مختلف طبقات کے لیے 77 فیصد تک ریزرویشن کا بل پاس

0

رانچی، (پی ٹی آئی) : جھارکھنڈ اسمبلی کے جمعہ کو منعقدہ یک روزہ خصوصی اجلاس میں مقامیت اور رزیرویشن سے متعلق 2 اہم بل پاس کیے گئے۔ اسمبلی نے 1932 کے کھتیان کی بنیاد پر ریاست میں مقامیت کی پالیسی طے کرنے اور پسماندہ طبقات کےلئے ریزرویشن 14 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کرنے کے فیصلے کے ساتھ مختلف طبقات کےلئے مجموعی ریزرویشن 77 فیصد کرنے کا ترمیمی بل صوتی ووٹ سے پاس کر دیا۔ اس کے بعد اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کر دیا گیا۔ جھارکھنڈ اسمبلی میں دونوں بل پاس ہونے پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا کہ ’آج کا دن جھارکھنڈ کی تاریخ میں سنہرے حرفوں میں لکھا جائے گا۔‘
اسمبلی کا خصوصی اجلاس آج شروع ہوتے ہی اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی کی جانب سے بھانو پرتاپ شاہی نے ایوان میں اعلان کر دیا کہ آج پیش کیے جانے والے دونوں بلوں کی پارٹی حمایت کرتی ہے۔ حالانکہ بی جے پی کی جانب سے دونوں بلوں میں مختلف ترامیم کی تجویز پیش کی گئی تھیں اور انہیں تفصیلی صلاح و مشورہ کےلئے اسمبلی کی خفیہ کمیٹی کو بھیجنے کی مانگ کی گئی تھی لیکن سبھی ترامیم اور خفیہ کمیٹی کو بلوں کوبھیجنے کی مانگ کو ایوان نے صوتی ووٹ سے خارج کرکے دونوں ترمیمی بلوں کو پاس کر دیا۔ اس سے قبل 14 ستمبر کو ہونے والی ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں 1932 کے کھتیان کی بنیاد پر ریاست میں مقامیت کی پالیسی طے کرنے کا فیصلہ کرنے اور پسماندہ طبقات کےلئے ریزرویشن 14 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کرنے کا اہم فیصلہ لیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ سورین نے میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا کہ ’ہماری سرکار کو کوئی ہلا نہیں سکتا، کوئی ڈگا نہیں سکتا۔‘ بی جے پی پر طنز کستے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی ریاست بنتے ہی اس وقت کی بی جے پی سرکار نے پسماندہ طبقات سے ان کا 27 فیصد ریزرویشن کا حق چھین لیا تھا جو انہیں آج جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی سرکار نے واپس دلایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سرکار کے استحکام کو لے کر اپوزیشن ریاست کے ماحول کو پراگندہ کر رہے ہیں جس سے مختلف طبقات میں اندیشہ ہے کہ ان کی سرکار اب گئی کہ تب گئی لیکن وہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ان کی سرکار کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاستی سرکار نے دونوں بلوں کو اسمبلی سے پاس ہونے اور گورنر کی منظوری کے بعد مرکزی سرکار کے پاس بھیجنے اور مرکزی سرکار سے یہ اپیل کرنے کا فیصلہ لیا کہ وہ ان دونوں قوانین کو آئین کی 9 ویں فہرست میں شامل کرے تاکہ انہیں ملک کی کسی عدالت میں چیلنج نہ کیا جا سکے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS