خون دیوانہ ہے، دامن پہ لپک سکتا ہے

0

محمد فاروق اعظمی

امریکہ میں انتظامیہ کی تبدیلی کے ساتھ ہی مشرق و سطیٰ سے متعلق پالیسیوں میں بھی وسیع پیمانہ پر تبدیلی کاآغاز ہوچکا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے پشت بان امریکہ نے انہیں لگام دینے کا آغاز کردیا ہے۔ خطہ میں قانون کی بالا دستی اور انسانی حقوق کی پاسداری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان سے تقاضاکیاگیا ہے کہ انہیں یقینی بنائیں اوراپنی آرزوئوں اور امنگوں کو امریکہ کی نئی پالیسی کے تابع کرلیں۔سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا اور پرانا دفاعی اتحادی ملک ہے۔ امریکہ اس حقیقت سے واقف ہے کہ یہ اتحاد ہی شہزادہ محمد بن سلمان کے تحفظ کی ضمانت ہے،اسے برقرار رکھنے کیلئے وہ کوئی بھی قیمت چکاسکتے ہیں۔ اس قیمت کی وصولی سے قبل امریکہ نے گھیرا بندی کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں امریکہ کی انٹلیجنس رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں شہزادہ سلمان کو واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔امریکہ کے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹلیجنس (ڈی این آئی) کے مطابق شاہ سلمان نے جمال خاشقجی کو پکڑنے یا قتل کرنے کیلئے استنبول آپریشن کی منظوری دی۔ شہزادہ سلمان 2017 سے ہی سیکورٹی اور انٹلیجنس آپریشنز پر مکمل کنٹرول رکھتے تھے اور ایسا ممکن نہیں کہ ان کی اجازت کے بغیر سعودی حکام اس نوعیت کا آپریشن کر سکیں۔اس رپورٹ کے عام ہونے کے ساتھ ہی امریکہ نے جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے پر 76سعودی شہریوں پر ویزا کی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اپنی سرحدوں سے باہر مخالفین، ناقدین اور صحافیوں کو دھمکیوں اور قتل کیے جانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، امریکہ اسے برداشت نہیں کرے گا۔
دیکھاجائے تو یہ مکافات کا ایک قدرتی عمل ہے جس سے شاہ و گدا کسی کو مفر نہیں۔گزرنے والی چند دہائیوں میں سعودی عرب میں انسانی حقوق، اظہار رائے کی آزادی اور امت کے اجتماعی معاملات سے چشم پوشی، یہود و غیرمسلموں سے قربت کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اورانسانیت پروری، اعتدال اور عدل و انصاف کا احترام اسی تیزی سے کم ہوا ہے۔ شہزادہ سلمان پر اپنے مخالفین کی زبان بندی کیلئے طاقت کے ظالمانہ استعمال کے بھی الزام و شواہد گاہے گاہے منظرعام پرآتے رہے ہیں۔صحافی جمال خاشقجی کا معاملہ بھی ان میں سے ہی ایک تھا۔ اکتوبر2008میں ہونے والے جمال خاشقجی کے وحشیانہ قتل نے پوری دنیا کو چونکا دیاتھا۔جمال خاشقجی ترکی کی راجدھانی استنبول میں واقع سعودی سفارت خانہ کے اندر گئے تھے لیکن اس کے بعد وہ باہر نہیں آئے۔ سفارت خانہ کے اندر ہی ان کا قتل کردیاگیا۔سعودی حکومت اس سے مسلسل انکار کرتی رہی لیکن آخر میں اسے تسلیم کر ناپڑا لاپتہ صحافی جمال خاشقجی کی موت ہوچکی ہے۔

سـچ لـکـھـنـے والـے ایک صـحافـی کا وحـشـیـانـہ قـتـل امـریکـی رپورٹ کـے بـعـد شـہـزادہ سـلـمـان کـے گلـے پـڑتـا نظـر آرہا ہے اور امریکہ نے بھی تیور بدلنے شروع کردیـے ہیں۔ نوشتہ دیـوار بـتـارہـا ہـے کـہ اپنـے خـون سـے جـمـال خـاشـقـجـی نـے سعودی حکومت کے مظالم کی جو داستان لکھ دی تھی وہ اس کـے زوال کا پیش خـیـمـہ بـن جـائـے گـی۔کہتـے ہـیـں کہ خو ن اپـنـا حسـاب ضـرور طلب کـرتا ہـے چاہـے وہ کتنا ہی ارزاں کیوں نہ ہو۔

