مدارس کا نصاب اور وقت کی ضرورت

0

محمد حنیف خان

تغیر ،تبدل اور نموپذیری کسی بھی معاشرے کی ترقی کی علامت تصور کی جاتی ہے،جو معاشرہ اس سے دور ہوتا ہے اس کا حال غیر خوش کن اور مستقبل تاریک ہوتا ہے۔ اس بات سے صرف نظر کیا ہی نہیں جاسکتا کہ کوئی بھی معاشرہ/ قوم/ فرد اس تبدیلی کے بغیر مقام و مرتبہ تو دور عزت کی زندگی بھی گزار سکتا ہے۔زندہ قومیں تو اس معاملے میں اس بات کی بھی پرواہ نہیں کرتی ہیں کہنے والے کیا کہیں گے ،جس کا ثمرہ جلد ان کے سامنے آجاتا ہے۔اس کا فرد کی سطح پر جائزہ لینا ہو ہر شخص پاس پڑوس میں دیکھ سکتا ہے،ہر محلہ اور گاؤں میں کوئی نہ کوئی ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ جمعیت کے مزاج کے بجائے تنہا اپنی دنیا آپ پیدا کر رہا ہے اور اسی میں مگن ہے۔ابتدا میں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ غلط ہے مگر اکثر و بیشتر ایسا نہیں ہوتا ہے۔قوم کی سطح پر اس کی سب سے بہترین دو مثالیں ہیں۔دنیا میں یہودیوں کی کیا اہمیت تھی؟ایک صدی قبل اگر ان کا جائزہ لیا جائے تو وہ منتشر تھے، متعدد ملکوں میں دربدری کی زندگی گزار رہے تھے۔قوم کا کوئی تصور ہی نہیں تھا(اس کے برعکس کہ انہوں نے فلسطینیوں پر مظالم کیے،ان کی علمی اور ایجادی صلاحیت پر نظر ڈالیں)لیکن آج وہ ایک طاقت ور ملک اور قوم ہیں، جن کو دنیا کی کوئی طاقت نظرانداز نہیں کرسکتی ہے۔ملکی سطح پر اس کی بہترین مثال برادران وطن ہیں۔1857کے بعد جب یہ طے ہوگیا کہ انگریز یہاں سے جانے والے نہیں ہیں بلکہ اب وہی اس ملک کے مقدر کا فیصلہ کریں گے تو برادران وطن دیگر معاملات سے صرف نظر کرتے ہوئے انگریزی تعلیم کی طرف مائل ہوگئے۔اس وقت اس کو برا تصور کیا گیا کیونکہ بات جڑوں سے کٹنے کی تھی مگر آزادی کے بعد ملک کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں چلی گئی۔وہ انگریزی نظام کے خاتمہ سے قبل ہی اس نظام کا حصہ بن گئے تھے مگر دوسری طرف مسلمان ایک الگ نظریے کے تحت ان سے بالکل دور رہے ،یہاں تک کہ انگریزی تعلیم کو بھی شجر ممنوعہ تصور کرتے رہے۔ڈیڑھ صدی گزرنے کے بعد اب ان کو احساس ہو رہا ہے کہ اس وقت غلطی ہوئی تھی۔اس تناظر میں اگر محسن ملت سرسید احمد خاں کے نظریہ کو دیکھا جائے اور ان کے موقف کا جائزہ لیا جائے تو وہ احسن نظر آتا ہے۔آج مسلمان جس تعلیم کے خواہاں نظر آتے ہیں اور جس کی ان کو ضرورت محسوس ہوتی ہے سر سید احمد خاں اسی کی طرف بلا رہے تھے اور دعوت دے رہے تھے۔اس مقصد کے لیے انہوں نے نہ صرف ملک کے دوردراز علاقوں کی خاک چھانی بلکہ طرح طرح کے الزامات بھی سہے مگر وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج جدید نظام حکومت میں کسی حد تک مسلمانوں کی حصہ داری نظر آتی ہے اگر چہ وہ 4فیصد سے بھی کم ہے۔اگر سر سید کی مساعئی جمیلہ نہ ہوتیں تو یہ چار فیصد لوگ بھی نظام کا حصہ نہ ہوتے۔
