سرمد: ایک ایسا منکر جسے مومنوں نے سرآنکھوں پہ بٹھایا

0

عارف محمد خاں
(مترجم: محمد صغیرحسین)

دہلی میں جامع مسجد کے باہر ایک عظیم برہنہ تن صوفی، سرمد مدفون ہے جس کا سر اورنگ زیب کے دورِحکومت میں 1661میں قلم کردیاگیا تھا۔ بظاہر سرمد کے خلاف اورنگ زیب کے اہلکاروں نے جو فردجرم عائد کی تھی، اُس میں شرعی اصولوں کی خلاف ورزی بھی شامل تھی کیوں کہ انہوں نے اپنے برہنہ جسم کوڈھکنے کے لیے کسی قسم کے کپڑے پہننے سے انکار کردیا تھا اور یہ کہ وہ شارع عام پر اپنے کفر و الحاد کا اظہار کرتے تھے۔ ایک مختصر سے مقدمے کے بعد سرمد کو موت کی سزا سنادی گئی لیکن یہ عجب طرفہ تماشا تھا کہ جس شخص کو کفر اور گستاخی کی پاداش میں سزائے موت دی گئی ہو، وہ صوفی طریقت کا ایک بزرگ کامل ہوگیا۔ عوام نے انہیں شہید کا درجہ دیا اور وہ آفاقی عزت و احترام اور تعظیم و تکریم کے مستحق قرار دیے گئے۔
سرمد کون تھے اور اُن کا سر کیوں قلم کیا گیا؟ تاریخ میں اِس کی تفصیلات نہیں ملتیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اُس عہد کی سیاسی ترجیحات نے مورخوں کو اس المیہ کی تفصیلات قلمبند کرنے سے دور رکھا ہو۔ تاہم مورخوں کی بیزاری اس معروف خوش عقیدگی کو دبانہ سکی جو سرمد کے کئی کرشموں سے وابستہ ہیں اور یہ سارے کرشمے بعد کے روزنامچوںمیں تحریر کیے گئے۔
بیشتر تاریخی نگارشات کے مطابق سرمد غیرملکی اصل کے تھے اور شاہجہاں کے عہد میں ایک آرمینیائی تاجر کی حیثیت سے ہندوستان تشریف لائے تھے۔ دوسرے ایرانی تاجروں کی طرح وہ بھی پہلے سندھ آئے اور وہاں کے ایک خوشحال تجارتی قصبے ’تھٹّہ‘ میں مقیم ہوگئے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں انہیں ایک مقامی دوشیزہ سے عشق ہوگیا اور وہ اس کے عشق میں ایسے مجنوں ہوئے کہ سارا مالِ تجارت اور ساری دولت لُٹا بیٹھے۔ وہ اپنے عشق میں اس قدر محوہوگئے کہ بدن کے کپڑوں سے بھی بے نیاز ہوکر لباس برہنگی میں سڑکوں پر مارے مارے پھرنے لگے۔ وہ عوام کی توجہ سے بے خبر اور بے پرواہ اشعار کی زبان میں اپنے احساسات کا اظہار کرنے لگے۔
دوسرے وقائع نگاروں نے اس پر اصر ار کیا ہے کہ اُن کے عشق کا مرکز و محور ابھی چند نام کا ایک کمسن لڑکا تھا۔ سرمد اپنے محبوب کے در پر بیٹھ جایا کرتے تھے اور اُس کی تعریف و توصیف میں شعر کہا کرتے تھے۔ ابھی چند کے والد کو سرمد کے خلوص اور پاکیزگیٔ فکر کا بخوبی اندازہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے سرمد کو اپنے گھر آنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ سرمد اور ابھی چند کے مابین محبت ایک عرصے تک قائم رہی۔ وہ دونوں اس قدر شیروشکر ہوگئے کہ مفارقت کا تصور بھی گرانبار ہوگیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ دونوں تھٹّہ چھوڑ کر دلّی آبسے۔ ایک بزرگ کامل اور صاحب کرشمہ ولی کی حیثیت سے سرمد کی شہرت چہارسمت پھیل گئی اور دہلی کے عوام جوق درجوق اُن کے سنگِ در پر ناصیہ فرسائی کے لیے آنے لگے۔
دہلی میں اُن کے عقیدتمندوں میں جو معروف و ممتاز شخصیات نظر آتی ہیں، اُن میں درویش صفت مغل شہزادے داراشکوہ کا نام سرفہرست ہے۔ سرمد نے ایک موقع پر پیش گوئی کی تھی کہ داراشکوہ شہنشاہ، بندبنے گا لیکن جانشینی کے لیے لڑی جانے والی خونیں جنگوں کے بعد اورنگ زیب نے تخت پر قبضہ کرلیا۔ نئے شہنشاہ نے نہ صرف اپنے حریف بھائیوں کو صفحۂ ہستی سے مٹاڈالا بلکہ اُن کے طرفداروں اور حامیوں کا بھی تعاقب کیا۔ ایسی صورت حال میں، سرمد کے لیے کوئی راہِ فرار نہ تھی جنہوں نے داراشکوہ سے اظہار ہمدردی کیا تھا اور شارع عام پر شاہی خونریزی کی مذمت کی تھی۔
یہی وہ پس منظر تھا جب اورنگ زیب نے سرمد کو سزا دینے کے لیے اپنے قاضی القضاۃ مُلّاقوی کو فردجرم تیار کرنے کا حکم دیا۔ لہٰذا اسی نہج پر تفتیش کی گئی اور سرمد کو حکم دیا گیا کہ وہ دربار شاہی میں حاضر ہوں۔
برہنگی کے الزام کے علاوہ سرمد پر نبی اکرمؐ کے سفرِمعراج سے انکار کاالزام بھی لگایا گیا۔ اس ضمن میں انہوں نے اپنے احساسات کی شعری ترجمانی مندرجہ ذیل انداز میں کی:
مُلّا کہتا ہے کہ احمد آسمانوں پہ گئے
سرمد کہتا ہے کہ آسمان تو احمد کے اندر سمائے ہوئے تھے
علاوہ ازیں، اُن پر پورا کلمہ نہ پڑھنے کا الزام بھی لگایا گیا۔ کلمہ جو اساس ایمان کی خشت اوّل ہے۔ سرمد یہ تو کہا کرتے تھے کہ ’کوئی معبود نہیں ہے‘ لیکن وہ ’سوائے اللہ کے‘ نہیں کہتے تھے۔ جب اس کا سبب اُن سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ابھی انکار کی وادیوں میں سرگرداں ہیں اور ابھی منزل اثبات تک نہیں پہنچے ہیں۔ اگر میں ابھی پورا کلمہ پڑھوں تو یہ ایک جھوٹ ہوگا۔ قاضی نے اُن کی موت کا فیصلہ سنادیا لیکن عوامی فیصلے نے انہیں ایک ایسے شہید کا مرتبہ دیا جسے ایک کینہ پرور بادشاہ کی خوشنودی کی خاطر تہ تیغ کردیا گیا۔
(صاحب مضمون سردست ریاست کیرالہ کے عزت مآب گورنر ہیں)
 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
3
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here