کیا مسلمانوں کو فرقہ وارانہ سیاست راس آسکتی ہے؟

0

عبدالعزیز

راج دیپ سر ڈیسا ئی نے ایم آئی ایم کے امتیاز احمد ایم پی سے پوچھا کہ آپ مسلم سیاست کر کے بی جے پی کی ہندو سیاست کوتقویت بھی پہچا رہے ہیں اور justify بھی کر رہے ہیں  اس سے تو دو خیموں میں  ہندو مسلمان بٹ جائیں گے۔ امتیاز صا حب نے فرمایا کہ ہندو فرقہ پرستی کو سیکولر فرقہ پرستی روکنے میں ناکام ہے۔ ڈیسا ئی نے کہا کہ پورے ہندوستان میں مسلمان گیارہ فیصد ہیں۔ یہ ایک طرف ہوجائیں اور ہندو پچاسی فیصد ایک طرف ہوجائیں تو اس پولر ائیزیشن سے تو فرقہ پرستی کا عروج ہوگا۔ امتیاز احمد نے کہا جو کچھ ہو ‘کیا اس کا ہم لوگ ٹھیکہ لئے ہوئے ہیں۔ بی جے پی کا  نعرہ ہے ’ کانگریس مکت بھارت‘ لیکن ان کا پرانا ایجنڈا تھا ’مسلم مکت بھارت‘ جسے آر ایس ایس نے1925 سے یعنی اپنی پیدائش کے روز اول سے شروع کر رکھا ہے۔ آر ایس ایس کی کوء ی سیاسی ونگ یا جماعت نہیں تھی1951میں مغربی بنگال کے شیاما پرشاد مکھرجی جی نے کانگریسی حکومت میں وزیر ہونے کے باوجود الزام لگایا کہ کانگریس ہندوؤں کے مفادات کی رکھشا (حفاظت) کرنے  سے قاصر ہے۔ آر ایس ایس نے اس پارٹی کی حمایت کرنی شروع کی۔ مکھرجی کے بعد بلراج مدھوک اس کے صدر ہوئے۔ بعد میں ایل کے ایڈوانی اور اٹل بہاری واجپائی جیسے لوگ اس کے صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ جے پرکاش نرائن کے مکمل انقلاب کے اندولن ( تحریک) میں جن سنگھ بھی شامل ہوگئی ۔ایمرجنسی کے دوران جنتا پارٹی میں جن سنگھ ضم ہوگئی۔ لیکن دہری رکنیت یعنی جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کی جن سنگھ کے لوگ اپنائے ہوئے تھے۔ اس پر جنتا پارٹی کے سوشلسٹ گروپ نے سخت اعتراض کرنا شروع کیا۔ 1977  میں جنتا پارٹی قائم ہوئی تھی۔ تین سال کے بعد تحلیل کر دی گئی۔ ایل کے ایڈوانی اور اٹل بہاری واجپائی کی سربراہی میں جن سنگھ والوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی تشکیل کی۔ جن سنگھ کے نام کے بجائے اس نام سے آر ایس ایس کے زیرِ سایہ اس پارٹی نے کام شروع کیا وی پی سنگھ کی سربراہی میں کانگریس کو شکست دینے کے لئے جو اندولن چلا اس میں بھی بی جے پی شامل ہو گئی۔ وی پی سنگھ کی سربراہی میں جنتا دل نئی پارٹی بنی اور کانگریس کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئی۔ وی پی سنگھ کی حکومت میں بھی بی جے پی کو شامل کر لیا گیا لیکن جب وی پی سنگھ نے منڈل کمیشن کو لاگو کیا تو بی جے پی نے وی پی سنگھ کی حکومت سے حمایت واپس لے لی جس کی وجہ سے حکومت گر گئی بی جے پی نے منڈل اندولن کوشکست دینے کے لئے مندر کی سیاست شروع کی اور اس اندولن کے نتیجے میں بی جے پی کا عروج ہوا لوک سبھا میں اس پارٹی کے صرف دو ممبر تھے۔ ایڈوانی کی مندر کی سیاست نے دو ممبر سے اس پارٹی کو180 سیٹوں پر کامیابی دلا دی 1998  کے جنرل الیکشن کے بعد واجپائی کی سربراہی میں مخلوط حکومت بنی۔ اس میں شامل پارٹیوں نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی تشکیل کی ۔اس کی حکومت ایک سال قائم رہی دوبارہ الیکشن میں این ڈی اے کو کامیابی ملی واجپائی کی حکومت اس بار پانچ سال قائم رہی۔