شہزادہ محمدبن سلمان، جمال خاشقجی کو مملکت سعودیہ کیلئے خطرہ تصور کرتے تھے۔ جمال خاشقجی کے قتل کے سلسلے میںجو تفصیلات ریکارڈ پر ہیں، انہیں انسانی شقاوت کی بدترین مثال کہا جاسکتا ہے۔ ان کا قتل ترکی میں واقع سعودی عرب کے سفارت خانہ میں کیاگیا تھا۔کہاجاتا ہے کہ قتل کی صبح دو پرائیویٹ طیار وںسے سعودی عرب کے خصوصی انٹلیجنس اور دوسری فورسز کے 15 افسران ترکی پہنچے ا ور سعودی فرمانروا محمد بن سلمان کے خاص ساتھی کے ہمراہ سفارت خانہ میں داخل ہوئے۔دوپہر کو جمال خاشقجی اپنے طلاق کی دستاویزات لینے سعودی سفارت خانہ گئے تھے۔ وہ طلاق لے کر ترکی کی ایک خاتون سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ ان کی منگیتر سفارت خانہ کے باہر کھڑی گھنٹوں جمال کے واپس لوٹنے کا انتظار کرتی رہیں لیکن وہ باہر نہیں آئے۔ جس دن جمال خاشقجی سفارت خانہ پہنچے اس سے ایک ہفتہ قبل انہوں نے طلاق کے دستاویزات لینے کیلئے درخواست دی تھی اور انہیں 2اکتوبر کی دوپہر کو سفارت خانہ طلب کیا گیا تھا۔ اس دن تمام مقامی ترکش اسٹاف کو چھٹی دے دی گئی تھی۔جمال خاشقجی نے اپنا ایپل فون اپنی ترکی منگیتر کو دیاتھا اورہدایت کی تھی کہ اگر وہ چار گھنٹوں تک واپس نہیں آتے تو وہ الارم بجا دیں۔جمال کے ہاتھ میں لگی گھڑی اس کے ایپل کے موبائل سے کنیکٹ تھی جس سے ترکی حکومت کی تحقیقاتی ٹیم کو اہم شواہد حاصل ہوئے ہیں،جس کے مطابق انتہائی شقی القلبی اوربربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمال خاشقجی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا،ان کی انگلیاں کاٹ دی گئیں، یہاں تک کہ ابھی وہ زندہ ہی تھے کہ ان کے جسم کے دوسرے حصوں کوبھی کاٹنا شروع کر دیاگیااور آخر میں ان کا سر دھڑ سے الگ کرکے انہیں تیزاب سے بھرے حوض میں پھینک دیاگیا۔یہ سارے واقعات ایپل کی اس گھڑی میں قید ہوئے جو خاشقجی نے پہن رکھی تھی اوراس کا رابطہ ان کی منگیترکودیے گئے فون سے تھا۔جمال کی گمشدگی کے بعد تفتیش کا دائرہ وسیع ہوا اور عالمی سطح پر اس مسئلہ کو اٹھایا گیا تو پہلے تو سعودی عرب نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کردیا مگرجب ترکی کی تحقیقاتی ٹیم نے حقائق اکٹھا کرنے شروع کیے توسعودی حکومت نے انتہائی بھونڈے انداز میں اس کے قتل کے محرکات بتاتے ہوئے چند افسران کو قربانی کا بکرا بناکرپیش کیا۔ مگریہ اسی وقت عیاں ہوگیاتھا کہ جو کچھ ہوا وہ سعودی فرمان روا کے اشارے پر ہی ہوا۔
ایک زمانے میں ہتھیاروں کے بڑے سوداگر رہے عدنان خاشقجی کے بھتیجے جمال خاشقجی طویل عرصہ تک سعودی عرب میں رہے اور حکمرانوں سے ان کی قربت رہی لیکن وہ دھیرے دھیرے شاہ سلمان کی پالیسیوں سے متنفر ہوتے گئے اور ان پر تنقید شروع کردی، خاص طور پر جمال خاشقجی نے سعودی حکمرانوںکے خلاف ان کی ریاست میں پھیل رہی بدعنوانی کے خلاف لکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی تھی۔ یمن میں سعودی عرب کی فوجی مہم جوئی، مصرمیں حکومت کاتختہ الٹنے میں سعودی عرب کے کردارکے خلاف انہوں نے سخت تنقید کی تھی۔ حکومتی مظالم، غلط سیاست اور خاص کر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ نزدیکی اور غلامانہ نوعیت کے تعلقات پر عدنان خاشقجی کی گرفت کی وجہ سے سعودی عرب نے ان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا کہ جمال خاشقجی کو بروقت پتہ چلا اورکسی بہانے سے وہ سعودی عرب سے فرار ہوگئے۔جما ل خاشقجی کو اس بات کا اچھی طرح احساس تھا کہ وہ شاہ سلمان کے نشانہ پر ہیں۔ان دنوں جمال خاشقجی واشنگٹن میں رہتے ہوئے امریکہ کے اخباروں میں لکھ رہے تھے۔
کہاجاتا ہے کہ شاہ محمد بن سلمان انتہائی خود پسند بلکہ خود پرست شخص ہیں اور اپنی ذات پر ذراسی بھی تنقید برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ اپنی بات کو ہی وہ آسمانی قانون کادرجہ دیتے ہیں،جس کے خلاف وہاں کی نئی نسل میں سخت برگشتگی ہے جمال خاشقجی اسی نئی نسل کے نمائندہ اوراظہار رائے کی آزادی کے سب سے بڑے نقیب تھے۔بحیثیت صحافی جمال خاشقجی اپنا فرض نبھاتے رہے۔ حکومت کی غلط کاریوں کو عوام کے سامنے لانا، اسلام مخالف پالیسیوں اور امریکہ اور اسرائیل سے بڑھتی قربت کے خطرناک اثرات پر لکھنے کا جمال خاشقجی نے سلسلہ شروع کررکھاتھاجس کی سزا انہیں سعودی عرب کی حکومت نے دی اور جانوروں کی طرح ذبح کرڈالا۔
سچ لکھنے والے ایک صحافی کا وحشیانہ قتل امریکی رپورٹ کے بعد شہزادہ سلمان کے گلے پڑتا نظر آرہا ہے اور امریکہ نے بھی تیور بدلنے شروع کردیے ہیں۔ نوشتہ دیوار بتارہاہے کہ اپنے خون سے جمال خاشقجی نے سعودی حکومت کے مظالم کی جو داستان لکھ دی تھی وہ اس کے زوا ل کا پیش خیمہ بن جائے گی۔کہتے ہیں کہ خو ن اپنا حساب ضرور طلب کرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی ارزاں کیوں نہ ہو:
خون دیوانہ ہے، دامن پہ لپک سکتا ہے
شعلہ تند ہے، خرمن پہ لپک سکتا ہے
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here