جمعیۃ علماء ہند ملک کی ایک ایسی تنظیم ہے جو قدیم بھی ہے اور منظم بھی،جو اس بات کی بھی مدعی ہے کہ وہ مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے،اس میں کوئی شک نہیں کی علماء کی ایک بڑی جماعت اس سے وابستہ ہے اور لوگ اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جب بھی ملک و ملت کو اس کی ضرورت پڑی تو اس نے کھلے دل اور کھلے ہاتھ سے تعاون بھی کیا۔بے قصور مسلم نوجوانوں کی جیل سے رہائی میں بھی اس تنظیم کا نمایاں کردار رہا ہے۔جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مسلمانوں سے ایک اپیل کی جس میں انہوں نے صاف طور پر کہا کہ مسلمانوں کو تعلیم کی ضرورت ہے ،خالی پیٹ رہ کر بھی وہ اپنے بچوں کو تعلیم دیں۔ان کا یہ مشورہ نہایت صائب اور حسب حال ہے۔تعلیم کامیابی کی شاہ کلید ہے ،اس میں کوئی شک نہیں ہے۔مولانا ارشد مدنی  نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ چونکہ وہ علماء کی جماعت میں روشن خیال بھی تصور کیے جاتے ہیں اور ان کی شخصیت بھی ایسی ہے کہ اگر وہ چاہیں تعلیم کے میدان میں انقلاب لا سکتے ہیں۔اس لیے ان کو ایک اساسی کام کرنا چاہیے جو مدارس کے نصاب اور نظام سے متعلق ہے۔
ہندوستان میں مدارس کا جال ہے جس کے توسط سے مسلمانوں میں علم کی روشنی پھیلتی ہے، مدارس کی ایک کثیر تعداد ہے جہاں دارالعلوم دیوبند کے نصاب کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے،جس کو درس نظامی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ نظام الدین محمد سہالوی بارہ بنکوی(پیدائش 27مارچ 1677 وفات:8مئی 1748) ’’ملا نظام الدین ‘‘ کے نام سے معروف ہیں جو علوم عقلیہ کے ماہر فقیہ اور اصولی تھے۔ یہ نصاب ان کا ترتیب دیا ہوا ہے۔اس نصاب پر ڈھائی سو برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔اب تک اس نظام میں جو تبدیلی ہوئی اس کی حیثیت علامتی سے زیادہ نہیں ہے۔ آج بھی اس کی بنیاد اسی نصاب پرہے جسے ملا نظام الدین نے ترتیب دیا تھا۔یہ نصاب اس وقت کی ضرورتوں اور تقاضوں کو پورا کرتا تھامگر 1857کے بعد جب حالات نے کروٹ لی تو سر سید احمد خان نے علی گڑھ میں 1875میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھی جو 1920میں مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ایک چھتنار درخت بن گیا جس کے سایہ اور پھل سے آج بھی پوری قوم اور ملک مستفید ہو رہا ہے۔لیکن چونکہ علماء کی اکثریت اس وقت سر سید کے خلاف تھی اور ان کے نصاب سے نالاں تھی کیونکہ وہ نصاب درس نظامی کے بجائے وقت کے تقاضوں اور مستقبل کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا تھاجس سے انگریزی نظام کا حصہ بننے کی بو آ رہی تھی،اس لیے بالغ نظر علماء کی تنظیم ندوۃ العلماء نے 1898 میںلکھنؤ میں دارالعلوم کی بنیاد ڈالی اور ایک ایسا نصاب ترتیب دیاجو دین و دنیا دونوں کی ضرورتوں کو پورا کر رہا تھا جس کو تحسین کی نظر سے دیکھا گیا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء کا نصاب سب سے ماڈرن نصاب تھا۔نصاب تیار کرنے والی کمیٹی سر خیل حضرت مولانا محمد علی مونگیری ؒ تھے،جن کی بالغ نظر نے قدیم و جدید دونوں کو متوازن رکھا۔
آج ہندوستان جن خطوط پر پہنچ گیا اور بہت تیزی سے بھاگ رہا ہے،اس کی ضرورتیں اب ان نصابات سے پوری ہونے والی نہیں ہیں۔ مدارس کے نصاب سے رسمی علماء تو پیدا ہو سکتے ہیں لیکن وقت کی ضرورتوں کو پورا کرنے والے علماء نہیں پیدا ہوسکتے ہیں۔مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے قرآنی آیت ہے:مفہوم: ’’تم سب سے بہترین امت ہو جو امت کی بھلائی کے لیے بھیجی گئی ہو‘‘اس طرح کی متعدد آیات ہیں جو قیادت و سیادت کا نہ صرف جذبہ پیدا کرتی ہیں بلکہ امت مسلمہ کا مقام بھی یاد دلاتی ہیں،اس نصاب کے ذریعہ اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے۔محض دین کی معلومات اصل نہیں ہے،اس کے ساتھ ساتھ دنیاوی معلومات اور معاملات سے ہی انسانی زندگی خوشگوار ہوسکتی ہے اور انسان کا وجود مستحکم ہو سکتا ہے۔بغیر کسی تقدس کے اگر غیرجانبداری سے جائزہ لیا جائے تو مدارس میں جاری نصاب سے تیار ہونے والے افراد کی اکثریت دنیاوی ضرورتوں کے لیے دوسروں کے سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔ آئین ہند سے ملے حقوق کی واقفیت بڑی بات ہے اگر سب سے چھوٹے سرکاری ادارے تھانے میں جانے کی ضرورت پڑ جائے تو ہمت جواب دے جا تی ہے۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ محض دین کو بنیاد بنا کر افراد سازی نہ کی جائے بلکہ ایسا نصاب تیار کیا جائے جو انسانی زندگی کی دیگر ضرورتوں کو بھی پورا کرنے والا انسان بنائے۔
جب تک بحیثیت قوم موجودہ نظام میں داخل نہیں ہوں گی اس وقت تک مسلمانوں کے حالات نہیں بدل سکتے ہیں، اس کا سب سے بہترین ذریعہ تعلیم ہے۔ چونکہ عصری اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے افراد کی اکثریت دین سے اور اس کی روح سے ناواقف ہوتی ہے اور مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے افراد عصری علوم سے نابلد ہوتے ہیں، ایسے میں مدارس ایک ایسا نظام اور نصاب بنا کر ان دونوں ضرورتوں کو پورا کرسکتے ہیں۔محض انگریزی کے چند اسباق نصاب میں شامل کرنے سے اب کام چلنے والا نہیں ہے۔ مناسب یہ ہے کہ ایسا نصاب تیار ہو جو انٹرمیڈیٹ کے مساوی ہواور حکومت سے منظور شدہ ہو،فارغ ہونے والے طلبا اس کی بنیاد پر گریجویشن میں داخلہ لے سکیں۔ متعدد مدارس کی ڈگریوں کی بنیاد پردانش گاہوںمیں داخلہ تو اب بھی مل رہا ہے مگر نظام میں داخل ہونے کے لیے راستے بند ہوتے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ حکومت کا اس ڈگری کو تسلیم نہ کرنا ہے۔مولانا ارشد مدنی اس سمت میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں،اگر نصاب کی تبدیلی اور سرٹیفکیٹ کی منظوری کے ساتھ ان مدارس میں تعلیم ہوتی ہے تو محض دو عشروں میں ڈاکٹر،انجینئر،وکیل اور سول سرونٹ کی کھیپ تیار ہوسکتی ہے جس سے پورا منظر نامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
[email protected]
 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS