وہ کیسے مارا گیا جو نہ تھا محاربوں میں

0

عبدالسلام عاصم

غربِ اردن کے جنین میں اسرائیلی فوج کی کارروائی اورفوج پر بندوقوں اور دھماکہ خیز اشیاء سے مبینہ حملے کے دوران برسر موقع خبر نگاری میں مصروف الجزیرہ کی صحافیہ شیریں ابوعاقلہ فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوگئیں۔ حالات کے اس اندوہناک موڑ پر ایک دوسرے صحافی کو بھی گولی لگی۔وہ شدید زخمی بھی ہوا، باوجودیکہ اُس کی حالت ابھی کل تک مستحکم بتائی گئی ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ شیریں ابوعاقلہ اسرائیلی فوج کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ کی زد میں آگئی تھیں۔ انہیں نازک حالت میںاسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا سکیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ خبر نگاری کرنے والے دونوںصحافی فلسطینی بندو ق برداروں کی فائرنگ کی زد میں آئے ہوں۔ واقعے کی چھان بین کی جارہی ہے۔
اقوام متحدہ، یوروپی یونین اورعرب ملکوں نے بھی متوفی صحافیہ کی ہلاکت کی آزادانہ، مکمل اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اس ہلاکت کی فوری اور مکمل تفتیش کی اپیل کی ہے تاکہ قصورواروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے جہاں متوفیہ کی ہلاکت کی شفاف چھان بین کیلئے دونوں فریقوں پر تحقیقات میں حصہ لینے کے لیے زور دیا ہے اور اسرائیلی وزیراعظم نیفتالی بینیٹ نے فلسطینی مقتدرہ سے مشترکہ پوسٹ مارٹم اور تفتیش کرانے کی اپیل کی ہے، وہیںاقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر نے اسرائیل کی اس اپیل کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ جرائم میں ملوث لوگوں کی طرف سے اس معاملے کی انکوائری کی پیش کش قبول نہیں کی جا سکتی۔
اسرائیل اور احتجاجی فلسطینیوں کے مابین وقفے وقفے سے اس طرح کی جو خونریز لڑائیاں دہائیوں سے جاری ہیں، وہ دونوں طرف سے منظم انداز میں نہیں ہوتیں۔ ایک طرف اسرائیلی فوجی دستے منصوبہ بند کارروائی کرتے ہیں تو دوسری طرف سے بیشتر حملے غیر متوقع طور پر کیے جاتے ہیں جن میں نشانہ بند فائرنگ کی گنجائش کم ہوتی ہے۔نتیجے میں غیر ضروری جانی نقصانات کو ٹالنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کی بالادستی اور انصاف کیلئے فلسطینیوں کی جد و جہد سے آگاہ ہمسایوں کے علاوہ علاقائی اور عالمی طاقتیں دہائیوں پر محیط اس تنازع کا معقول حل نکالنے میں مسلسل ناکام چلی آ رہی ہیں۔ بہ الفاظ دیگر یہ امنِ عالم کی وکالت کرنے والوں کے ماتھے پرایک ایسا داغ ہے جو امن پسندوں کی نظر میں دوٹوک قابلِ مذمت اور خدا کی طرف سے عین لائق سرزنش ہے۔
مسلح تنازعات کی خبر نگاری کے محاذ پرتازہ سانحے میں محض ایک صحافیہ کی موت نہیں ہوئی ہے، یہ اُس کوشش کی موت ہے جو دنیا کو حقائق سے باخبر کرکے اُس کے اندر معاملات کے تئیں بیداری پیدا کرنا چاہتی ہے۔ صحافت کا یہی ذمہ ارانہ کردار اس پیشے کو نہ صرف ایک جداگانہ شناخت عطا کرتا ہے بلکہ صحافیوں کو ذہنی طور پر ملکی سرحدوں سے ماورا ہوکر سرگرم عمل رکھتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ گولی کدھر سے چلی یا متوفیہ کو کس کی گولی لگی۔ سوال یہ ہے کہ وہ شخص قتل کیوں ہوا جو جنگ میں شریک نہیں تھا۔ جنگوں کی تاریخ ایسے اندوہناک واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں متنازع لوگ کم اور بے گناہ زیادہ مارے جاتے ہیں۔ ان واقعات کی مذمت کی تھکان ابھی ہم اتار بھی نہیں پاتے کہ پھر کوئی تازہ تکلیف دہ واقعہ سامنے آجاتا ہے۔ حال ہی میں یو کرین میں بھی اسی طرح ایک غیر متعلق زندگی کا زیاں ہوا تھاجس پر رونے والی آنکھیں ابھی تر ہی تھیں کہ پھر ایک زندگی اُس موت کے ہتھے چڑھ گئی جسے مدعو متحاربوں نے آپس میں ایک دوسرے کیلئے کیا تھا۔
