جی ڈی چندن کی خدمات پر مزید کام کرنے کی ضرورت: عبد الماجد نظامی

0

’جی ڈی چندن کے100 سال اور اردو صحافت کے200 سال ‘ کے موضوع پرغالب اکیڈمی میں سمینار منعقد
محمدغفران آفریدی
نئی دہلی (ایس این بی) : غالب اکیڈمی نئی دہلی کی مجلس منتظمہ کے اراکین کی جانب سے اردو کے مشہورو معروف صحافی آنجہانی جی ڈی چندن کے 100 ویں یوم پےدائش اور اردو صحافت کے 200سال کے موقع پر غالب اکیڈمی میں یک روزہ سمینارکا انعقاد کیا گیا ، جس میں معروف دانشوروں،ادیبوں و صحافیوں نے شر کت کرتے ہوئے جی ڈی چندن کی حیات وخدمات پر گفتگو کی اور انہیں خراج عقےدت پیش کیا۔اس دوران 3 سیشن منعقد کئے گئے۔
آخری سیشن میں روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹرعبدالماجد نظامی نے اپنے صدارتی خطبہ میں غالب اکیڈمی کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ سمینار میں پڑھے گئے مقالے کتابی شکل میں آنے چاہئے ، تاکہ یہ تاریخی دستاویزبن سکے ۔ عبد الماجد نظامی نے چندن صاحب کی خدمات کے سلسلے میں کہاکہ جتنا کام ان کی شخصیت پر ہو نا چاہئے وہ نہیں ہوا ، مزید کام کر نے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے مزید کہاکہ ہم جواردو صحافت کا 200سالہ جشن منارہے ہیں وہ اچھی بات ہے ، لےکن آج ہمےں اپنا محاسبہ بھی کر نے کی ضرورت ہے، کیو نکہ جو تنظیمیں اردو زبان کے فروغ کیلئے کام کررہی ہیں ، ان کو بڑے پیمانے پر اور لوگوں کو جوڑنے کی ضرورت ہے ۔ عبد الماجد نظامی نے کہا کہ چندن صاحب پر فلسفیانہ طور پر لکھا جانا چاہئے، انہوںنے مزےد کہا کہ روزنامہ راشٹریہ سہارا نے 23 سال میں اردو صحافت کے سفرکو عروج پر پہنچا دیا۔ انہوںنے زور دے کر کہا کہ پاکستان کی قومی زبان ہو نے کے سبب ہندوستان میںاردوزبان کے ساتھ استحصال ہوا ،مگر اب ہماری ذمہ داری کافی اہم ہے، حالانکہ مختلف سروے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اردوزبان بولنے والے پاکستان سے زیادہ ہندوستان میں موجود ہیں ،البتہ ہمیں میکانزم ولائحہ عمل تیار کرنا ہے ، کیونکہ اردوزبان میں صرف ہماری تہذیب وثقافت ہی پوشیدہ نہیں ہے ، بلکہ ہماری تاریخ بھی ہے ، جس کاتحفظ و بقاضروری ہے۔
قبل ازیںپہلے اجلاس میںشر کت کرتے ہوئے پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ اردو صحافت کا جشن غیر معمولی ہے، اردو صحافت اپنے قاری کے احساسات وجذبات کی لڑائی لڑتی ہے۔ اردو صحافت کا ہندوستان کی جنگ آزادی میں بڑا رول ہے جی ڈی چندن صاحب بڑے افسرتھے لوگوں کو جوڑنے میں یقین رکھتے تھے ہمیں چندن کی یاد کو آگے بڑھاتے رہنا چا ہیے۔ سینئر صحافی شکیل حسن شمسی نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ کاغذ کا استعمال اٹلی میں ہوا، 1435میں پرنٹنگ پریس وجودمیںآےا، انگریزی اخبار 1790 میں کلکتہ سے شائع ہوا،قابل ذکر ہے کہ اردو اخبار کی تاریخ میںسب سے بڑانام مولوی محمد باقر کا ہے، آج کی صحافت اورقدیم صحافت میں بہت فرق ہے، پہلے خبر رسائی کا ذریعہ نہیں تھا۔ آج کا صحافی خاموش تماشائی نہیں وہ سماج کو متاثر کرتا ہے۔
اس اجلاس میں معروف صحافی سہیل انجم نے اپنا مقالہ ’جام جہاں نما‘ پڑھتے ہوئے کہا کہ جام جہاں نما کا اجرا ایک نفسیاتی عہدمیںہوا،دو ماہ بعد جام جہاں نما فارسی میں لیکن جلد ہی فارسی کے ساتھ اردو ہندوستانی میں شروع کیا گیا،جی ڈی چندن کی کتابیں حوالے کے طور پر پیش کی جاتی ہیں اردو اخبار کی صف میں مولوی محمد باقر کا اخبار اہم تھا۔ اس موقع پر غالب اکیڈمی کے سرپرست ڈاکٹر جی آر کنول نے اپنی تقریر میں کہا کہ انگریزی میںپہلے ہفت روزہ نکلتا تھا، ادبی رسائل نہ ہوتے توادبی مباحث بھی نہ ہوتے۔ڈاکٹر کنول نے جی ڈی چندن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی خدمات کااحاطہ کیا۔عالمی سہارا اردوچینل کے ہیڈلئیق رضوی نے اپنے مقالہ میںکہا کہ الیکٹرانک میڈیا کی صحافت جداگانہ ہے اس میں دیکھنے اور سننے کا عمل ہوتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے اردو زبان اور صحافت پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ۔ پہلے اجلا س میں ” جی ڈی چندن کی نادر صحافتی تحریریں“ کتاب کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ اس موقع پر پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر احمد محفوظ، معروف ادیب ڈاکٹرفاروق ارگلی، اسد رضا ،ظفر انور، ڈاکٹر محمد یامین انصاری ،ڈاکٹر بیگم وسیم راشد، شاہ تاج،فرحت رضوی ،ایم عبدالباری مسعود، ابھے کمار ودیگر نے مختلف موضوعات پراظہارخیال کیا۔پہلے اجلاس کی نظامت ڈاکٹر شاداب تبسم نے کی،جبکہ دوسرے اجلاس کی نظامت عامر سلیم خان اور آخری اجلاس کی نظامت جاوید رحمانی نے کی۔بزرگ شاعر متین امروہوی نے بھی منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔آخر میں غالب اکیڈمی کے سکریٹری اور پروگرام کے روح رواں ڈاکٹر عقیل احمد نے اظہار تشکر کے فرائض کو انجام دےا۔