جامعہ ملیہ اسلامیہ کا صد سالہ جشن اور مکتبہ جامعہ

0

معصوم مرادآبادی

مرکزی دانش گاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے حال ہی میں اپنے قیام کے سو سال مکمل کیے ہیں۔ صدی کا یہ سفر جامعہ کی تاریخ میں بڑے معنی رکھتا ہے۔ جن اکابرین نے اس عظیم ادارے کی بنیاد ڈالی تھی، وہ عجیب وغریب جذبوں سے سرشار تھے۔ آج کی دنیا میں ایسے دیوانوں کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سوسالہ سفر نشیب وفراز کی ایک عجیب وغریب داستان ہے۔ اس کے بہت سے کردار آج ہماری نظروں سے اوجھل ضرور ہیں مگر ان لوگوں نے جس اخلاص سے اس تعلیمی ادارے کی آبیاری کی وہ تاریخ کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔جامعہ کی داغ بیل ڈالنے والے لوگ وہی تھے، جنھوں نے ہندوستان کی آزادی اور خود مختاری کی راہیں متعین کی تھیں۔ ان کی نگاہ بلند اور سخن دلنواز تھی۔ جامعہ کے قیام اور ہندوستان کی جدوجہد آزادی کا سفرایک ساتھ طے ہوا۔ اس ادارے کا قیام برطانوی نظام تعلیم کے بائیکاٹ کی صورت میں ہوا تھا۔ گاندھی جی، مولانا محمدعلی جوہر، ڈاکٹر مختار احمدانصاری، حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر ذاکر حسین،مولانا محمود حسن اور عبدالمجید خواجہ نے جہاں اس کی تعمیر وتشکیل میں حصہ لیا، وہیں بعد کے دنوں میں اس ادارے کے گیسو سنوارنے والوںمیں پروفیسر محمدمجیب، مسعودحسین خاں، پروفیسر شفیق الرحمن قدوائی، ڈاکٹر عابد حسین، سعید انصاری اورمولانا عبدالملک جامعی کے نام آتے ہیں۔ 1920میں علی گڑھ میں قائم ہونے والے اس تعلیمی ادارے نے دہلی کے قرول باغ میں تمام تربے سروسامانی کے ساتھ کرائے کے مکانوں میں اپنا سفر شروع کیا تھا۔ آج یہ دانش گاہ عالیشان بلڈنگوں کا ایک مرقع ہے اور اس کا تعلیمی وتدریسی سفر جاری وساری ہے۔ یہ کیا کم ہے کہ حال ہی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ملک کی دس مرکزی یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل کیا گیاہے۔ 
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ساتھ ساتھ ایک اور ادارے کی بھی داغ بیل ڈالی گئی تھی جسے لوگ مکتبہ جامعہ کے نام سے جانتے ہیں۔مکتبہ جامعہ کے قیام اور جدوجہد کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی۔جامعہ جہاں درس وتدریس کا ادارہ تھا تو وہیں مکتبہ جامعہ لوگوں کو روحانی غذا فراہم کرنے کا ذریعہ تھا۔ یہ محض کوئی کاروباری اشاعت گھر نہیں تھا بلکہ اس نے انتہائی قیمتی کتابیں نہایت ارزاں قیمت میں شائع کیں اور لاکھوں لوگوں کے ذہن وشعور کو سیراب کیا۔مکتبہ جامعہ نے خلاق ذہنوں کی اہم تصنیفات کے علاوہ طلبا کی نصابی ضرورتوں کے مطابق درسی کتابیں بھی شائع کیں۔’ معیاری سیریز‘ کے عنوان سے مختصر مگر جامع کتابوں کی اشاعت کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی اہل علم ودانش اور طلباء مکتبہ جامعہ کی مطبوعات سے تعلق خاطر رکھتے ہیں۔ درس گاہوں اور دانش گاہوں میں اس کی مطبوعات کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ جامعہ کے ساتھ ساتھ مکتبہ جامعہ نے بھی ترقی کی منزلیں طے کیں اور یہ جامعہ کے بازو کے طور پر ایک ایسا ادارہ بن گیا جو ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم تھے۔