دنیا پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے بعد اب بظاہر تیسری (علاقہ وار) عالمی جنگ قسطوں میں لڑ رہی ہے۔ اِن جنگوں میںنام نہاد مہذب اقوام نے اُن جنگلی درندوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جو تعمیر کے نام پر تجاوزات پسند انسانوں کی وجہ سے دن بدن بے گھر ہوتے جا رہے ہیں۔ جنگل کاٹ کر ، ندیاں پاٹ کراورمُضر کاربن اخراجات کے ذریعہ آب و ہوا میں تباہ کُن تبدیلی کا سبب بننے والے ہم انسانوں نے اپنی بے ہنگم ترقی سے اب تک جو کچھ پایا ہے وہ ہماری ہی ناعاقبت اندیشیوں کی وجہ سے تباہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ دوسری جانب ہم جن زمینوں کیلئے لڑ رہے ہیں جو بنیادی طور پر ہم میں سے کسی کی قومی ملکیت نہیں بلکہ اُس زندگی کی امانت ہے جس کے زیاں کا کاروبار ہم نے دور دور تک پھیلا رکھا ہے۔
دنیا کے تقریباً ہر فلسفے میں کہا گیا ہے کہ تنازعات ختم کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ درگزر سے کام لیا جائے۔ اختلافات اور جھگڑوں کے نتیجے میں ہلاکتوں اور بربادیوں کے ساتھ بدترین قومی اور معاشرتی تقسیم سے گزرنے والی دنیا کے کم وبیش تمام ہی خطوں کے رہنمایان یوں تو ہر پُر آشوب عہد میں اسی نسخۂ کیمیا سے استفادہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن محدود انسانی مفادات نے کبھی اس جذبے سے بڑے پیمانے پر استفادہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہب سے انتہاپسندانہ تعلق رکھنے والے حلقے صحتمند اختلاف پر ہمیشہ جامد اتفاق کو ترجیح دیتے ہیں اور اس طرح اپنے عقائد دوسروں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ بالعموم یہی تسلط پسندانہ جذبہ ماحول کو بگاڑتا ہے اور تشدد کو راہ دیتا ہے۔
اقوام متحدہ میں عالمی اور علاقائی نزاع پر اظہار خیال کرنے والے رہنما چونکہ ہماری طرح عام انسان نہیں بلکہ عصری دنیا کی قسمت طے کرنے والے ملکی اور حکومتی ذمہ داران ہوتے ہیں، اس لیے اُن کی باتیں سن کر خوشی کم اور حیرانی زیادہ ہوتی ہے۔ خوشی اُس وقت ہوتی جب وہ عام آدمی ہوتے، حالات سے دُکھی ہوتے اور ہماری طرح مذہبی انتہا پسندی کی نفی کرتے پھرتے۔ عالمی رہنمایان توپوری طرح با اختیار اور خاص لوگ ہوتے ہیں۔ وہ چاہیں توبہ بانگ دہل اُس نصاب سیاست کو بدل سکتے ہیںجس میں اتحاد کا ہر سبق نفاق سے آلودہ ہے اوریک جہتی کا ہر باب علیحدگی پسندانہ تذکرے کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے اگر اِس ایک نسخے کو عمل کی راہ مل جائے تو منظر نامہ یکسر بدل سکتا ہے کہ ’’کسی دو کے بیچ کوئی تیسرا ہرگز کوئی جھگڑا کھڑا نہیں کرتا،لیکن دو لوگوں یا حلقوں کے درمیان تنازع تیسرے کے لیے گنجائش ضرور نکال دیتا ہے‘‘۔
اس میں کوئی اختلاف نہیںکہ دنیا کے تمام اہم مذاہب کے پیشواؤں نے ایک ایسے نظم کی وکالت کی ہے جس میں بُرائی پر( جو فطری انسانی کمزوری ہے) اچھائی حاوی رہے (جو انسانی خاصہ ہے)۔ ابراہیمی ادیان کے پیشوایان نے بھی یہی انقلاب برپا دیکھناچا ہا تھا اور اپنی اس خواہش کی تکمیل کی کوشش میں انہوں نے ہر وہ قدم اٹھائے جن کا انہوں نے خود کو متحمل پایالیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اہل مذاہب ہر اچھی بات اور واقعے کو تذکرے کی محفل میں موضوع سخن بنادیتے ہیں اورآئندہ کے حوالوں کے لیے انہیں مجلد کتابوں کے اوراق میں جگہ دے دیتے ہیں۔ دوسری طرف اپنی عملی زندگی کوہم نے صرف اور صرف مذہبی رسوم کی ادا ئیگی تک محدود کر رکھا ہے۔ بدقسمتی سے یہ خسارہ آلِ ابراہیم اور بعض دوسرے مذاہب کا اتنا بڑا حصہ بن چکا ہے کہ اس سے فوری نجات کسی بھی آپریشن سے ممکن نظر نہیں آتی۔ ان سب کے باوجود بہر حال مایوسی کی گود میں پناہ لینے کے بجائے احتساب سے کام لے کر حالات کو بدلنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ اگر اس سچ کے حوالے سے یادداشت ا ب بھی برقرار ہے کہ اُمّتِ واحدہ کبھی انسانی پہچان ہوا کرتی تھی تومتصادم قوموں کے قومی رہنمایان سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے ذمہ داران پر لازم ہے کہ وہ اُس کی فوری احیا کی ضرورت عملاً شدت سے محسوس کریں۔
(مضمون نگار یو این آئی اردو کے سابق ادارتی سربراہ ہیں)
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here