لکھنؤ:پروفیسرنصیر احمد خان کے انتقال پر تعزیتی اظہار

0

لکھنؤ:(یو این آئی)پروفیسر نصیر احمدخان بہترین استاد اور انسان دوست تھے۔لغت نویسی اور لسانیات کے میدان میں ان کی گراں قدر خد مات کبھی بھی فراموش نہیں کی جاسکتی ہیں۔لکھنؤ میں اردو زبان و ادب کے سلسلے میں ہونے والی ہر ادبی تقریب میں وہ ہمیشہ شرکت کرتے تھے۔ان کا یوں ہمارے بیچ سے چلا جانا یقینا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ان خیالات کا اظہار ہندی اردو ساہتیہ ایوارڈ کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اطہر نبی نے پروفیسر نصیر احمد خان کے انتقال پرمنعقد تعزیتی جلسہ میں کیا۔
مسیحا اردو سوسائٹی کے بانی ڈاکٹر مسیح الدین خان نے کہا کہ ہم نے ایک ایسی شخصیت کو کھودیا ہے جس نے اردو زبان و لسانیات کے حوالے سے اہم اور گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔لسانیات ان کی علمی و تدریسی دلچسپی کا خاص موضوع تھا۔ اردو زبان و لسانیات کیساتھ ساتھ انھوں نے ہندی لسانیات میں بھی ابھی اہم خدمات انجام دیں۔اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے والے پروفیسر نصیر احمد خان ایک ہردلعزیز شخصیت کے مالک تھے زبان و ادب کے میدان میں وہ بلا تکلف ہم سب کی رہنمائی فرمایا کرتے تھے۔معروف صحافی ضیاء اللہ صدیقی نے کہا کہ اردو اور جدید ہندی لغت کے تعلق سے ان کی ترتیب یافتہ کتاب ’اردو کی صوتی لغت‘اور’جدید ہندی۔اردو لغت‘یقینااردو زبان کے حوالے سے ایک دستاویزکی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا ادبی و علمی حلقہ وسیع تھا۔لسانیات ان کا پسندیدہ موضوع تھا اور اس میدان میں انہوں نے کئی کارہائے نمایاں انجام دیے۔
امیر الدولہ اسلامیہ ڈگری کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر یاسر جمال نے پروفیسر نصیر احمد خان کو تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان سے ایک ایسا استاد اٹھ گیا،ادبی و لسانی حلقے میں جس کی بھرپائی یقینا ناممکن ہے۔ لسانیات کے ساتھ ساتھ وہ برقی اورسوشل میڈیا کے دور میں اردو کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیے جانے کے پرزور حامی تھے۔ان کا ماننا تھاکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے وجود میں آنے والے ترسیل و ابلاغ کے تمام ذرائع کو بھرپور طریقے سے استعمال کرکے ہی ہم اردو کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ معروف ادیب و ماہر لسانیات اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی،دہلی کے ہندستانی زبانو ں کا مرکز،اسکول آف لینگویج،لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز کے سابق چیئرمین پروفیسرنصیر احمد خان کادہلی میں واقع ان کی رہائش پرگذشتہ منگل کو مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا تھا۔اس سے قبل وہ کو وِڈ۔19 جیسی مہلک وبا کو مات دے کر پوری طرح سے صحت یاب ہوگئے تھے اور پھر اچانک ان کی طبیعت بگڑنے پر ان کو ایمس دہلی میں داخل کیا گیا جہان جانچ میں پتا چلا کہ وہ جگر کے کینسرمیں مبتلاہیں۔تقریبا تین ہفتوں کی مدت تک انہیں اسپتال میں رہنا پڑا اور آخر کار وہ دارفانی سے کوچ کرگئے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here