جامعہ کی لائبریری کو بھی مکتبہ جامعہ سے بہت تقویت حاصل ہوئی۔ اس مکتبہ نے اشاعتی صنعت میں اپنا نام سنہری حروف میں درج کرایا۔دہلی کے علاوہ بمبئی اور علی گڑھ جیسے شہروں میں اس کی شاخیں قائم ہوئیں جو تشنگان علم وادب کا ایک اہم مرکز قرار پائیں۔لیکن آج جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کاصد سالہ جشن منایا جارہا ہے اور چراغاں ہورہا ہے تو مکتبہ جامعہ میں سناٹا چھایا ہوا ہے کیونکہ گزشتہ ایک عرصہ سے مکتبہ جامعہ کا اشاعتی کاروبار ٹھپ ہے۔ نہ تو وہاں سے کوئی نئی کتاب شائع ہوئی ہے اور نہ ہی اس ادارے کے تاریخ ساز جریدوں ’ کتاب نما‘ اور ’پیام تعلیم‘ کی اشاعت باقی رہی ہے۔ کتابوں کے وہ پرانے ٹائیٹل جن کی اردو والوں میں ہمیشہ مانگ رہی ہے اور جو مکتبہ جامعہ کی شناخت سمجھے جاتے ہیں، ناپید ہیں اور دور دور تک ان کی اشاعت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
جو لوگ کتابوں کی دنیا کے شیدائی ہیں، انھیں مکتبہ جامعہ کے حوالے سے ایک نام  ضرور یاد ہوگاجس میں جامعہ کے بانیوں کی روح محلول کرگئی تھی اور جس نے اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں سے اس ادارے کو بام عروج تک پہنچانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیا۔یہ شخصیت ہے شاہد علی خاں کی جو کسی زمانے میں مکتبہ جامعہ کے منیجر ہوا کرتا تھے اور مکتبہ کے دفتر میں واقع ان کی چھوٹی سی میز پر ہر مشکل کو آسان کرنے کا نسخہ موجود تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب مکتبہ جامعہ کا دفتر تکونہ پارک کے نزدیک اسی گل مہر روڈ کی شاہراہ پر ہوا کرتا تھا جہاں کسی زمانے میں ڈاکٹرذاکر حسین،ڈاکٹر عابدحسین، خواجہ غلام السیدین اور جامعہ کے دیگر اکابرین کی قیام گاہیں تھیں۔مکتبہ جامعہ کی عمارت کی تعمیر کا بھی ایک دلچسپ قصہ ہے۔ جس زمانے میں ٹیچرزٹریننگ کالج کی عمارت بن رہی تھی تو مکتبہ جامعہ کے لیے بھی ایک مستقل عمارت کی ضرورت محسوس کی گئی۔ لیکن اس وقت جامعہ کے پاس فنڈ کی قلت تھی۔ ٹیچرز ٹریننگ کالج کے بلڈر رائے پرتھوی راج نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر جامعہ تیار ہوتو وہ ٹیچرز ٹریننگ کالج کی عمارت کی تعمیر سے بچے ہوئے سامان سے مکتبہ جامعہ کی عمارت تعمیر کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے صرف جامعہ کو مزدوری کے پیسے ادا کرنا ہوں گے۔ یہ تجویز منظور ہوئی اور اس طرح مکتبہ جامعہ کو ایک مستقل عمارت مل گئی۔
مکتبہ جامعہ پر پہلا ستم یہ ہوا کہ پروفیسر مشیرالحسن کے دور میں مکتبہ کی اس عمارت پر بلڈوزر چلاکر اسے جامعہ کالج کے پیچھے جھونپڑیوں میں منتقل کردیا گیا اور یہاں ارجن سنگھ کے نام پر فاصلاتی تعلیم کا ایک ادارہ قائم کردیا گیا۔ اسی دور میںمکتبہ جامعہ سے شاہدعلی خاں کی علیحدگی کا تکلیف دہ کام بھی انجام پایا۔ وہ شاہدعلی خاں جنھوں نے مکتبہ جامعہ کو بام عروج تک پہنچانے کے لیے اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کی تھیں، وہ اچانک اس سے جدا کردیے گئے۔