ناٹو کی توسیع اور ہندوستان

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

’ناٹو‘ نامی فوجی تنظیم میں اب یوروپ کے دو نئے ممالک بھی شامل ہوجانے جارہے ہیں۔ یہ ہیں-فن لینڈ اور سویڈن۔ اس طرح 1949میں امریکہ کی پہل پر بننے والی 15ممالک کی اس تنظیم کے اب32ممبر ہوجائیں گے۔ یوروپ کے تقریباً تمام اہم ممالک یکے بعد دیگرے اس فوجی تنظیم میں شامل ہوتے گئے کیونکہ وہ سرد جنگ کے دور میں سوویت یونین سے اپنا تحفظ چاہتے تھے اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد انہیں خود کو خوشحال بنانا تھا۔ فن لینڈ، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ جان بوجھ کر فوجی گروپوں سے علیحدہ رہے لیکن یوکرین پر ہوئے روسی حملے نے ان ممالک میں بھی شدید خوف پیدا کر دیا ہے۔ فن لینڈ تو اس لیے بھی خوفزدہ ہے کیونکہ وہ روس کی شمالی سرحد پر واقع ہے۔ روس کے ساتھ اس کی سرحد1340کلومیٹر کی ہے جو ناٹو ممالک سے دوگنی ہے۔ فن لینڈ پر حملہ کرنا روس کے لیے یوکرین سے بھی زیادہ آسان ہے۔ یوکرین کی طرح فن لینڈ بھی روسی سلطنت کا حصہ رہا ہے۔ سینٹ پیٹرس برگ سے ماسکو جتنی دور ہے، اس سے بھی کم فاصلہ(400کلومیٹر) پر فن لینڈ ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد فن لینڈ غیرجانبدار ہوگیا لیکن سویڈن تو گزشتہ200برس سے کسی بھی فوجی اتحاد میں شامل نہیں ہوا۔ اب یہ دونوں ممالک ناٹو میں شامل ہونا چاہتے ہیں، یہ روس کے لیے بڑا دھچکا ہے۔
دوسری جانب جنوبی کوریا بھی کواڈ میں شامل ہونے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ واقعات نئی عالمی گروپ بندی کے اشارے دے رہے ہیں۔ روس اور چین مل کر امریکہ کو مقابلہ دینا چاہتے ہیں اور امریکہ پوری دنیا کو اپنی چھتری تلے لانا چاہتا ہے۔ اگر فن لینڈ اور سویڈن ناٹو کی رکنیت کے لیے درخواست دیں گے تو بھی انہیں رکنیت حاصل کرنے میں ایک سال لگ سکتا ہے، کیونکہ تمام30ممالک کی رضامندی ضروری ہے۔ ناٹو کے سکریٹری جنرل نے ان دونوں ممالک کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ماسکو نے انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ روسی ترجمان نے کہا ہے کہ ناٹو کی یہ توسیع روس کی سیکورٹی کے لیے راست خطرہ ہے۔ روس خاموش نہیں رہے گا۔ وہ جوابی کارروائی کرے گا۔وہ فوجی، تکنیکی اور اقتصادی اقدامات بھی کرے گا۔ روس نے فن لینڈ کو گیس کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ وہ بحیرہ بالٹک کے ساحل پر ایٹمی میزائل نصب کرنے کی بھی تیاری کرے گا۔ ان تمام دھمکیوں کو سننے کے باوجود ان ممالک کے عوام کا رجحان ناٹو کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے70-80فیصد لوگ ناٹو کی رکنیت کے حق میں ہیں، کیونکہ ناٹو چارٹر کے سیکشن5میں کہا گیا ہے کہ ناٹو کے کسی ایک رکن پر کیے گئے حملہ کو تمام تیس ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اگر یوکرین ناٹو کا رکن ہوتا تو روس اس پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرتا۔ یوکرین کو اسی لیے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے کہ وہ ناٹو کا رکن نہیں ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ اب عالمی سیاست ایک بار پھر سے دو گروپوں میں تقسیم ہونے جارہی ہے۔ یہ کھیل طویل عرصے تک چلے گا۔ ہندوستان کو اپنے قدم پھونک پھونک کر رکھنے ہوں گے۔ ہندوستانی خارجہ پالیسی کو اپنی توجہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے پڑوسی ممالک پر مرکوز کرنی ہوگی۔ ان ممالک کو گروپ بازی کی سیاست میں پھسلنے سے بچانا ہندوستان کا ہدف ہونا چاہیے۔
(مصنف ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here