قلب میں سوز نہیں،روح میں احساس نہیں

0

زین شمسی

سعودی عرب سے صدا آئی ہے کہ تبلیغی جماعت دہشت کا دروازہ ہے۔ ایسی ہی صدائیں بلکہ بے ہنگم شور ہم کورونا کی شدت کے دوران ہندوستانی ٹیلی ویژن میں بیٹھے نفرت کے سوداگروں سے بھی سن چکے ہیں کہ تبلیغ کے جماعتی ہندوستان میں کورونا جہاد پھیلانے کے لیے دہلی کے مرکز میں چھپے بیٹھے ہیں۔ ان میں سے ایک اینکر جو سب سے زیادہ مولانا اور ملا کی رٹ لگائے ہوئے تھا، وہ شراب پی کر ابھی کچھ دن پہلے اپنے ہی چینل پر جھومتا نظر آیا اور ذلیل و خوار ہوا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد متھرا کی مسجد پر بھی قبضہ کرنے کی مہم شروع ہو چکی ہے۔ گڑ گائوں اور نوئیڈا جیسے مقامات پر نمازپر پابندی کی خبریں خوب وائرل کی جا رہی ہیں۔ خوف کا سایہ مسلمانوں کو اپنے حصار میں لیتا جا رہا ہے اور یہ اور بھی گہرا ہوتا جائے گا۔اس سے باہر نکلنے کی تمام تدابیر ہمارے پاس موجود ہیں، لیکن ہم ہوش میں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔غیروں کے فتوے کو برداشت کرتے کرتے اپنوں کے فتوے کابم اچانک ہمارے سامنے آگراہے۔
تبلیغی جماعت جو میوات سے شروع ہوئی وہ بین الاقوامی تنظیم بن کر انڈونیشیا اور ملیشیا تک پہنچی اور سعودی عرب کے بیشترخطہ میں اس کی کامیاب موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی ضرورت عالم اسلام کو ہے، ورنہ اس کی مقبولیت ایک علاقہ تک سمٹ کر رہ جاتی ہے۔ باوجود اس کے کہ اس تنظیم کا نہ تو آئی ٹی سیل ہے اور نہ ہی اشتہاری شعبہ۔اس جماعت پر موساد، سی آئی اے سے لے کر ہندوستان کی انٹلیجنس کی نظریں اس کی شفافیت کی دلیل ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب یہ جماعت جے این یو میں داخل ہوئی تو میرے بہت سارے ہندو دوستوں نے اس میں شرکت کی اور اس کے بعد اس جماعت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ جماعت یوں ہی چلتی رہی تو مسلمان کبھی ترقی نہیں کرسکیں گے کیونکہ اس کی تبلیغ زمین کے لیے ہے ہی نہیں اور اس جماعت کے بارے میں کہابھی جاتا ہے کہ یہ جماعت مسلمان کو ہی مسلمان بنانے کے لیے سرگرم ہے اوربھٹکے ہوئے اور مذہب سے لاتعلق مسلمانوں میں احیا کا بیج بونے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ کون لوگ ہیں کیسے لوگ ہیں؟ جو اللہ پاک کی راہ میں چلا کھینچتے ہیں اور دنیاوی عمل و نام نہاد ترقی انہیں اپنی طرف نہیں کھینچ پاتی۔ کبھی کبھی تو واقعی لگتا ہے کہ یہی اللہ والے ہیں اور کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ نہیں اسلام یہ نہیں ہے کہ دنیا میں آئو اور جنت میں جانے کے لیے سوچنا شروع کرو۔ دنیا کی بھی اپنی ذمہ داری ہے۔ بہر حال آپ خواہ اس جماعت پر کسی بھی طرح کا الزام لگا دیں، لیکن یہ الزام جو سعودی عرب سے آیا ہے، یہ بے بنیاد تو ہے ہی، دور رواں میں ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے خطرہ بھی ہے، کیونکہ ایک دفعہ اس پر نفرت کے سوداگروں کی یلغار ہو چکی ہے۔
لیکن ایسا ہواکیوں؟ دراصل سعودی عرب کبھی نہیں چاہے گا کہ اسلام کی تبلیغ و تشہیر میں اس کے علاوہ اور کوئی بھی جماعت و تنظیم اپنے پر پھیلائے۔ دنیا بھر کے مسلمان ان پر غیر یقینی طور پر منحصر ہیں۔ ان کی طرف امید کی نظر وںسے دیکھتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ دنیا کے مسلمانوں کو جب بھی ان سے مدد کی امید ہوتی ہے، وہ خاموش رہتا ہے۔آج جب پوری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک عام ہے ایسے میں سعودی عرب اپنے قول اور فعل کے ساتھ اپنی ڈفلی بجاتا ہوا نظر آتا ہے۔ ماڈرن دنیا کا عیاشانہ خون اس کے منہ میں لگ چکا ہے۔ دبئی کو دیکھ لیجیے، وہاں کی حکومت کودیگر مذاہب کے لو گوں سے مسئلہ نہیں ہے مگر مسلمانوں کے ہی کچھ فرقے سے پرابلم ہے۔ سعودی عرب کی خارجہ حتیٰ کہ داخلہ پالیسی میں امریکہ کا ہر سو دخل اس کا مقدر بن چکا ہے۔ ساتھ ہی اسلامی سرگرمیوں میں وہ کسی بھی غیر عرب کی دخل اندازی بھی برداشت نہیں کرتا۔ خواہ وہ ترکی ہو یا ایشیا و افریقہ براعظم۔ ان کے حقائق سامنے آتے جا رہے ہیں۔