حقیقت یہ ہے کہ مکتبہ جامعہ کا زوال اسی روز شروع ہوگیا تھاجس روز مکتبہ سے شاہد علی خاں کو رخصت کیا گیا۔ان کے چلے جانے کے بعد مکتبہ جامعہ کے دونوں جریدوں ’کتاب نما‘ اور ’پیام تعلیم‘ کی بھی حالت دگرگوں ہوگئی۔ شاہد علی خاں کے بعد اس تاریخ ساز اشاعتی ادارے کی باگ ڈور جن لوگو ںکو سونپی گئی،وہ اس کے اعزازی ذمہ دار تھے اور اشاعتی صنعت سے ان کا دور تک بھی کوئی واسطہ نہیں تھا۔مشہور نقاد شمس الرحمن فاروقی کے لفظوں میں:
’’شاہد علی خاں کے الگ ہونے کے بعد مکتبہ جامعہ کے گویا برے دن آگئے۔یکے بعد دیگرے جن لوگوںکو زمام کارسونپی گئی وہ رسالہ نکالنے کا بھی تجربہ نہ رکھتے تھے ‘چہ جائے کہ پریس،طباعت اور کاغذ اور مطبوعات کی خرید فروخت کے معاملات اور کسی اشاعتی ادارے کی سربراہی کاانہیں کچھ موہوم ساعلم بھی ہو۔بہرحال اردو کے اشاعتی اداروں میں مکتبہ جامعہ کی مرکزی حیثیت اسی دن ختم ہوگئی جب شاہد علی خاں وہاں سے الگ ہوئے۔‘ ‘(’’شاہد علی خاں :ایک فرد‘ایک ادارہ ‘‘مرتب نصیر الدین ازہر‘صفحہ 17)
بہرحال مکتبہ جامعہ کی عمارت جن جھونپڑوںمیں منتقل ہوئی تھی، وہاں ان قیمتی کتابوں کو بری حالت میں دیکھاگیا۔ اس کے بعد مکتبہ انصاری ہیلتھ سینٹر کی عمارت میں منتقل ہوا اور اس طرح وہ ایک یتیم بچے کی طرح ادھر ادھر بھٹکتا رہا۔ آج ہزاروں قیمتی کتابیں شائع کرنے والا یہ تاریخ ساز ادارہ اپنی حالت پر ماتم کناں ہے۔ شاہدعلی خاں کی مکتبہ سے رخصتی کے بعد اس ادارے نے کوئی ترقی نہیں کی اور اس کی حالت یہ ہوئی کہ چند سال قبل قومی اردوکونسل(این سی پی یو ایل)نے اس تاریخ ساز ادارے کی دوسو نایاب کتابیں اپنے صرفہ پر شائع کیں۔ یہ کسی اشاعتی ادارے کی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عروج وزوال دنیا کا دستور ہے اور آج اردو اشاعتی صنعت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ لوگوں میں کتابیں خریدنے اور انھیں اپنی آنکھوں کا سرمہ بنانے کا رواج دم توڑرہا ہے۔ لیکن بہرحال وہ ادارے ترقی ضرور کررہے ہیں جن کی وابستگی مستحکم اور مضبوط اداروں کے ساتھ ہے۔ مکتبہ جامعہ ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس کی وابستگی جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسی مرکزی دانش گاہ کے ساتھ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مکتبہ جامعہ کو نئی زندگی دینے کے لیے جامعہ کو ایک ٹھوس منصوبہ بنانا چاہیے۔ فوری طور پر جامعہ کے تمام اشاعتی کام، اسٹیشنری کی فراہمی اور دیگر چیزیں مکتبہ جامعہ کے ذمہ کردی جانی چاہئیں تاکہ جامعہ کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ بھی پھل پھول سکے اور جامعہ پر یہ الزام نہ آئے کہ وہ اپنے ایک تاریخ ساز ادارے کو بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ اگر فوری طور پر مکتبہ جامعہ کی صحت وتندرستی پر توجہ نہیں دی گئی توایک صدی تک لوگوں کے ذہنوں کو منور کرنے والا یہ تاریخی ادارہ دم توڑدے گا اور اس کا سب سے بڑا نقصان علم ودانش کو پہنچے گا۔
[email protected]
 

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here