عبیداللّٰہ ناصر: بھاگوت سے گفتگو تو ٹھیک لیکن قومی یکجہتی کونسل کی میٹنگ ضروری

0

عبیداللّٰہ ناصر

گزشتہ دنوں ملک کی چند ممتاز مسلم شخصیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق شیخ الجامعہ اور فوج کے سابق سینئر افسر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ، سابق آئی اے ایس افسر اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر رہ چکے نجیب جنگ، سابق چیف الیکشن کمشنر وائی ایس قریشی، ممتاز صحافی اور سیاست داں شاہد صدیقی، سماجی اور ملی کارکن سعید ہاشمی نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کر کے ان سے ملک کے مسلمانوں کو درپیش مسائل پر گفتگو کی۔ ویسے تو موہن بھاگوت جی کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے لیکن چونکہ وہ حکمراں جماعت کے نام نہاد پریوار کے سربراہ ہیں، ا س لیے ان سے ان مسائل پر گفتگو مناسب بھی تھی اور ضروری بھی کیونکہ اگر وہ چاہیں اور ایمانداری سے قومی اور ملکی مفاد میں کوئی سخت موقف اختیار کریں تو ہندوتو کے نام پر سڑک پر ہورہی فرقہ وارانہ غنڈہ گردی سے لے کر ایوان اقتدار اور ایوان انصاف تک مسلمانوں کے ساتھ جو تفریق برتی جا رہی ہے، جن غیرقانونی اور غیرآئینی اقدام اور سزاؤں سے انہیں دو چار ہونا پڑتا ہے، جس طرح ملک میں انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی مہم چل رہی ہے، جس طرح ان کے لیے عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا ہے، جس طرح ان کے آئینی اور انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، ان کے خلاف سماج میں نفرت کا جو ماحول پیدا کیا جارہا ہے جس طرح کھلے عام ان کی نسل کشی کی بات کی جا رہی ہے، بات بات پر انہیں پاکستان بھیجا جا رہا ہے، ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کیا جا رہا ہے، آئین اور قانون کو طاق پر رکھ کر ان کی تاریخی عبادت گاہوں کو مندر میں تبدیل کرنے کی مہم چل رہی ہے، انہیں کافی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ اس لیے ان اکابرین کی اس پیش رفت سے ہم جیسے عام مسلمانوں کو خاصی امیدیں ہو گئی تھیں اور یہ اطمینان تھا کہ کوئی حل نکلے یا نہ نکلے لیکن کم سے کم ہمارا درد، ہماری تکلیفیں، ہمارے احساس ہم پر ہورہے مظالم اور ہمارے ساتھ ہورہے معاندانہ سلوک اور ہمیں دشمن سمجھنے کی جو مہم چل رہی ہے، اس سے ایک ایسے شخص کو آگاہ کیا جائے گا جو دنیا کی سب سے بڑی تنظیم کا سربراہ ہے جس کے اشارہ پر ملک میں حکومتیں بنتی اور بگڑتی ہیں اور جس کی زبان سے ہمار ے لیے نکلنے والے ہمدردی کے ایک بول سے ہمارے زخموں پر مرہم لگ جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق ان اکابرین نے گفتگو شروع ہونے سے پہلے ہی بھاگوت جی پر واضح کردیا کہ وہ یہاں مسلمانوں کے نمائندہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکر مند شہری کے طور پر آئے ہیں کیونکہ ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور سماج کے ایک طبقہ کو نشانہ بنا کر یا اسے الگ تھلگ کر دینے سے ملک کی ترقی رک جائیگی، خوشحالی دور چلی جائے گی، اس کے لیے افہام و تفہیم ضروری ہے تاکہ جو باہمی غلط فہمیاں ہیں، ان کا ازالہ ہوسکے، انہیں دور کرلیا جائے۔ ظاہر ہے کوئی بھی ذی فہم شخص اسے غلط نہیں کہہ سکتا اور نہ اس ضرورت سے انکار کرسکتا ہے کہ سماج میں انتشار، باہمی عدم اعتماد اور فرقہ وارانہ چپقلش ختم کرنے کے لیے گفتگو ہی واحد راستہ ہے اور یہ سلسلہ مسلسل چلتے رہنا چاہیے۔لیکن یہاں سوال اس بات کا ہے کہ جو تنظیم گزشتہ100برسوں سے مسلمانوں کے خلاف غلط فہمیاں پھیلاتی رہی ہو، اس کے لیے تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہو، جو تاریخ میں ہوئے حقیقی اور خیالی مظالم کا بدلہ آج کی جنریشن سے لینا چاہتی ہو، جو سیکڑوں سال سے ہندوستان میں مسلمانوں کے وجود کی ہر نشانی کو مٹانے کے درپے ہو اور جس کا سیاسی وجود ہی مسلم دشمنی پر منحصر ہو، کیا وہ واقعی اپنے نظریات، اپنی پالیسی اور اپنی شناخت سے سمجھوتہ کرکے محض قومی مفاد میں اب تک کے اپنے سب کیے دھرے پر پانی پھیر دے گی۔خبروں کے مطابق بھاگوت جی نے کہا کہ وہ مسلمانوں کو ہندوستانی سماج کا حصہ سمجھتے ہیں اور انہیں ان کے طرز عبادت سے کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن انہیں مسلمانوں کی جانب سے ہندو ؤں کو کافر کہے جانے اور گائے کا گوشت کھانے پر اعتراض ہے اور جہاد کے تعلق سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔مسلم اکابرین یا بقول خود ان ہی حضرات کے فکرمند شہریوں کے اس گروپ نے بھاگوت جی سے کہا کہ مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے، ان کی لعن طعن کی جاتی ہے، یہ سب ناقابل قبول ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بس یہی چند باتیں آج مسلمانوں کے مسائل ہیں؟ کیا ان حضرات کو وہ تمام باتیں، وہ تمام مسائل، تمام نا انصافیاں، تمام تفریق اور سماجی الگاؤ کا پتہ نہیں جو مسلمان روزمرہ کی زندگی میں جھیلتا ہے۔
سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ عام مسلمان کبھی کسی مذہب کے بارے میں کوئی نازیبا بات نہیں کہہ سکتا، دوسرے ہندی کافر کی تشریح پر کھرے بھی نہیں اترتے کیونکہ ان میں بھی ایک بڑا طبقہ ایک ایشور واد(وحدانیت) پر یقین رکھتا ہے، دوسرے انہیں مشرک تو کہا جا سکتا ہے کافر نہیں، اس لیے مسلمانوں پر یہ الزام نہ تو سماجی اوردنیوی طور سے درست ہے اور نہ ہی مذہبی طور سے۔ یہ صرف آر ایس ایس کے معاندانہ پروپیگنڈہ کا حصہ ہے جیسے 72حوروں اور غزوہ ہند، یہ دونوں الفاظ2014کے بعد یعنی مودی دور کے شروع ہونے کے بعد سکہ رائج الوقت بنے، اس سے پہلے شاید ہی کسی نے حوروں کی اس تعداد اور اس غزوہ کے بارے میں سنا ہو۔رہ گئی گائے کا گوشت کھانے کی بات تو بھاگوت جی کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یو پی بہار وغیرہ میں گئوکشی پر آزادی کے بعد ہی پابندی لگ گئی تھی، چوری چھپے کہیں گئوکشی ہوجاتی ہو تو وہ الگ بات ہے اور اب تو ملک کے زیادہ تر حصوں میں یہ قانون نافذ ہے کہ اگر کہیں اس کی خلاف ورزی ہو جاتی ہے تو یہ غیر قانونی ہے اور پولیس اس پر کارروائی بھی کرتی ہے حالانکہ آئین میں کسی کے کھانے پینے پر پابندی لگانے کا کوئی جواز نہیں ہے پھر بھی برادران وطن کی اکثریت کے جذبات اور ان کی آستھا کا دھیان رکھتے ہوئے مسلمانوں نے کبھی اس قانون کی مخالفت نہیں کی، سب جانتے ہیں کہ شہنشاہ بابر نے ہمایوں کو گئوکشی پر پابندی لگانے کی نصیحت کی تھی اور ویسے بھی اسلام میںمادہ جانوروں کے ذبیحہ سے اجتناب کا مشورہ دیا گیا ہے کیونکہ اس سے نسل آگے بڑھتی ہے۔
