گورنروں کی مہم جوئی

0

کیرالہ حکومت نے بالآخرگورنر عارف محمدخان کوکیرالہ کلامنڈلم ڈیمڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے سے ہٹا دیاہے اور ان کی جگہ اب ادب و ثقافت کی دنیا سے وابستہ کسی اور شخص کو چانسلر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کیلئے کیرالہ حکومت کو یونیورسٹی کے قانون میں ترمیم کرنی پڑی ہے۔ کیرالہ کی ایل ڈی ایف حکومت اور گورنر عارف محمد خان کے درمیان سرکاری یونیورسٹیوں کے کام کاج اور وائس چانسلروں کی تقرری کے معاملات پر طویل عرصے سے تنازع ہے۔ تمل ناڈو کی ڈی ایم کے حکومت اور اس کے گورنر آر این روی کے درمیان ایسا ہی تصادم ہو رہا ہے۔ چند یوم قبل تمل ناڈوکی ڈی ایم کے کی حکومت نے صدرجمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو کو ایک خط بھی لکھا تھا، جس میں گورنر آر این روی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈی ایم کے نے خط میں لکھا ہے کہ گورنر جمہوری طور پر منتخب حکومت کے کام میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں اور فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔اسی طرح کاتنازع چند ماہ قبل مغربی بنگال کی حکومت اوراس وقت کے گورنر جگدیپ دھن کھڑ(موجودہ نائب صدر جمہوریہ) کے مابین بھی تھاجس کے بعد بنگال حکومت نے یونیورسٹیوں کے چانسلر کے عہدہ پر وزیراعلیٰ کو مقررکرنے کا باقاعدہ قانون بنایا۔
آئین کی رو سے گورنر بیک وقت ریاست کے آئینی سربراہ اور ریاست میں مرکزی حکومت کے نمائندے ہوتے ہیں۔ایک مضبوط مرکز اور وفاقیت کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں گورنرز کا کردار انتہائی اہم سمجھاجاتاہے۔ لیکن اب گورنر کے عہدے کا استعمال حزب اختلاف کی حکومت والی ریاستوں میں مرکزکا تسلط برقرار رکھنے کیلئے کیا جارہا ہے۔بعض اوقات تو راج بھون حزب مخالف کامرکز بن کر بھی سامنے آیا ہے۔ گورنر،ریاست کی منتخب حکومت کے فیصلوں سے بالاترہوکر اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرنے لگے ہیں۔آئینی عہدوں پر تقرری اور تعلیمی و تدریسی انتظامات میں بھی مداخلت کی شکایتیں بھی کم و بیش تمام ہی اپوزیشن ریاستوں کو ہیں۔حالانکہ گورنرز کویونیورسیٹیوں کاچانسلر بنانے اور انہیں بعض قانونی اختیارات تفویض کرنے کا بنیادی مقصد یونیورسٹیوں کو سیاسی اثر و رسوخ سے بچانا تھا لیکن کم ہی ایسا ہوا ہے کہ یونیورسیٹیوںکے انتظامی معاملات میں سیاست اور گورنر کا کردار زیر بحث نہ آیا ہو۔مختلف اوقات میں مختلف کمیشنوں نے اصلاحات کی ضرورت بتاتے ہوئے گورنر کے کردار پر تبصرہ تک کیا ہے۔تقرریوں میں گورنر کے صوابدیدی اختیارات کوبھی اکثروبیشتر چیلنج کا سامنا رہاہے حتیٰ کہ جسٹس ایس آر سرکاریہ کمیشن بھی اسے نامناسب ٹھہراچکا ہے۔
گورنر کے آئینی کردار اور چانسلر کے انتظامی اختیار ات کے مابین ایک حد فاضل کی وکالت بھی کی جاچکی ہے اور یہ تک کہا گیاہے کہ گورنر کو ایسے اختیارات نہیں دیے جانے چاہئیں کہ ان کا دفتر تنازع یا عوامی تنقید کا نشانہ بنے۔ بوجوہ اصلاحات کے یہ مشورے ان سنے کردیے گئے تاہم اتنا ضرور ہواتھا کہ یہ رجحان کم ہونے لگاتھا۔ لیکن 2014میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد توگورنر مرکز کے باقاعدہ ایک ’آلہ‘ کے طور پر استعمال ہونے لگے۔ مقننہ میں حکومت کی اکثریت ثابت کرنے کیلئے وقت کامعاملہ ہویا پھر حکومت بنانے کیلئے کسی مخصوص جماعت کی حمایت، منتخب حکومت کے روزمرہ کے کام کاج میں مداخلت، مختلف بلوں کو روکنا یا واپس بھیجنا، حکومتی پالیسی پر عوامی رائے عامہ میں مداخلت کرنا،حتیٰ کہ اپوزیشن کی حکمرانی والی ریاستوں میںگورنر یونیورسٹیاں بھی چلانے کے خواہش مند ہوگئے۔ اور وہ مقصد ہی فوت ہوگیا جس کیلئے گورنر کو یونیورسٹیوں کا چانسلرمقرر کرنے کی تجویز ہے۔
اس کی اہم ترین وجہ وہ صوابدیدی اختیارات ہیںجو کسی گورنر کو ریاست میں حاصل ہوتے ہیں اور وہ ریاستی حکومت یا وزارتی کونسل کے مشورے کے بغیر صرف اپنی صوابدید سے استعمال کرسکتا ہے۔ یہ اختیارات ایسے ہیں کہ انہیں عدالت میں چیلنج بھی نہیں کیاجاسکتا ہے حتیٰ کہ عدالت بھی ان اختیارات کے استعمال پر سوال نہیں اٹھاسکتی ہے اور نہ گورنر جیسے آئینی عہدہ پر فائز ہونے کے بعد کسی شخص کے خلاف مقدمہ چلاسکتی ہے۔1976 میں 42ویں آئینی ترمیم کے بعد صدر کیلئے وزراسے مشاورت کاپابند ہونا طے کیا گیا تھا لیکن ریاستوں کے گورنر کے معاملے میںایسا کوئی انتظام اب تک نہیں کیا جاسکا ہے۔ ہندوستان ریاستوں کا ایک ایسا وفاق ہے جس کے آئین میں مرکز اور ریاستوں کے نظم و نسق سے متعلق الگ الگ انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس وفاقی نظام میں ریاستوں میں گورنر مرکز کا نمائندہ محض ہے۔لیکن آج گورنر، مرکز کی شہ اور اشارے پر اپنے اس ’آرائشی عہدہ ‘ پر مطمئن ہونے کے بجائے ’ مہم جوئی ‘ پرآمادہ ہیں۔ گورنروںکی یہ مہم جوئی ریاستوں میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کی نہ صرف توہین ہے بلکہ اسے ملنے والے عوامی مینڈیٹ کے تقدس سے بھی کھلواڑ ہے۔ان حالات میں اب ضروری ہوگیا ہے گورنرکو تفویض صوابدیدی اختیارات پر نظرثانی کی جائے۔
[email protected]