2004   کے جنرل الیکشن میں کانگریس کو زیادہ سیٹوں پر کامیابی ملی بایاں محاذ اور دیگر پارٹیوں نے کانگریس کی حکومت کی حمایت کی اور سب پارٹیوں نے مل کر  United Progressive Alliance (UPA) کی تشکیل کی۔ یوپی اےI-  میں مارکسی پارٹی کی موجودگی سے منموہن سنگھ نے اچھی حکومت کی جس کی وجہ سے  2010کے الیکشن میں بھی کامیابی ملی لیکن مارکسی پارٹی اس بار کمزور بھی ہوگئی تھی- اس بار یوپی اے سے دور رہی اس دوسرے دور میں حکومت کے اندر اندر رہتے ہوئے کئی لوگوں نے بہت سارے گھوٹالے کئے بد عنوانی کے خلاف اندولنAnti Corruption Movement     چلا ۔انا ہزارے اور اروند کیجریوال وال اس اندولن کے اہم لیڈر تھے لیکن اس کی پشت پناہی آرایس ایس اور بی جے پی کے لوگ کرہے تھے۔کانگریس کی حکومت بدنام ہو چکی تھی۔ 2014 میں آر ایس ایس نے جنرل الیکشن میں نریندر مودی کو وزیر اعظم کے چہرے کی حیثیت سے بی جے پی کے امیدوار کے طور پر پیش کیا۔ مودی جی نے فرقہ پرستی اور وکاس (ترقی) کے نام پر بھاری اکثریت سے الیکشن جیت لیا ۔پانچ سال میں بہت سارے کام ایسے کئے کہ مہنگائی بڑھی اور ملک کا نظم ونسق انتہائی خراب ہوگیا ۔مسلمانوں اور دلتوں پر مظالم پر مظالم ہوتے رہے۔ اس کے باوجود کانگریس یا کوئی پارٹی متبادل بن کر نہیں ابھر سکی۔2019   کے الیکشن  کے وقت پلوامہ کا سانحہ ہوگیا۔ بالا کوٹ اسٹرائک ہوا ۔مودی جی جارحانہ قومیت کے بل بوتے پر پھر دوبارہ پہلے سے بھی زیادہ اکثریت سے کامیاب ہو گئے۔ریاستوں میں جنرل الیکشن سے پہلے  راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کو کامیابی ملی۔ کرناٹک میں بھی جے ڈی یو کے سہارے حکومت بنا  نے میں کامیاب ہو ئی مگر کانگریس کی کمزوری  اور بی جے پی کی دولت و طاقت اور چالبازی کی وجہ سے دونوں جگہ سے بے دخل ہوگئی۔ کرنا ٹک میں بی جے پی نے بڑے پیمانے پر کئی ایم ایل اے کو خر ید لیا۔ مدھیہ پردیش میں جیوتر سندھیاکی کانگریس سے ناراضگی کانگریس کے لیے مہنگی ثابت ہو ئی۔ بہار کے الیکشن میں بھی تیجسوی یاد و کے ہار میں جہاں الیکشن کمیشن کی جانبدار ی اور زور زبردستی آٹھ سیٹوں کے الٹ پلٹ کامعاملہ ہے وہیں کانگریس کی کمزوری اور اویسی فیکٹر بھی گٹھ بندھن کی راہ میں حائل ہوگیا۔ مودی جی کامیاب ہو گئے تیجسوی جیت کر بھی ہار گئے ۔ایک طرف اپوزیشن پارٹیوں میں اتحاد نہیں ہوپا رہا ہے ۔دوسری طرف سیاست میں مسلمانوں میں بھی انتثار نمایاں ہے۔ بہار کے الیکشن میں27  فیصد مسلمانوں نے گٹھ بندھن کو ووٹ نہیں دیا ۔