ان اکابرین ملت یا فکر مند شہریوں سے ملاقات کے بعد موہن بھاگوت جی آل انڈیا امام کونسل کے سربراہ مولانا عمیر الیاسی سے بھی ملاقات کرنے ان کی مسجد میں واقع گھر بھی گئے۔ یہ سوال پورے ملک میں گشت کر رہا ہے کہ آخر بھاگوت جی کو ان نام نہاد مسلم اکابرین سے ملاقات کی ضرورت کیوں پیش آئی۔کیا وہ واقعی ملک کے بکھر رہے سماجی تانے بانے کو لے کر فکر مند ہیں، کیا انہیں یہ احساس ہے کہ نفرت کی جو چنگاری برسوں سے بھڑکائی جا رہی ہے، وہ شعلہ اور جوالہ بن کر ملک کو ہی خاکستر کرنے کے درپے ہو چکی ہے اور واقعی اگر انہیں اس کی فکر ہے تو پھر انہیں آر ایس ایس کے نظریہ پر نظر ثانی ہی نہیں کرنی ہوگی، اسے ترک کرنے کا ببانگ دہل اعلان کرنا ہوگا۔۔۔ تو کیا بھاگوت جی اپنی تنظیم کی سو سال کی محنت اور لاکھوں پرچارکوں اور سویم سیوکوں کی قربانیوں پر پانی پھیرنے کو عین اس وقت تیار ہوجائیں گے جب ان کے خوابوں کا ہندوستان شرمندۂ تعبیر ہونے کو ہے، حالانکہ وہ ہندوستان کیسا ہوگا، اس کا تصور کرکے ہی مسلمان ہی نہیں، ہر ذی ہوش انسانیت نواز شخص کانپ جاتا ہے یا اس کی اور کوئی وجہ ہے جس کا تجزیہ ضروری ہے۔
سماج کے ایک بڑے طبقہ کا جس میں ممتاز صحافی، دانشور، سماجی اور سیاسی کارکن شامل ہیں، خیال ہے کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جس طرح ملک میں ملک کے ہی آئین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، انصاف کو مذاق بنا دیا گیا ہے، حقوق انسانی کی مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے، ان سب پر عالمی برادری نظر رکھ رہی ہے۔ حقوق انسانی ہوں، اقلیتوں کے حقوق، جمہوری قدروں کی پاسداری، مذہبی آزادی، پریس کی آزادی، ان سب میں ہندوستان کی عالمی رینکنگ تیزی سے گررہی ہے، خاص کر اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کو لے کر ہندوستان پر حقوق انسانی کی عالمی تنظیمیں سخت نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ سلسلہ نہ رکا تو ہندوستان پر پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں تو کہیں عالمی برادری میں ہندوستان کی ساکھ بچانے کے لیے ہی موہن بھاگوت جی نے ملاقاتوں کا یہ سلسلہ تو نہیں شروع کیا ہے۔
وجہ کچھ بھی ہو، افہام و تفہیم کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت تو یہ ہے کہ وزیراعظم قومی یکجہتی کونسل کی میٹنگ بلا کر ان امور پر کھل کر مباحثہ کریں چونکہ اس کونسل کی میٹنگ صرف وزیراعظم ہی بلا سکتے ہیں، اس لیے ان پر کونسل کی میٹنگ طلب کرنے کا دباؤ سبھی سیاسی پارٹیاں اور سماجی تنظیمیں بنائیں۔یہ میٹنگ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی و سیاسی تجزیہ نگار ہیں)
[email protected]