ڈیم کی تعمیر سے ہریانہ کو نہ صرف بجلی ملے گی بلکہ پانی کی فراہمی بھی ہوگی: منوہر لال

0

چنڈی گڑھ (نعیم خان؍ ایس این بی) : ہریانہ حکومت نے یمنا ندی پر ہتھنی کنڈ ڈیم کے لیے قدم آگے بڑھایا ہے۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال نے جمعرات کو ہتھنی کنڈ ڈیم کی ابتدائی رپورٹ کو منظوری دے دی۔ انہوں نے پہلے ڈیم سے متعلق جائزہ میٹنگ کی، جس کے بعد انہوں نے ہریانہ کی آبپاشی اور آبی وسائل کے محکمے کی طرف سے تیار کردہ ابتدائی رپورٹ کو سینٹرل واٹر کمیشن کو بھیجنے کی منظوری دی۔ واٹر کمیشن کے علاوہ یہ رپورٹ 5 ریاستوں کو بھی بھیجی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہتھنی کنڈ ڈیم ہریانہ حکومت کا ایک پرجوش منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر میں یہ رپورٹ بہت اہم ہے۔ میٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ منوہر لال نے کہا کہ پانی زمین کا ایک انمول عنصر ہے۔ ہر سال برسات کے موسم میں پانی ضائع ہو جاتا ہے اور یمنا ندی کے علاقے میں سیلاب آ جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہریانہ حکومت نے ہتھنی کنڈ میں ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ڈیم کا کیچمنٹ ایریا تقریباً 11170 مربع کلومیٹر ہوگا۔ یہ ڈیم ہماچل پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے علاقے میں بنایا جانا ہے۔ اس کی تعمیر سے ہریانہ کو نہ صرف بجلی ملے گی بلکہ پانی کی فراہمی بھی ہوگی۔ ہتھنی کنڈ ڈیم کی سالانہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 763 ایم یو ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سنٹرل واٹر کمیشن کی ضرورت کے مطابق ڈی پی آر کی تیاری کے لیے سب سے پہلے سنٹرل واٹر کمیشن کی ’اصولی‘ رضامندی حاصل کی جائے گی اور اس کے لیے ابتدائی رپورٹ تیار کرنا ضروری ہے۔ اس ایپی سوڈ میں ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔ یہ رپورٹ اب سینٹرل واٹر کمیشن، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، اتر پردیش، راجستھان اور دہلی کو بھیجی جانی ہے۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال نے کہا کہ ہتھنی کنڈ ڈیم کی تعمیر سے آس پاس کے علاقے میں زیر زمین پانی بڑھے گا اور اس سے کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ یمنا ندی کے علاقے میں ہر سال بارش کے دنوں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ جس سے کسانوں کی فصلوں کو نقصان ہوتا ہے۔ ڈیم کی تعمیر سے سیلاب کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس ڈیم کی تعمیر کا فائدہ رینوکا، کساؤ اور لکھوار کو ملے گا۔ ان تینوں ڈیموںکا بیلنسنگ ریزروائر فنکشن ہتھنی کنڈ ڈیم کو ہی بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال نے کہا کہ یہ ڈیم نہ صرف بجلی اور پانی فراہم کرے گا بلکہ اسے سیاحت کا مرکز بھی بنایا جائے گا۔ کوئی بھی ڈیم سیاحت کے نقطہ نظر سے بھی اہم ہوتا ہے۔ جس علاقے میں یہ ڈیم بننے جا رہا ہے وہ انتہائی سر سبز اور فطرت کے قریب ہے۔ اسے سیاحوں کے نقطہ نظر سے بھی تیار کیا جائے گا۔