا لمین کے محبوب ہیں اورتاجدارولایت ہیں یہ سب کا سب نبی مکرم ؐ کے لعاب دہن کی بر کت کانتیجہ ہے۔
منبر رسول وتعظیم علیؓ:۔معزز قارئین محترم جیسا کہ آج کے اِس پر فتن دور میں دیکھنے کو مل رہا ہے کہ نبی کے بعد سب سے افضل حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔تو آئیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بارگاہ ولایت میں کہ آپ نبی مکرم ؐ کے چچا زاد بھا ئی ہیں ، داماد رسول ہیں ،چادر تطہیر میں نبی پاک نے آپ کو داخل فرمایا، نبی پاک ؐ کی چہتی صا حب زادی شہزادی اسلام خاتون جنت کے شوہر نا مدار بنا ئے گئے، نوجوانانِ جنت کے والد،اِسی طرح مہاجر اور انصار صحابہ کے درمیان نبی پاک ؐ ایک دو سرے کو جو ڑی بنا رہے تھے تو علیؓ تنہا بچ گئے تو علیؓ نے نبی پاک ؐ سے دریافت فر ما یا کہ یا رسو ل اللہ ؐ مجھے تنہا چھو ڑ دیا آپ نے، تو نبی مکرم ؐ نے ارشاد فر ما یا کہ ائے کیا تم یہ پسند نہیں کرو گے کہ تم میرے سا تھ ہو۔یہ تما م فضا ئل حا صل کر نے کے بعد بھی حضرت علی شیر خدا نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں دنیا میں بھی نبی کا بھا ئی ہوں اور آخرت کے دن بھی نبی کے ساتھ رہو ں گا تو لہذا اب میں جو چا ہوں کروں اور مجھ سے زیادہ قا بل تعظیم کو ئی نہیں ۔ ایسے کسی لفظ کا آپ نے استعمال نہیں فر ما یا بلکہ بر جستہ کہتے کہ نبی کے بعد ابو بکرؓ پھر عمرؓ پھر عثمانؓ اس کے بعد خلافت مجھ پر ختم ہو جا ئے گی۔تو قا رئین محترم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب منبر رسول پر اپنے قدم ولا یت کو رکھا تو منبر کی تیسری سیڑھی پر نہیں چڑھے بلکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اتباع میں قدم مصطفی کو اپنے بیٹھنے کی جگہ بنا لی۔تو صاف ظا ہر ہو تا ہے کہ چاہے زمانہ کبھی بھی کچھ کہہ لے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ تعظیم کر کے بتا دیا اور دنیا کو درس دے دیا۔
ذاتِ علی و محبت خدا ورسول:۔ایک مرتبہ حضرت علی شیر خدا حیدر کراررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقا بلہ ایک یہو دی پہلوان سے ہوا معزز قا رئین محترم اِن واقعات کو ذہین نشین کرلیں اوراپنی زندگی کا محاسبہ بھی کریں ،اسلاف کے احسانات کوفراموش نہ کریں۔جب میدان میں یہودی پہلوان آیا تو ادھر حضرت علی تیار کھڑے ہیں تو سبہوں نے کہا کہ یہ پہلوان بہت طاقتورہے علی اس پہلوان کے مقابلہ میں کیسے جیت حاصل کرینگے؟لیکن علی کی نگاہ مصطفی جانِ رحمت پر ہے اور دل اللہ رب العا لمین کی بارگاہ میں ہے اِدھر یہودی پہلوان تیار کھڑا ہے تو علیؓ اگے بڑھے اُس یہودی پہلوان جس نے ساری دنیا میں اپنی طاقت کا ڈنکا بجا چکا تھا لیکن علیؓ نے ایک ہی جھٹکہ میں اُس طاقتور پہلوان کوپچھاڑدیااوراُس کے سینہ پر بیٹھ گئے۔ہمیشہ دشمنان اسلام کی یہی حرکتیں ہو تی کہ وہ ذات پر حملہ کرتے تو اِسی طرح یہودی پہلوان جوزمین پر چیت لیٹا ہواہے اور علیؓ اُس کے سینہ پر بیٹھ چکے ہیں تو اُس دشمن نے حضرت علیؓ کے چہرے مبارک پر تھوک دیا ۔معزز قارئین اگر اُس جگہ ہم ہو تے تو کیا کرتے اُس کو قتل کر تے کیو نکہ موقعہ اچھا تھا اور ہما رے ساتھ والے بھی اپنے اپنے ہا تھ صاف کر لیتے لیکن قربان جائیںحضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی شجاعت وبہادری پر کہ آپ نے فوراً اُس کے سینہ سے اتر گئے اور اُس کو آزاد کر دیا، تو اب وہ یہودی اٹھ کر کہنے لگا کہ ائے علی میں نے جب آپ کے منہ پر تھوکا تو یہ سو نچ رہا تھا کہ آپ مجھے قتل کر دینگے مگر آپ نے تو مجھے چھوڑ دیا ،میرے سینہ سے بھی اتر گئے،چا ہتے تو آپ مجھ سے بدلہ لے سکتے تھے۔تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ارشاد فرمایاکہ میں رحمت والے نبی کا سچا عاشق ہوں دشمنوں کو معاف کرنا یہ میرے نبی کا وطرہ رہا ہے،پھر اُس دشمن نے کہا کہ جب میں آپ کے چہرے پر تھوکاتوآپ کوغصہ نہیں آیا؟