آئندہ سال مغربی بنگال میں بھی الیکشن ہونے والا ہے یہاں سہ رخی مقابلہ کی بات طے ہے ۔اگر اویسی صاحب کی پارٹی یہاں آتی ہے تومسلمانوں کی آبادی میں چہار رخی مقابلہ ہوسکتا ہے ۔مغربی بنگال میں بہار کے بعد اب پورا زور مغربی بنگال میں لگا دے گی۔ یہی بی جے پی کی فرقہ پرستی کو جنم دینے والے شیاما پرشاد مکرجی کی جائے پیدائش ہے اور یہیں آر ایس ایس کے بانی کے بی ہیڈگیور جو ناگپور سے کلکتہ آئے تھے ڈاکٹر ی کی تعلیم حاصل کرنے۔ ان کے ذہن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا ہوئی۔ کچھ دنوں کے بعد1925  میں آرایس ایس جیسی فرقہ پرست تنظیم کی تشکیل کی جس کی آج  ہندوستان میں فرقہ پرستانہ حکومت قائم ہے ۔مغربی بنگال میں 1970  سکندر علی ملا نے حسن الزمان سے مل کر مسلم لیگ قائم کی تھی۔ اس وقت بنگال میں سیاسی ہلچل زوروں پر تھی۔ اجے مکھرجی نے کانگریس سے نکل کر بنگلہ کانگریس بنایا تھا ۔تھوڑے عرصے کے لیے دوبار وزیر اعلی ہوگئے۔ تیسری بار جب الیکشن ہوا تو مسلم لیگ نے حصہ لیا۔ خوش قسمتی سے سات سیٹوں پر مسلم لیگ کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ بغیر مسلم لیگ کے حکومت نہیں بن سکتی تھی جس کی وجہ سے مسلم لیگ کے تین ایم ایل اے کو وزیر بنانا پڑا۔ اس وقت خاکسار کلکتہ یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کا طالب علم تھا۔ میرا سیاسی شعور  طالب علمی کے دور سے گزر رہا تھا۔ میں نے بھی مسلم لیگ کا ساتھ دیا لیکن وزارت کے ایک ماہ کے بعد مغربی بنگال کے دو بڑے مسلم لیذر سیدبدرالدجی اور ڈاکٹر غلام یزدانی کو پاکستان کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ دونوں پر انتہائی غلط الزام تھا مولانا عبد الفتاح صاحب امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند اور خاکسار نے مسلم لیگ کے سکندر علی ملا اور حسن الزمان سے ملاقات کی اور ان لوگوں سے گزارش کی کہ اسے مکھرجی پر دباؤ ڈال کر دونوں لیڈروں کی رہائی کی کوشش کر یں۔ دونوں نے کہا حکومت کوچند دن ہوئے ہیں۔ ابھی اتنا بڑا قدم اٹھانا ممکن نہیں ۔اس کے دوتین مہینے کے بعد حکومت ختم ہوگئی۔ مسلم لیگ کے ایم ایل اے بھی ایک کو چھوڑ کر سب کانگریس میں شامل ہوگئے۔ بہت دنوں تک حسن الزمان صاحب مسلم لیگ کو زندہ رکھے۔ ان کے بعد ان کے لڑ کے ڈاکٹر قمر الزمان نے مسلم لیگ کو باقی رکھا ۔ دس سال پہلے  وہ بھی ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے ۔وہ ابھی اس پارٹی کے ایم ایل اے ہیں ۔مسلم لیگ ہے یا نہیں کہنا بھی مشکل ہے اب ایسے وقت میں جب مغربی بنگال میں بی جے پی نمبر دو پارٹی بن چکی ہے۔ اسدالدین اویسی مغربی بنگال میں قسمت آزمائی کیلئے ارادہ بنا چکے ہیں یہاں بھی مسلمانوں میں سیاسی انثارپیدا ہو سکتاہے۔ مسلمانوں کے اندر سیاسی انتشار سے بی جے پی کو فائدہ ہے۔ اس لئے وہ اس طرح کے انتشار کے لیے چشم براہ رہتی ہے ۔جو الزام ات اویسی صاحب پر لگا ئے جاتے ہیں اس سے قطع نظر اویسی صاحب کی پارٹی یہ حقیقت ہے کہ بی جے پی کی جیت کے راستے کو آسان بنا تی ہے۔
 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS