عیسائی تنظیموں نے جبراً تبدیلی مذہب کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا

0

گواہاٹی، (پی ٹی آئی) :مشنری کے کاموں میں مصروف رہنے کے الزام کے سبب 10 یوروپی سیاحوں کو آسام سے ان کے اپنے ملکوں میں واپس بھیجے جانے کے تقریباً ایک ماہ بعد شمال مشرق کی ایک بڑی عیسائی تنظیم نے جمعہ کو تبدیلی مذہب کے ’جھوٹے الزامات‘ کو لے کر تشویش ظاہر کی۔ اسے کمیونٹی کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے ’یونائیٹڈ کرشچین فورم آف نارتھ ایسٹ انڈیا‘ (این ای آئی) نے کہا کہ اس نے ذات، مسلک، نسل سے اوپر اٹھ کر سماج کے سبھی طبقات کےلئے تعلیم، صحت اور سماجی ترقی کے شعبوں میں خدمات پیش کی ہیں۔
این ای آئی کے ترجمان الین بروکس نے ایک ریلیز میں کہا کہ ’تبدیلی مذہب کے بارے میں خبروں سے ہمیں بہت تشویش ہوئی ہے۔‘ کاﺅنسل آف بیپٹسٹ چرچ ان نارتھ ایسٹ انڈیا، چرچ آف نارتھ ا نڈیا، پریسوائٹیرین چرچ آف انڈیا، نارتھ ایسٹ کرشچین کاﺅنسل (سبھی پروٹسٹنٹ چرچ) ، ایونجلیکل فیلو شپ آف انڈیا (پیٹینکوسٹل چرچ) اور علاقائی کیتھولک بشپ کانفرنس آف نارتھ ایسٹ انڈیا (شمال مشرقی ہند کے سبھی کیتھولک گرجا گھر) سمیت خطہ کے سبھی گرجا گھروں کی نمائندگی کرنے والے عیسائی رہنماﺅں نے اس معاملے پر بات چیت کرنے کےلئے جمعرات کو یہاں میٹنگ کی۔ بروکس نے کہا کہ ’کسی بھی طرح کی جبراً تبدیلی مذہب کی سب سے پہلے مذمت ہم نے کی ہے لیکن ساتھ ہی ہم ہر شہری کے اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی مذہب کو چننے کے حق کی بھی تصدیق کرتے ہیں جس کی گارنٹی آئین کے آرٹیکل 25-28 کے تحت دی گئی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہماری کمیونٹی کو بدنام کرنے کے ارادے سے جبراً تبدیلی مذہب، دھوکہ یا لالچ دے کر تبدیلی مذہب کرنے کا الزام لگانا صحیح نہیں ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ایسے الزامات ہمارے سماج کو تقسیم کرنے کی سوچی سمجھی منشا سے لگائے جاتے ہیں۔‘ واضح رہے کہ کئی دائیں بازو کی تنظیموں نے اکثر عیسائی مشنریوں پر خاص طور پر غریب آدیواسیوں کی جبراً یا لالچ دے کر تبدیلی مذہب کرنے کا الزام لگایا ہے۔ حال ہی میں 10 یوروپی شہریوں کو آسام سے ان کے اپنے اپنے ملک بھیج دیا گیا تھا کیونکہ وہ مبینہ طور پر مشنری سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ ان میں سے 3 سویڈن کے اور 7 جرمنی کے تھے۔