مولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے ہندوستانی مسلمانوں کی فکری قیادت کی

0

ماہنامہ الفرقان کے خصوصی شمارہ ’ذکر عتیق‘ کی رسم رونمائی کے موقع پر مقررین کا اظہار خیال
نئی دہلی (پریس ریلیز) مولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے ہندوستانی مسلمانوں کی فکری قیادت کی ہے۔ ماضی قریب کے ہندوستان میں ایسے چند ہی لوگ ملیں گے۔ وہ ہندوستان کی عام صورت حال اور مسلمانوں کے حالات سے اچھی طرح واقف تھے اور اسی امتیازی خصوصیت کی بنا پر مولانا کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ان خیالات کا اظہار ممتاز دانشور پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے ماہنامہ الفرقان کی خاص اشاعت’ذکرعتیق ‘ کی رسم اجرا کے موقع پر غالب اکیڈمی ، بستی حضرت نظام الدین ، نئی دہلی میں کیا۔سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے پروفیسرمحسن عثمانی نے یہ بھی کہا کہ مولانا عتیق الرحمن سنبھلی سے ہمیں ایسی عقیدت تھی اور ہے جیسی کسی طالب علم کو اپنے استاد سے ہوتی ہے۔ میں الفرقان اور ندائے ملت میں مولانا کے اداریے بہت شوق سے پڑھتا تھابلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے لکھنا اور خاص فکر اختیار کرنا ، مولانا مرحوم کے مضامین اور اداریہ پڑھ کر سیکھا تھا۔
صدارتی خطاب میںڈاکٹر سید فاروق نے کہا کہ مولانا ہر بات کو سلیقہ کے ساتھ بیان کرنے کا ہنر رکھتے تھے اور اسی وجہ سے ان کے پڑھنے والوں کا اپنا ایک حلقہ تھا۔مولانا اپنی تحریروں سے مخالفت کرنے والوں کا نہ صرف احترام کرتے تھے بلکہ ان کے ساتھ محبت کا برتائو بھی کرتے تھے۔مولانا کی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت کے لیے وقف تھی۔اس کے علاوہ کوئی دوسرا مشغلہ تھا ہی نہیں۔ ا?ج کی یہ تقریب مولانا کی شخصیت ، حیات و خدمات کے اعتراف میںاور انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی ہے۔
مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے تقریب رسم اجرا سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مولانا عتیق الرحمن سنبھلی حضرت والد ماجد کی پہلی اولاد تھے۔وہ ان کی اسلامی حمیت اور دینی غیرت کے سب سے بڑے وارث بھی تھے۔مولانا سنبھلی ان عبقری شخصیات میںتھے جن کی نظر ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل کے متعدد بلکہ متضاد پہلوئوں پر ہمیشہ رہتی تھی۔قرآن مجیدسے مولانا کو گہری مناسبت تھی۔ان کی تفسیر ’محفل قرآن‘ اس کا بہترین نمونہ ہے۔
مولانا رضی الاسلام ندوی نے محفل کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کا سب سے بڑا امتیاز ملت کے لیے ان کی دردمندی اورملک میں مسلمانوںکے حالات پرفکر مندی تھی۔وہ ملت اسلامیہ کے خلاف سازشوں پر اپنا دو ٹوک نظریہ رکھتے تھے۔انھوں نے نامساعد حالات میں بھی ملت اسلامیہ کی فکری رہنمائی کی۔
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر مولانا محمد جعفر نے کہا کہ مولانا ایک دیدہ ور صحافی ، محقق اور مفسر قرآن تھے۔محفل قرآن کے نام سے ان کی تفسیر 6جلدوں میں شائع ہوچکی ہے۔اس تفسیر میں طلبا، اہل علم اورعلما کے لیے بڑی بصیرت افروز رہنمائیاں موجود ہیں۔
ممتاز صحافی اور خبردار جدید کے اڈیٹر معصوم مرادآبادی نے کہا کہ ہم نے طالب علمی کے زمانے میں جو رسائل و جرائد پڑھے ہیں اور جنھوں نے ہماری ذہن سازی کی۔اس میں ماہنامہ الفرقان کا پہلا نمبر ہے۔ ’ذکرعتیق ‘ ماہنامہ الفرقان کی خصوصی پیشکش ہے۔اس کے مطالعہ سے مولانا سنبھلی کے طرز فکر سے واقف ہونے کا موقع ملے گا۔
بزرگ صحافی منصور آغا نے کہا کہ میرے لیے آج کی اس محفل میں شرکت باعث سعادت اس لیے ہے کہ آج کے زمانے میں کتنی محفلیں ایسی ہوتی ہیں جس میں کسی ’عتیق‘ کا ذکر ہو۔ مولانا عتیق الرحمن سنبھلی سے میرا تعلق قلبی تھا۔ ایمان کے بغیر اعمال کی کوئی حیثیت نہیںاور ایمان عمل کے ساتھ ہی کامل و اکمل ہوتا ہے۔
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کے بڑے بیٹے عبیدالرحمن سنبھلی نے مولانا کی خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اباجان نے ہر کام کو پورے اخلاص کے ساتھ صرف اللہ سے اجر کی امید پر کیا۔معروف اسلامی اسکالراورملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم اپنی مصروفیت کی بنا پر شرکت نہیں کرسکے لیکن انھوں نے اس موقع پر اپنا ایک پیغام بھیجا ، جسے سہیل انجم نے پڑھ کر سنایا۔
تقریب کی صدارت ڈاکٹر سید فاروق نے کی،جبکہ ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ کے صدر مولانا رضی الاسلام ندوی اور جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرمولانامحمد جعفر بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔مہمانوں کا استقبال جنیدالرحمن ندوی نے کیا۔نظامت کے فرائض مشہور صحافی سہیل انجم نے انجام دیے۔ مولانا احمد شیث ندوی نے قرآن پاک کی تلاوت کی۔