ایس پی-آر ایل ڈی نے کھیلا مظفر نگر میں بی جے پی والا داؤ

0

مظفرنگر کی تقریباً 25 لاکھ کی آبادی میں تقریباً 42 فیصد مسلمان ہیں۔ اس کے 6 اسمبلی حلقے میں سے کسی پر بھی ایس پی-آر ایل ڈی اتحاد نے مسلم امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے۔ 2017 میں بی جے پی نے تمام سیٹوں پر ہندو امیدوار کھڑے کیے تھے اور کامیابی حاصل کی تھی۔
اترپردیش اسمبلی انتخابات میں اس بار مظفر نگر میں ایس پی-آر ایل ڈی کے لیے مساوات بدلتے نظر آرہے ہیں۔ مظفر نگر میں چھ اسمبلی حلقے ہیں اور ایس پی-آر ایل ڈی اتحاد نے اس بار ایک بھی مسلم امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے۔ نچلی سطح پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے مقامی اقلیتی رہنما ناراض ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض نشستوں پر اتحادی امیدواروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ 2017 کے انتخابات میں، مظفر نگر فسادات کی وجہ سے بی جے پی نے مغربی یوپی میں مضبوط برتری حاصل کی تھی اور 90 فیصد سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار ایس پی-آر ایل ڈی اتحاد نے مسلم اکثریتی ضلع مظفر نگر کی کسی بھی سیٹ پر کوئی مسلم امیدوار نہ دے کر بی جے پی کے پولرائزیشن کی شرط کو ناکام بنانے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایسا کرنے سے یہاں کیا اثر ہو سکتا ہے۔
مظفر نگر میں کانگریس نے دو مسلمانوں کو اور بی ایس پی نے تین کو میدان میں اتارا ہے۔ ایس پی-آر ایل ڈی کے مقامی لیڈروں کو خدشہ ہے کہ ان کے ذریعہ اقلیتی برادری کے امیدوار کھڑے کرنے سے ووٹوں کی تقسیم ہو سکتی ہے جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو پہنچے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مظفر نگر کی آبادی تقریباً 25 لاکھ ہے جن میں سے تقریباً 42 فیصد مسلمان ہیں۔ بی جے پی نے 2017 میں تمام سیٹوں پر صرف ہندو امیدوار کھڑے کرنے کے بعد کامیابی حاصل کی تھی۔ اس وقت بی ایس پی نے تین اور ایس پی نے ایک کو میدان میں اتارا تھا۔
اس الیکشن میں کانگریس اور بی ایس پی دونوں نے چارتھوال اور میراپور سیٹوں سے مسلم امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ بی ایس پی کے سابق ایم ایل اے مرسلین رانا نے، جو حال ہی میں آر ایل ڈی میں شامل ہوئے ہیں، دعویٰ کیا کہ آر ایل ڈی مظفر نگر میں مسلمانوں کو ٹکٹ دینا چاہتی ہے لیکن ایس پی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کسی بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہ دینے سے اتحاد مظفرنگر میں کم از کم تین حلقوں میں ہار سکتا ہے ، بی ایس پی امیدواروں کو زیادہ مسلم ووٹ مل سکتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس الیکشن میں مسلم ووٹر کس طرف اپنا ووٹ ڈالیں گے اور بی جے پی کی ایس پی آر ایل ڈی کی دائو کتنی کارآمد ثابت ہوگی۔ ایس پی-آر ایل ڈی نے بھلے ہی یہ شرط کھیلی ہو لیکن مقامی اقلیتی کارکن کہاں جائیں گے ، یہ کہنا مشکل ہو گا۔