کشمیری صحافی سجاد پر لگایاگیاپی ایس اے

0
KashmirLife

سری نگر:جموں و کشمیر انتظامیہ نے 29 سالہ صحافی سجاد گل پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) نافذ کر دیا۔ پی ایس اے کے نفاذ کے دوران انتظامیہ نے عجیب دلیل دی کہ یہ حکومت کے اچھے کام کے بارے میںکم رپورٹنگ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ تعلیم یافتہ ہے، اس لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرکے لوگوں کو حکومت کے خلاف بھڑکا سکتا ہے۔ سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر میں صحافت کے طالب علم سجاد گل ایک مقامی خبر رساں ادارے دی کشمیر والا کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اسے جموں و کشمیر پولیس نے 6 جنوری کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے بارے میں شکایت درج ہونے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں ایک مارے گئے دہشت گرد کے اہل خانہ کوہندمخالف نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔سجاد گل کے خلاف3ایف آئی آر درج کی گئیں۔ باندی پوراکے سنبل میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے 15 جنوری کو اس کی ضمانت منظور کی تھی، لیکن اگلے ہی دن انتظامیہ نے پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ انڈین ایکسپریس کو باندی پوراکے ڈپٹی کمشنر اویس احمد کے دستخط شدہ ڈوزیئر ملا ہے۔ ڈوزئیر میں لکھا گیا ہے کہ آپ نے ہمیشہ سوشل میڈیا پر متنازع بیانات اور ٹوئٹس کیے ہیں اور بطور صحافی آپ یونین ٹیریٹری گورنمنٹ کی جانب سے کیے جانے والے اچھے کام کی رپورٹنگ کم کر رہے ہیں بلکہ آپ دشمنی اور عداوت کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