ایس سی/ایس ٹی کمیشن کو بااختیار بنائیے

0

چتراوو رگھو
(مترجم: محمد صغیرحسین)

ایس سی و ایس ٹی(انسدادظلم) ایکٹ1989کے نفاذ کا مقصد، حاشیہ پر کھڑی برادریوں کو اعلیٰ ذاتوں، مالداروں اور مراعات یافتہ لوگوں کے ظلم و ستم اور تفریق سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس ایکٹ کی دفعہ تین میں ایس سی/ایس ٹی فرد کے خلاف اُن اعمال و افعال کا ذکر کیا گیا ہے جو اس ایکٹ کے تحت موجب سزا قرار دیے گئے ہیں۔
اس دفعہ کی رو سے ہر وہ فعل جو وقار انسانی کے مغائر ہو، انسداد ظلم ایکٹ 1989کے تحت ایک جرم تصور کیا جائے گا۔ نندنی سُندر کیس میں سپریم کورٹ نے بھی یہ فرمایا تھا کہ خود ہندوستان کا دستوراساسی، صریح اور غیرمبہم الفاظ میں مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت تمام شہریوں کے مابین بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے مسلسل اور انتھک کوششیں کرتی رہے گی تاکہ ہر شخص کا وقار محفوظ رہے، اسے تقویت ملتی رہے اور اُس میں اضافہ ہوتا رہے۔ پولیس نے ہاتھرس میں اجتماعی عصمت دری کی شکار مقتولہ دلت لڑکی کا اگنی داہ مبینہ طور پر مقتولہ کے کنبے کی اجازت کے بغیر کردیا۔ پولیس کا یہ طرزعمل انسداد ظلم ایکٹ 1989کے تحت ایک جرم ہے۔
ہاتھرس میں اجتماعی عصمت دری کا سانحہ اور اس کے بعد رات کی دبیز تاریکی میں پولیس کے ذریعہ متاثرہ کا اگنی داہ یہ سوال قائم کرتا ہے کہ کیا حکومت نے اس سانحہ کے تئیں اپنی مطلوبہ ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟یہ سانحہ ظاہرکرتا ہے کہ دلت دو شیزہ پر ہونے والے ظلم و ستم کے دو پہلو تھے۔ اولاً یہ کہ مبینہ اعلیٰ ذات کے افراد کے ذریعہ متاثرہ کی اجتماعی عصمت دری اور دوم یہ کہ غروب آفتاب کے بعد، کنبے کی مبینہ عدم اجازت میں پولیس کے ذریعہ مقتولہ کا اگنی داہ کردیا جانا۔
پولیس کا رویہ اس شک کوتقویت دیتا ہے کہ اہلکار ملزمین کوبچانے کی کوششیں کررہے تھے۔ اُس پر مبینہ طور پر 14ستمبر کو حملہ کیا گیا اور وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاکر 29ستمبر کو لقمۂ اجل ہوئی۔ پولیس نے یہ بیان دیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے عصمت دری کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ ظاہر ہے، چوں کہ پوسٹ مارٹم آٹھ دنوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد ہوا، اس لیے اس کا قوی امکان ہے کہ عصمت دری کے ثبوت محو کردیے گئے ہوں گے۔ تاہم متاثرہ نے ایک نزعی بیان بھی درج کرایا تھا جس میں مقتولہ نے کہا تھاکہ اس کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ یہ بیان شہادت میں قابل تسلیم ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا حکومت خاموش تماشائی بنی رہے گی اور اہل خاندان کی مرضی کے بغیر مبینہ طور پر متاثرہ کی میت کو نذرآتش کیے جانے پر پولیس سے کوئی بازپرس نہیں کرے گی جب کہ پولیس کا یہ عمل انسداد ظلم ایکٹ 1989کے تحت ایک ظلم تصور کیا جائے گا۔ 
موجودہ منظرنامے میں، حکومت کا اقدام اُن سیاست دانوں کی نگاہ کرم پر خالصتاً منحصر ہے جو سرکار چلا رہے ہیں۔ آئین ہندوستان کے تحت ایسا کوئی ادارہ نہیں بنایا گیا جو ان حالات میں خاطی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے اور حکومت کی مداخلت کے بغیر ان کے خلاف ضروری چارہ جوئی کرے۔
