منی پور:خواتین ووٹر زیادہ مگر امیدوار کم

0

امپھال ،منی پور میں خواتین زیادہ تر شعبوں میں ہمیشہ آگے رہی ہیں لیکن انتخابات میں ایسا نہیں کہا جا سکتا۔ بڑی سیاسی پارٹیوں نے شمال مشرقی ریاست میں دو مرحلوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے صرف چند خواتین امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے ۔ منی پور میں مختلف پارٹیوں کی خواتین امیدواروں کو انتخابی جنگ میں کھڑا نہ کرنا اور بھی عجیب لگتا ہے ۔ یہ صورتحال ایک ایسی ریاست میں ہے جہاں خواتین ووٹروں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے ۔ اس کے علاوہ گزشتہ انتخابات میں مردوں سے زیادہ خواتین پولنگ اسٹیشن پر پہنچی تھیں۔ اس انتخاب کو انسانی حقوق کی معروف کارکن ارم شرمیلا کی انٹری کے بعد بین الاقوامی سطح پر شہرت ملی تھی، جو مسلح افواج کے خصوصی اختیارات ایکٹ(افسپا)کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے 16 سال تک بھوک ہڑتال پر تھیں۔ منی پور کی آئرن لیڈی نے مالوم قتل عام کے تین دن بعد 5 نومبر 2000 سے اپنی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ آسام رائفلز کے آٹھ اہلکاروں نے امپھال کے مالوم علاقے میں ایک بس شیڈ پر بس کے انتظار میں بیٹھے دس افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔انہوں نے 9 اگست 2016 کو اپنی بھوک ہڑتال ختم کی تھی اور اگلے سال تھوبل حلقہ میں اس وقت کے کانگریس کے وزیر اعلیٰ اوکرم ایبوبی کے خلاف الیکشن لڑا لیکن نتیجہ شرمیلا کے لیے دل دہلا دینے والا ثابت ہوا، انھیں صرف 90 ووٹ ملے ، جو کہ پانچ امیدواروں میں سب سے زیادہ تھے ۔
گوا:کجریوال نے قرض کو ایشو بنایا
آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے گوا کے ووٹروں سے پارٹی کے حق میں ووٹ دے کر ریاست کے لوگوں کی خدمت کرنے کا موقع دینے کی اپیل کی۔کجریوال نے کہاکہ میں گوا کے لوگوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں۔ یہ الیکشن ریاست کا مستقبل بدل سکتا ہے ۔ آپ نے کانگریس کو 27 سال، بی جے پی کو 15 سال دیے لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ اگر انہیں مزید 5 سال دیے جائیں تو حالات نہیں بدلیں گے۔ آپ نے دہلی میں بہت کام کیا ہے ۔ میں گوا کے لوگوں سے ایک بار آپ کو ووٹ دینے کی اپیل کرتا ہوں۔دہلی کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گوا پر 24,000 کروڑ روپے کا قرض ہے اور اگر کانگریس یا بی جے پی دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو قرض بڑھ کر 50,000 کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست کے عوام بی جے پی کو شکست دینا چاہتے ہیں تو انہیں آپ کو ووٹ دینا چاہیے۔ کجریوال کا کہنا ہے کہ اگر لوگ کانگریس کو ووٹ دیتے ہیں تو وہ بالآخر بی جے پی کو ہی جائیں گے۔ بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ایک ہیلی پیڈ ماپوسا میں کچھ ہی دیر میں تیار کیا گیا لیکن بس اسٹینڈ کا برسوں سے انتظار کیا جا رہا ہے ۔
یادو خاندان کا ایک اور فرد مہم میں کودا
سے کوسوں دور کھیتی باری کا لطف اٹھانے والے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے بانی ملائم سنگھ یادو کے بھائی ابھے رام سنگھ یادو نے اپنے چچا زاد بھائی شیو پال سنگھ یادو اور بھتیجے اکھلیش یادو کو ریکارڈ ووٹوں سے جیت دلانے کے لیے انتخابی مہم میں زور و شور سے اتر گئے ہیں۔ شیوپال سنگھ یادو اٹاوہ ضلع کی جسونت نگر اسمبلی حلقے سے ایس پی اتحاد کے امیدوار ہیں اور اکھلیش یادو ضلع مین پوری کی کرہل اسمبلی سیٹ سے ایس پی امیدوار ہیں۔ دونوں اسمبلی حلقے مین پوری پارلیمانی سیٹ کے تحت آتے ہیں اس لیے دونوں اسمبلی سیٹوں کی بہت اہمیت ہے۔مشن 2022 کے لیے خاندان کے تمام سیاسی چہرے اکھلیش یادو کو دوبارہ وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں، لیکن اس خاندان کے ایک رکن ابھے رام سنگھ یادو بھی ہیں، جن کا ان سے کوئی لگاؤ یا سروکار نہیں ہے ۔ پھر بھی اس بار انتخابات میں چھوٹے بھائی شیو پال سنگھ یادو اور بھتیجے اکھلیش یادو کے لیے تشہیر کرنے نکل پڑے ہیں۔ابھے رام سنگھ یادو کی سیاست میں دلچسپی کم ہے لیکن 78 سال کی عمر میں وہ اپنے بھتیجے اکھلیش یادو کے لیے گاؤں گاؤں عوامی رابطہ بھی کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہنے سے بھی نہیں چوکتے کہ اب چچا بھتیجا بھی ایک ہو گئے ہیں۔ اس بار ایس پی کی حکومت بننا یقینی ہے ۔ 10 مارچ کو جب اکھلیش یادو جیتیں گے تو ریاست میں خوشحالی آئے گی۔ اس سے پہلے شری ابھے رام سنگھ یادو کبھی بھی انتخابی مہم میں کہیں نظر نہیں آئے ، لیکن اکھلیش یادو کے مین پوری کی کرہل سیٹ سے الیکشن لڑنے کے اعلان کے بعد ابھے رام سنگھ یادو بھی انتخابی میدان میں کھڑے نظر آئے۔ ابھے رام سنگھ یادو کی انتخابی مہم کی اس لیے کافی قابل ذکر ہے کہ ابھے رام بدایوں سے سابق رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو کے والد ہیں۔
عام آدمی کے امیدواروں میں تبدیلی
آدمی پارٹی (اے اے پی) نے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لئے 12 امیدواروں کی ایک اور فہرست جاری کی جس کو شامل کرکے اب تک پارٹی 377 امیدواروں کے ناموں کااعلان کرچکی ہے ۔اے اے پی رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے ٹویٹ کرکے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا۔ فہرست میں اعظم گڑھ کے اترولیا سے رمیش کمار پانڈے کوامیدواربنایا گیا ہے ، جب کہ میہ نگرسے گیتانجلی راگھو، بلیا کے بیلتھرا روڈ سے دیانند رام، پھیفنا سے لکشمن سینگر، بھدوہی کے اورئی سے مہیندر کمار چودھری، دیوریا سے ہری نارائن چوہان، جونپور کے مچھلی شہر سے پریم چندرگوتم،جونپور کے مڑیاوں سے اچھے لال یادو، کشی نگر کے پڈرونا سے روی شنکر، سونبھدر کے ڈوڈی سے پشپا دیوی، سونبھدرکے گھوراول سے جے شنکر پانڈے اور سنت کبیر نگر کے خلیل آباد سے سبودھ یادو کو ٹکٹ دیا گیا ہے ۔پارٹی نے تین اسمبلیوں کے امیدواروں کو تبدیل کر دیا ہے ۔ نئے امیدواروں میں، اعظم گڑھ سے کرپاشنکر پاٹھک کو امیدواربنایا گیا ہے جبکہ دیوریا کی برہج اسمبلی سے گریندر پرتاپ یادو کو اور مہاراج گنج سے امرناتھ پاسوان کو ٹکٹ دیا گیا ہے ۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS