بس پٹرول-ڈیژل بھروسے ملک

پٹرولیم مصنوعات کو ٹیکس اصلاحات کے ایجنڈے میں شامل کرنا ہوگا۔ متبادل ایندھن تلاش کرنا ماحولیات کے ساتھ معیشت کی بھی بڑی ضرورت۔

0

ہرجندر

پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں اضافہ کے دوران یہ خبر راحت کی طرح اخبارات میں شائع کی گئی۔ ایک سرکاری اشتہار میں بتایا گیا کہ اب دہلی-جے پور اور دہلی-چنڈی گڑھ کے درمیان بسیں پٹرول یا ڈیژل کے بجائے ہائیڈروجن گیس سے چلیں گی۔ خبر پڑھ کر لگتا ہے کہ اب جلد ہی مل کو مہنگے پٹرول سے نجات ملنے والی ہے جس کی قیمت میں ہر صبح اضافہ ہوجاتا ہو اور پھر ضرورت کی ہر چیز کو مہنگا کرکے منھ چڑھاتی ہو، اس سے بھلا کون نجات نہیں چاہے گا۔ اس لیے سن کر پہلی نظر میں اچھا لگتا ہے کہ ٹھوس مسائل والے مائع کے مقابلہ ایک گیس کو لایا جارہا ہے۔ وہ یہ بھی ایک ایسی گیس کو، جس کے چرچے اور ستائش ان دنوں پوری دنیا میں تقریباً ہر جگہ ہی ہیں۔
ہائیڈروجن کو مستقبل کا ایندھن سمجھا جاتا ہے اور آنے والے وقت کے لیے آلودگی سے نجات کی یقین دہانی بھی اسی میں دیکھی جارہی ہے۔ کیمسٹری ہمیںبتاتی ہے کہ یہ گیس جب جلتی ہے تو صرف خالص/صاف پانی بنتا ہے، یعنی آلودگی صفر ہوتی ہے اور اس کا کاربن فٹ پرنٹ بھی زیادہ نہیں ہوتا۔ یہ باتیں صحیح بھی ہیں، لیکن ان سب باتوں کا تناظر دوسرا ہے اور فی الحال یہ ہائیڈروجن ہمارے سامنے مہنگے پٹرول کے متبادل کے طور پر پیش کی جارہی ہے۔ کچھ بیانات میں یہ بھی کہا گیا کہ مسئلہ اس لیے بھی ہے کہ ملک نے اتنے سال مہنگے پٹرول کا متبادل تلاش نہیں کیا اور اب اسے تلاش کرنے کا وقت آگیا ہے اس لیے ہائیڈروجن سے پہلے پٹرول کی شکل کی چرچا ضروری ہے۔

مہنگے پٹرول کے مسئلہ سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے، پٹرولیم مصنوعات کوجامع ٹیکس اصلاحات کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔ گاڑیوں کے لیے متبادل ایندھن تلاش کرنا کئی اسباب سے ماحولیات کے ساتھ ہی معیشت کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے۔ لیکن معیشت کی اس سے کہیں بڑی ضرورت یہ ہے کہ حکومت ریونیو کے نئے متبادل تلاش کرے اور اس پٹرول کو بخش دے، جس سے فی الحال تو ہماری دنیا چلنی ہی ہے۔

