فوجی شکنجے میں ڈھیل

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک
مرکزی حکومت نے آسام، ناگالینڈ اور منی پور کے بیشتر علاقوں سے افسپا یعنی ’آرمڈ فورسز اسپیشل پاورس ایکٹ‘ (AFSPA) کو ہٹا کر ایک قابل ستائش قدم اٹھایا ہے۔ 1958میں نہرو حکومت کو یہ قانون اس لیے بنانا پڑا تھا کیونکہ ہندوستان کے ان مشرقی سرحدی صوبوں میں کافی انارکی پھیلی ہوئی تھی۔ کئی باغی تنظیموں نے ان صوبوں کو بھارت سے علیحدہ کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔ انہیں عیسائیت کے فروغ کے نام پر مغربی ممالک بھرپور مدد فراہم کررہے تھے اور چین سمیت کچھ پڑوسی ممالک بھی ان کی فعال طور پر مدد کررہے تھے۔ اسی لیے اس قانون کے تحت ہندوستانی فوج کو غیر معمولی اختیارات دے یے گئے تھے۔ ان علاقوں میں تعینات فوجیوں کو حق دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی شخص کو ذرا بھی شک ہونے پر اسے گرفتار کر سکتے تھے، اس کی تفتیش کر سکتے تھے اور اسے کوئی بھی سزا دے سکتے تھے۔ انہیں کسی وارنٹ یا ایف آئی آر کی ضرورت نہیں تھی۔ ان فوجیوں کے خلاف نہ تو کوئی رپورٹ لکھی جا سکتی تھی اور نہ ہی ان پر کوئی مقدمہ چل سکتا تھا۔ دیگر الفاظ میں ان علاقوں کے لوگ ’مارشل لاء‘ کے تحت زندگی گزار رہے تھے۔ کئی معصوم اور بے گناہ لوگ بھی اس قانون کی گرفت میں آتے رہے ہیں۔ تقریباً ان تمام ریاستوں کی حکومتیں اس قانون کو ہٹانے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ اس قانون کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے منی پور کی اروم شرمیلا نامی خاتون نے16سال تک انشن کیا۔ یہ دنیا کا سب سے طویل اور غیر متشدد انشن تھا۔ حالاں کہ یہ قانون ابھی ہر علاقہ سے مکمل طور پر نہیں ہٹایا گیا ہے، پھر بھی 60فیصد علاقے اس سے مستثنیٰ کردیے گئے ہیں۔ گزشتہ سات، آٹھ برسوں میں انتہا پسندانہ پرتشدد واقعات میں 74 فیصد کی کمی آئی ہے۔ فوجیوں کی ہلاکتوں میں 60 فیصد اور عام شہریوں کی ہلاکتوں میں 84 فیصد کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال4دسمبر کو ناگالینڈ کے مون ضلع میں فوج کی اندھا دھند فائرنگ میں14افراد مارے گئے تھے۔ اس سانحہ نے مذکورہ قانون کو واپس لینے کے مطالبے میں مزید شدت پیدا کردی تھی۔سچ تو یہ ہے کہ مشرقی سرحد کے ان علاقوں میں اس قسم کا قانون اور پولیس کا آمرانہ رویہ انگریزوں کے دور سے چلا آ رہا تھا۔ مرکز کی مختلف حکومتوں نے وقتاً فوقتاً اس قانون میں تھوڑی بہت نرمی تو کی تھی، لیکن اب مرکزی حکومت نے اسے مکمل طور پر ہٹانے کا راستہ کھول دیا ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں ان علاقوں سے تقریباً 70,000عسکریت پسندوں نے خودسپردگی کی ہے۔تقریباً تمام ریاستوں میں بی جے پی یا اس کی حمایتی حکومتیں ہیں، یعنی مرکز اور ریاستوں کے درمیان یکسانیت اچھی ہے۔ 2020کا بوڈو معاہدہ اور2021کا کربی-آنگ لونگ پیکٹ بھی امن کے اس عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ امت شاہ خود ان علاقوں کے لیڈروں میں کافی سرگرم ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلے کچھ ہی برسوں میں یہ پسماندہ علاقے بھی دہلی اور ممبئی کی طرح خوشحال ہوسکیں گے۔
(مصنف ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]