اگرچہ آئین کا آرٹیکل 338 درج فہرست ذاتوں اور 338A درج فہرست قبائل کے لیے قومی کمیشنوں کی تشکیل کی ہدایت دیتا ہے لیکن یہ ادارے محض سفارشاتی اختیار رکھتے ہیں۔ آئین ان کمیشنوں کو محض یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ تیار کرکے صدر محترم کو پیش کردیں جنہیں موخرالذکر دونوں ایوانوں میں پیش کردیں گے۔ ظاہر ہے کہ صدر محترم وزراء کے صلاح ومشورے کے مطابق عمل کریں گے۔ چنانچہ کمیشن اُن لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتا جو براہ راست یا بالواسطہ اس معاملے میں ملوث ہیں۔ کمیشن کی سفارشوں کا نفاذ، سیاسی نظام کے حلقۂ اثر میں ہے۔ چنانچہ نہ تو ایسی کوئی آئینی شِق ہے اور نہ ہی کوئی تشکیل شدہ ادارہ ہے جو اس وقت متاثرین کی حمایت کرے جب حکومت وقت معقول انداز میں کارروائی کرنے سے گریزاں ہو۔
ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے آئین کو کوئی میکانزم مہیا کرنا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے ڈاکٹر سبھاش کاشی ناتھ کی پیش کردہ عرضداشت برائے نظرثانی پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں موجودہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس سی/ایس ٹی افراد ابھی بھی مساوات اور مدنی حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہ ذلت اور گالیاں برداشت کررہے ہیں اور صدیوں سے سماجی طور پر ٹاٹ باہر ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر شخص کو وقار کے ساتھ زندہ رہنے اور وقار کے ساتھ مرنے کا حق حاصل ہے۔
درحقیقت سپریم کورٹ نے انسداد ظلم ایکٹ 1989کے آئینی جواز کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ تینوں تصورات، آزادی، مساوات اور اخوت باہم مربوط ہیں۔ آزادی یا اخوت کے بغیر مساوات کا حق محض ایک واہمہ ہوگا کیوں کہ مساوات کا موجودہ تصور ہمسروں میں مساوات تک محدود رہ جائے گا اور یہ آئین کے ثمرِ بصیرت کا چھلکا محض ہوگا۔
اسی طرح مساوات اور اخوت کے بغیر آزادی کا تصور، موجودہ عدم مساوات میں اضافہ کرسکتا ہے بلکہ اور خراب کرسکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سماج کے اسفل ترین رسم و رواج میں شمولیت کا لائسنس مل جائے گا۔ یہ اخوت ہے جو پارٹIIIکی شقوں میں راسخ ہے اور جو حقیقی مساوات کی ضامن ہے۔ اسی کے زیراثر حکومت سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے اور سب کو ترقی اور خوشحالی کے ثمرات سے نوازے جانے کا وعدہ کرتی ہے، سب کو مساوی حریت دیتی ہے اور مزید یہ کہ اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ ہر شخص ملک کے ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک کرے گا، کوئی بھیدبھاؤ نہ ہوگا۔
ظاہر ہے، سیاسی مداخلت کی وجہ سے اعلیٰ سطح پر بیٹھے سرکاری ارباب، صورت حال کے تقاضوں کو پورا نہ کرسکیں گے۔ ان حالات کے پیش نگاہ ایک ایسا ادارہ لازمی ہے جو خاطی سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کرسکے۔ چنانچہ آئین کے آرٹیکل 338اور 338A میں ترمیم کے ذریعہ کمیشن کو اس قدر بااختیار بنایا جائے کہ وہ ناجائز حرکتوں میں ملوث سرکاری یا غیرسرکاری اہلکاروں کے خلاف ضروری کارروائی کرسکے۔ جب تک کہ مناسب ترمیم کے ذریعہ کمیشن کو بااختیار نہیں بنایا جائے گا تب تک ظلم و بربریت کے شکار افراد انصاف سے محروم رہیں گے اور انسداد ظلم ایکٹ 1989کے نفاذ کا مقصد پورا نہ ہوگا۔
(بشکریہ دی پائنیر)
(صاحب مضمون آندھراپردیش اور تلنگانہ ہائی کورٹس میں وکالت کرتے ہیں)
 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here