سری لنکا میں عبوری حکومت

0

قلت خوراک، معاشی بحران، انارکی اور خانہ جنگی سے تباہ حال سری لنکا میں 73سالہ ضعیف العمر سیاسی رہنما رانیل وکرما سنگھے کو وزیراعظم مقرر کیا گیا ہے۔ صدر گوٹ بایا راج پکشے نے ان کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال پر قابو پانے اور ملک کو انتشار کی طرف بڑھنے سے روکنے کیلئے تمام اقدامات کیے جارہے ہیں۔ صدر گوٹ بایاکا کہنا ہے کہ قرضوں میں ڈوبی معیشت اور سیاسی بحران کے استحکام کیلئے نئے وزیراعظم کا انتخاب کیا گیا ہے، اسی ہفتہ کابینہ تشکیل دی جائے گی جونوجوانوں پر مشتمل ہوگی اوراس میں راج پکشے خاندان کا کوئی فرد شامل نہیں ہوگا۔ وزیراعظم جلد ہی پارلیمنٹ میں اکثریت اور عوام کا اعتماد حاصل کریں گے۔
عرصہ سے معاشی بحران کا سامنے کررہے سری لنکا میں چندیوم قبل حالات اس وقت انتہائی بدتر ہوگئے تھے جب حکومت مخالف مظاہرین کے پے درپے اقدامات سے خائف اس وقت کے وزیراعظم مہندا راج پکشے نے منتخب حکومت کو بے د خل کرتے ہوئے خود عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور جان کی امان کیلئے راجدھانی کولمبو سے سیکڑوں میل ٹرنکومالی کے ایک بحری اڈہ میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پناہ گزیں ہوگئے۔اس وقت سے سری لنکا میں کوئی حکومت نہیں تھی۔ صدرگوٹ بایا نے حزب اختلاف نیشنل یونائیٹڈ پارٹی کے رہنما رانیل وکرما سنگھے سے بات چیت کے بعد ایک معاہدہ کیا اور انہیں وزیراعظم مقرر کرکے کابینہ کی تشکیل کے کام پر مامور کردیا ہے۔ رانیل وکرما سنگھے ا س سے پہلے بھی5بار سری لنکا کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔2020 میں مہنداراج پکشے کے وزیراعظم بننے سے پہلے بھی رانیل ہی وزیراعظم تھے۔70کی دہائی میں سیاست میں قدم رکھنے والے رانیل 1993میں پہلی بار وزیراعظم بننے سے پہلے دوسری حکومتوں میں خارجہ، محنت اور روزگار جیسی اہم وزارتیں بھی سنبھال چکے ہیں۔ الگ پارٹی میں رہتے ہوئے بھی انہیں سری لنکا کے صدر گوٹ بایا راج پکشے اور مہندا راج پکشے کا قریبی بتایاجاتاہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں صدر نے وزیراعظم مقرر کیا ہے۔
راج پکشے خاندان کے برخلاف رانیل وکرما سنگھے چین کے مقابلہ ہندوستان سے زیادہ قریب ہیں۔ ان کے وزیراعظم بننے سے یہ امید ہے کہ ہندوستان کے ساتھ سری لنکا کے رشتے مزید بہتر ہوں گے۔ سری لنکا کے نئے وزیراعظم کے طور پرحلف لینے کے بعد ہندوستان نے اپنی اس پرامیدی کا باقاعدہ اظہار بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ ہندوستان ، جمہوری طریق کار کے مطابق تشکیل دی گئی سری لنکا کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہے۔نئے وزیراعظم وکرما سنگھے نے بھی ہندوستان کی خیرسگالی کا نہ صرف مثبت جو اب دیا بلکہ 1948میں آزادی کے بعد سب سے بڑے معاشی بحران میں ہندوستان سے ملنے والی مالی امداد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دور حکومت میں ہندوستان کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ خود بھی سنگین معاشی بحران، بے روزگاری، مہنگائی کے شکار ہندوستان، اپنے پڑوسی ملک سری لنکا کوآسان قرض کی شکل میں جنوری2022سے اب تک 3ملین امریکی ڈالر کی مالی مدد کرچکا ہے۔
سری لنکا میں مہینوں سے ہورہے عوامی احتجاج، مظاہرے، تشدد اور انارکی پر قابو پانے اور سیاسی استحکام لانے میں رانیل وکرماسنگھے کتنے کامیاب ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن مہنداراج پکشے کا استعفیٰ دے کر پناہ گزین ہوجانا اور رانیل کی بحیثیت وزیراعظم نامزدگی سری لنکا کے عوام کی کامیابی ہے۔ یہ سری لنکا کے غریب ، پسماندہ اور محروم عوام کے احتجاج کا ہی اثر تھا جس کے آگے ظالم حکمراں کی ایک نہ چلی اوراسے استعفیٰ دینا پڑا حتیٰ کہ اتحادیوں نے بھی مہنداراج پکشے کا ساتھ چھوڑ دیا۔ صدر گوٹ بایا نے نئی حکومت بنانے میں عوام کی خوشنودی کا بھی خیال رکھاہے اور اپنے خاندان والوں اور قریبی اتحادیوں کو حکومت او رکابینہ سے دور کھنے کا اعلان کیا ہے۔ سری لنکا میں یہ تبدیلی عوام کی طاقت کا اظہار ہے۔ ہندوستان کی پالیسی اور اصول بھی یہی ہے کہ کسی بھی ملک میں کس طرح کی حکومت ہو، یہ وہاں کے عوام کا حق ہے۔اسی اصول پر ہندوستان نے اس وقت عمل کیاتھا جب 2007-2008میں پڑوسی ملک نیپال میں وہاں کے راجہ کے خلاف عوام نے بغاوت کردی تھی۔ ہندوستان کاموقف رہاہے کہ عوام کی امنگوں کے مطابق ہی کسی ملک میں حکومت کا نظم ہوناچاہیے۔ سری لنکا میں نئے وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے کی تقرری عوام کی ان ہی امنگوں کی ترجمان ہے اور ہندوستان نے اس کا خیرمقدم کرکے اپنی پالیسی کا اظہار کردیا ہے۔ اب وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے کو جلد سے جلد عوام کا اعتماد حاصل کرنا اورسری لنکا کو سیاسی و معاشی بحران سے نکالنے کیلئے راہ عمل طے کرنا ہوگا۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here