ہم مسلمان ضرور ہیں، لیکن عرب نہیں ہیں۔ ہم غیروں کے ساتھ رہتے ہیں، ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ ہمارے یہاں بھی مسلکی اختلافات ہیں۔ ہم شیعہ سنی لڑتے بھی ہیں، لیکن ایک دوسرے کو اسلام سے خارج نہیں کردیتے۔ ایشیا اور افریقہ کے مسلمانوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اسلام کی بنیاد ضرور خلیج میں ہوئی لیکن اس کا استحکام غیر عرب میں زیادہ مشکلوں کا سامنا کرتے ہوئے مناسب طریقے سے ہوا۔
اگر عرب ہمارے رہبر ہیں توآخر وہ کیوں نہیں سوچتے کہ مسلمان جو ٹکڑوں میں تقسیم ہوئے، اس کے پیچھے کون سی طاقت ہے۔کیا اس نے کبھی کوئی لائحہ عمل بنایا۔آگے بڑھ کر دنیا بھر کے مسلمانوں پر ہو رہے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ امیر ترین ملک ہونے کے ناطے مسلمانوں کو روزگار میں ترجیح دی۔ آپ کا تو فرض تھا کہ آپ پوری دنیا کے مسلمانوں میں اتحاد قائم کرنے کے لیے قدم اٹھاتے۔ مسلکی بیماریوں سے نجات دلانے کی حکمت عملی بناتے، نا کہ ہندوستان سے شروع تبلیغی جماعت پربے بنیاد الزامات تھوپتے۔
آپ مانیں یا نہ مانیں،یہ ہندوستانی مسلمان ہی ہیں جو دنیا کو رہبری دے سکتے ہیں۔بس مسلمانوں کو کچھ آسان باتیں سمجھنی ہوں گی کہ دیوبندی، اہل حدیث، شیعہ، بریلوی میں لاکھوں اختلاف سہی لیکن اس روئے زمین پر یہ سارے لوگ اللہ پاک کے نام لیوا ہیں۔رسول کریمؐ کے پیروکار ہیں۔اسی طرح تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی، امارت شریعہ، جمعیۃ علماء ہند و دیگر مقامی و قومی ملی تنظیمیں و ادارے کسی نہ کسی طرح قوم کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ان میں آپ سو برائیاں تلاش کر لیں مگر دس خوبیاں بھی موجود ہوں گی۔ اس لیے ان کے نظریے اور ان کے کام پر تبصرہ کرنے کے بجائے ہمیں اور آپ کو بھی ملی خادم بننا چاہیے۔ سرکار اوردوست نما دشمنوں کو کوسنے سے پہلے خود کا احتساب کیجیے تو یقینی طور پر قصور ہمارا ہے کہ ہم نے خود کو خود سے کمزور کر لیا۔
مسجد کی ضرورت اور اہمیت کو پھر سے عام کرنا ضروری ہے۔ مسجد دین اور دنیا کے درمیان کا پل ہے۔ جن لوگوں نے اسے مقدس اور روحانی شکل دینے کی بات کہی ہے وہ دراصل اسلام کی دنیوی ذمہ داریوں سے امت کو دور رکھنا چاہتے ہیں۔مسجد ایک پلیٹ فارم ہے جو مسلمانوں کے چندے سے تعمیر ہوتی ہے مگر چنندہ لوگوں کے قبضہ میں چلی جاتی ہے۔مسجد مسافر، مہاجر اور متعکف لوگوں کی پناہ گاہ ہے۔جب اس کے گنبد و مینار سے دنیا کو دیکھا جائے گا تبھی اسلام بھی اپنی شکل میں تابندہ رہے گا اور مسلمان بھی باوقار طور پر زندہ رہے گا۔اسے ہر حال میں ملی پارلیمنٹ بنایا جائے۔ اس پر بحث شروع کی جانی چاہیے۔کسی بھی طرح کا اجتماعی کام کرنے سے پہلے محلے کے افراد مسجد میں جمع ہوں۔ وہاں نوٹس بورڈ ہو جس پر ہر کوئی اپنے مسائل لکھ سکے۔خطبہ کا نصف حصہ قوم کے دانشوران اور ماہرین سماجیات کو دیا جانا چاہیے تاکہ وہ عصری سیاسی پیچیدگیوں سے ملت کو آگاہ کر سکیں۔مدرسے ہم نے بہت بنا لیے اب مساجد کے احیا کا وقت ہے۔ اسی مسجد سے غیر قومیں متاثر ہوتی رہی ہیں۔ اب بھی ہوں گی۔ اس بات پر غور نہ کیا گیا تو امت محمدیہؐ امت سعودیہ بن کر رہ جائے گی۔
(مضمون نگار سینئر صحافی ہیں)
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here