سدھو دہلی طلب،سینئررہنماؤں سے کریں گے ملاقات

0
image:www.indiablooms.com

نئی دہلی (یو این آئی) :پنجاب اسمبلی انتخابات سے پہلے پارٹی کے ریاستی کانگریس میں ہنگامے کے ذمہ دار خیال کیے جانے والے پارٹی کے ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو جمعرات کو یہاں تنظیم کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اور سینئر لیڈر ہریش راوت سے یہاں ملاقات کریں گے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور پنجاب کے انچارج ہریش راوت نے منگل کے روز بتایا کہ مسٹر سدھو کو دہلی بلایا گیا ہے۔ وہ جمعرات کے روز مسٹر وینوگوپال اور ان کے ساتھ پنجاب کی موجودہ صورتحال اور کانگریس کی طاقت کے بارے میں بات چیت کریں گے۔مسٹر راوت نے ٹوئٹ کیا کہ پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو 14اکتوبر کو شام 6 بجے یہاں کانگریس ہیڈ کوارٹر میں مسٹر وینوگوپال جی کے دفتر میں مجھ سے اور مسٹر وینوگوپال جی سے ملاقات کریں گے اور پنجاب کانگریس سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔سدھو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے ساتھ اپنے تنازع کی وجہ

سے کافی عرصے سے سرخیوں میں ہیں۔ کیپٹن کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسٹر سدھو کی وجہ سے ہی انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا اور کانگریس کی قیادت نے چرنجیت سنگھ چنی کو ان کی جگہ وزیر اعلیٰ بنا دیا ہے، لیکن فی الحال ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ نئے وزیر اعلیٰ چنی کے ساتھ بھی مسٹر سدھو کی رسہ کشی جاری ہے۔پنجاب کانگریس میں تنازع کی سب سے بڑی وجہ سمجھے جانے والے مسٹر نوجوت سدھو نے چند روز پہلے ہی ریاستی کانگریس کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جسے اب تک منظور نہیں کیا گیا ہے ۔ ان کی وجہ سے وزیراعلیٰ بھی بدلا گیا، لیکن مسٹر سدھو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اب بھی ناراض ہیں اور وہ نئے وزیراعلیٰ سے بھی نہیں مل رہے ہیں۔ اسی بدلے ہوئے ماحول میں کانگریس نے انہیں دہلی طلب کیا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ چونکہ اسمبلی انتخابات قریب آرہے ہیں، پارٹی اب انہیں پرسکون رہنے کی وارننگ دے سکتی ہے۔ کیپٹن امریندرسنگھ نے مسٹر سدھو کو پنجاب کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ناقابل بھروسہ آدمی ہیں۔ اس دوران یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ مسٹر سدھو دوبارہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں۔ کانگریس کا ایک طبقہ عام آدمی پارٹی کے ساتھ ان کے ملنے کی بات کر رہا ہے ۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here