تو مصطفی جانِ رحمت کی تربیت نے بے ساختہ فر مایا کہ ائے نادان جس وقت تیرااور میرا مقا بلہ شروع ہوا اُس وقت سے لیکر تجھ کو زمین پر لٹاکرتیرے سینہ پر بیٹھنے تک خدا اور رسول کی محبت غالب تھی اِس وجہ سے میں مقا بلہ کرتا رہا۔ لیکن تو نے میرے چہرہ پر تھوکا تو اِس لئے تجھکو چھوڑ دیا کہ اگر میں اب تجھ سے مقابلہ کرتا تویہاں میرا نفس شا مل ہوجاتا۔اللہ اکبر دیکھا آپ نے کہ علی شیر خدا نے ہمیں کیسی تعلیم دی ہے۔اور یہ بتا دیا کہ نفس امارہ کو مار کرخدا و رسول کی رضا کے لئے ثا بت قدم رہیں۔تو ہمیں چاہیے کہ ہمارے اسلاف ہمارے اکابر کے اِن صفات عا لیہ کو عملی جا مہ پہنا نے کی ضرورت ہے ۔نا کہ ا پنے آپ کو بہادر ثابت کر نا ہے ،کیو نکہ جو بندہ مومن خدا ورسول کی رضا وخو شنودی کے لئے عمل صالح کرتا ہے تو خدا اپنے فرشتوں کے ذریعہ ساری کا ئنا ت میں اُن نیک بندوں کا چرچہ کرواتاہے۔
نماز کی کیفیت:۔آج ہم کیا کر تے ہیں نمازوں کی توپابندی نہیں کر تے، بلکہ اگر پڑھنے کا مو قع مل جا تا تو اُس وقت بھی کو ئی نہ کو ئی بہانہ تلاش کر تے، نماز ادا بھی کرتے ہیں تو ایسے جلدی جلدی پڑھتے ہیں کہ کو ئی ہمارے سر پر سوار ہے ،اگر باجماعت نماز اداکرتے ہیں تو یہ عا لم ہوتاہے کہ امام کے سلام پھیرنے اور دعا مکمل ہو نے سے پہلے ہی بھاگنے کی کوشش میں رہتے ہیں،اُس وقت بھی ہمارے دل ایک طرف دماغ ایک طرف ہوتے ہیں۔لیکن حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی نماز کا عا لم دیکھئے کہ آپ کے قدم مبارک میں کا نٹا چھب کر پیو ست ہو گیاجب اُس کا نٹے کو نکالتے تو تکلیف ہو تی لیکن جب آپؓ نماز ادا کررہے ہیں حالت سجدہ میں آپ کے قدم مبارک سے وہ کانٹانکالاگیاعلیؓکوخبر بھی نہ ہوئی نماز سے فارغ ہو نے کے بعد لو گوں نے کہا کہ ائے علیؓ ہم نے وہ کانٹا نکال دیاہے تو حضرت علیؓ نے فرمایاکہ جب میں عبادت الٰہی میں مصروف رہتا ہوں تو مجھے کسی چیز کی خبر نہیں رہتی بلکہ میں اپنے آپ کو بھی بھو ل جاتاہوں،تو لو گوں نے بتایاکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قدم مبا رک سے کا نٹا نکالا گیا تو خون بھی نہیں نکلا۔
حضرت علیؓ کا عمل:۔اُس وقت بھی لوگ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کو بیان کر تے ہو ئے دیگر اصحاب رسو ل ؐ پر طعن کر تے تھے حضرت علی کو جب پتہ چلا کہ یہ میری محبت کے گن گا نے کے بہا نے دیگر صحا بہ کرام کی شان میں کمی اور گستاخیاں کر رہے ہیں تو حضرت علیؓ نے فرمایاکہ ابوبکرؓ اورعمرؓ پر مجھے فضیلت دیتے ہو اگر اُس کو میں پالوں تو اسے بہتا ن تراشی کی سزادوںگا۔یہ بھی فرمایا کہ جو مومن ہے وہ مجھ سے محبت کر یگا،مجھ سے دشمنی کر نے والا منافق ہے ۔
حضرت شیخ الاسلام شہزادئہ فاروق اعظم عارف باللہ امام محمد انوار اللہ فاروقی انورؔ با نی جا معہ نظا میہ علیہ الر حمۃ والرضوان اپنی معرکۃ الارء تصنیف لطیف ’’مقاصد الاسلام‘‘جلد ششم میں رقمطراز ہیں کہ حضرت سید ناعلی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کو گا لی دیتے اور کا فر کہتے مگر آپ فر ما تے ہیں کہ تم اس کو غضب میں نہ آؤ ہمارے دین کا کام اسی وقت مستحکم ہو تا ہے جب لوگ ہمارے اول والوں کو گا لی دیتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں۔اہل سنت والجماعت نے جو طریقہ اختیار کیا ہے کہ کسی پر لعنت نہیں کر تے اس باب میں وہ علی کرم اللہ وجہہ کے پیرو ہیں۔(یعنی حضرت علیؓ کے نقش قدم پر چلتے ہیں)لعنت کر نے کا طریقہ مروا نیوں کا تھا جو مجلسوں میں بلکہ منبرو ں پر لعنت کیا کر تے تھے۔
یہ چند الفا ظ جو آپ کی ذات میں پنہاں ہیں۔
ع:۔عالم اسلام کے علمبردار علیؓ ہیں۔
ل:۔لا مثا ل لہ لا نذیرا لہ علیؓ ہیں۔
ی:۔یقینا تما م سلسلوں کے بانی علیؓ ہیں۔

 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here