جب ہم کسی پٹرول پمپ پر جاکر اپنے اسکوٹر، اپنی بائک، کار، بس، ٹریکٹر وغیرہ میں پٹرول یا ڈیژل بھرواتے ہیں، تب اس سے ہم اپنی گاڑی ہی نہیں چلاتے، ریاست اور ملک کی حکومتوں کو بھی چلاتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات سرکاری ریونیو کی ایسی دودھ دینے والی گائے ہے، جہاں پہنچتے پہنچتے ٹیکس عائد کرنے کی اخلاقیات، ٹیکس اصلاحات اور لبرلائزیشن کی ساری دلیلیں اپنے ہتھیار ڈال دیتی ہیں۔ یہ اس یا اس حکومت، اس یا اُس سیاسی پارٹی کا معاملہ نہیں ہے، یہ ہمیشہ سے ہی ہوتا رہا ہے کہ فی الحال یہ کچھ زیادہ ہی ہورہا ہے۔ سال2021 تک آتے آتے ہندوستان میں فروخت ہونے والا پٹرول شاید دنیا کی اکیلی ایسی چیز بن گیا ہے، جسے صرف ٹیکس تھوپ کر تین گنا قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ جسے ہم لبرلائزیشن کا دور کہتے ہیں، وہ بنیادی طور سے ٹیکس اصلاحات کا دور ہی رہا ہے، لیکن ہمارے یہاں ان ٹیکس اصلاحات کو ہمیشہ ہی پٹرول کی آتش گیر(Flammability) سے دور رکھا گیا۔ باقی جگہ بھلے ہی ٹیکس کو معقول بنائے جانے کی بات کی جاتی رہی ہو، لیکن یہ جواز کو پرکھنے کے لیے کسی پٹرول پمپ پر نہیں گئے۔ جب سیلز ٹیکس ہٹاکر ویٹ نافذ کیا گیا تو پٹرول کو اس سے دور رکھا گیا۔ جب جی ایس ٹی آیا تو پٹرول کو وہاں پھٹکنے بھی نہیں دیا گیا اور جی ایس ٹی نے جب باقی سبھی چیزوں کے معاملے میں ٹیکس سسٹم کے ہاتھ باندھ دیے ہیں، تب مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے لیے ریونیو میں اضافہ کی سب سے بڑی گنجائش اسی پٹرول میں نظر آرہی ہے۔ وبا کے سبب معیشت میں آئی گراوٹ بھی اب اسی پٹرول کے سہارے کی محتاج ہے۔ پوری دنیا میں پٹرول بھلے ہی سستا ہوتا رہے لیکن لگتا ہے اب ہمارے پاس پٹرول کو مہنگا کرنے کا کوئی اور متبادل نہیں ہے۔ بھلے ہی یہ مہنگائی متوسط طبقہ اور پوری معیشت کی کمر توڑ رہی ہو۔
پٹرول میں اپنے آپ میں بھی بہت سارے مسائل ہیں۔ یہ آلودگی پھیلانے والا دنیا کا سب سے بڑا فوسلز ایندھن ہے۔ صرف کوئلہ ہی اس سے زیادہ آلودگی پھیلاتا ہے، لیکن کوئلہ کا کل جمع استعمال اتنا نہیں ہے جتنا پٹرولیم مصنوعات کا ہے۔ کوئلہ زیادہ آلودگی پھیلاتا ہے لیکن پٹرولیم مصنوعات کا کاربن فٹ پرنٹ کوئلہ سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ زمین کے اندر اس کا محدود ذخیرہ ہی ہے، جسے دیر سویر کبھی تو ختم ہونا ہی ہے۔ ہمارے لیے ایک دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمیں پٹرولیم کی بڑے پیمانہ پر درآمدات کرنی پڑتی ہے۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں سب سے بڑی نقب اسی وجہ سے لگتی ہے۔ ان وجوہات سے ہمارے لیے یہ ہمیشہ ضروری رہا ہے کہ ہم اس کا متبادل تلاش کریں۔ متبادل تلاش کرنا کبھی آسان بھی نہیں رہا۔ پوری دنیا میں مستقبل کے ایندھن کی باتیں ضرور ہورہی ہیں، کوششیں بھی ہورہی ہیں، لیکن کسی بھی ملک کے پاس موجودہ وقت میں اس کا کوئی پختہ متبادل نہیں ہے۔ کبھی امریکہ میں بایو-ڈیژل کی بات زورشور سے چلی تھی، آج جتنی ہائیڈروجن کی بات چلتی ہے، اس سے بھی زیادہ، لیکن پھر اس کے مسائل کا علم ہوا تو یہ راستہ چھوڑ دیا گیا۔
لیکن پٹرول جس طرح سے ہمارے ملک کے لوگوں کو تکلیف دیتا ہے، اس کے سب سے بڑے اسباب ان سب میں نہیں ہیں۔ مہنگے پٹرول کا سب سے بڑا اور اہم سبب معاشی پالیسیوں میں ہے۔ ہماری حکومتوں نے ریونیو کے لیے پٹرول پر اپنا انحصار اس حد تک بڑھا لیا ہے کہ اگر راتوں رات کسی جادو کی چھڑی سے پٹرول کو پوری طرح غائب کردیا جائے تو دنیا میں سب سے بڑا بحران شاید ہندوستان میں ہی کھڑا ہوگا۔ ایسے میں، حکومتوں کو اپنا کام کاج ٹھیک سے چلانا ہے تو انہیں متبادل ایندھن پر بھی دیر سویر اتنے سارے ٹیکس لگانے ہی ہوں گے۔ وہ متبادل ایندھن ہائیڈروجن ہو یا کوئی اور، وہ ماحولیات کو آلودہ کرتا ہو یا صاف۔ جو موجودہ معاشی پالیسی ہے، اس میں ہماری گاڑیوں کو چلانے کے لیے مین ایندھن کو سرکار چلانے کا اہم ایندھن بھی بننا ہی ہوگا۔مہنگے پٹرول کے مسئلہ سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے، پٹرولیم مصنوعات کوجامع ٹیکس اصلاحات کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔ گاڑیوں کے لیے متبادل ایندھن تلاش کرنا کئی اسباب سے ماحولیات کے ساتھ ہی معیشت کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے۔ لیکن معیشت کی اس سے کہیں بڑی ضرورت یہ ہے کہ حکومت ریونیو کے نئے متبادل تلاش کرے اور اس پٹرول کو بخش دے، جس سے فی الحال تو ہماری دنیا چلنی ہی ہے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی ہیں)
(بشکریہ: ہندوستان)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here