جاپان کا دوبارہ فوجی طاقت بننے کا عزم

0

اسد مرزا
’’جرمنی کے بعد جاپان روس-یوکرین جنگ اور بڑھتی ہوئی چینی جارحیت کے پس منظر میں اپنی فوج کو بہتر بنانے والا دوسرا ملک بن گیا ہے۔ایسا گمان ہوتا ہے جیسے روس- یوکرین جنگ نے بالواسطہ طور پر اور خطے میں چینی جارحیت نے براہِ راست جاپان کو ایک غیر فوجی ملک ہونے کے اپنے دیرینہ موقف کو ترک کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔‘‘
امن پسند جاپان نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی ایک ناقابل تصور $320 بلین فوجی تعمیرِ نو شروع کرے گا، جو اسے چین پر حملہ کرنے کے قابل میزائلوں سے مسلح کرے گا اور اسے ایک مستقل تنازعہ کے لیے تیار کرے گا کیونکہ علاقائی کشیدگی اور روس کے یوکرین حملے نے عالمی سطح پر جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔پچھلے ہفتے، جاپان نے قومی سلامتی کی ایک نئی حکمت عملی کی منظوری دی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ملک کی سب سے بڑی دفاعی تبدیلیوں میں سے ایک یہ ملک کے امن پسند نقطہ نظر سے ایک واضح تبدیلی ہے، جو کئی دہائیوں سے اس کے سیاسی مباحثے پر حاوی رہا ہے۔دراصل دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان نے اپنی فوجی طاقت صرف اپنے دفاع کو یقینی بنائے رکھنے کے لیے قائم رکھی۔لیکن اب اس فیصلے کے بعد وہ دوبارہ ایک فوجی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔
Fumio Kishida کی جاپانی حکومت کو خدشہ ہے کہ روس نے ایک ایسی مثال قائم کی ہے، جو چین کو تائیوان پر حملہ کرنے کی ترغیب دے گی،ساتھ ہی قریبی جاپانی جزائر کے خطرے میں اضافہ کرے گی اور اس کے علاوہ عالمی سطح پر عالمی کاروبار، عالمی سپلائی نظام اور تیل سپلائی کرنے والی سمندری راستوں پر ممکنہ ضرب لگا سکتی ہے۔
نئے جاری ہونے والے نیشنل سیکورٹی پیپر میں کہا گیا ہے کہ روس کا یوکرین پر حملہ ان قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے جو طاقت کے استعمال کو روکتے ہیں اور اس نے بین الاقوامی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور چین کی طرف سے درپیش اسٹریٹجک چیلنج جاپان کو اب تک کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
اپنے وسیع تر پانچ سالہ منصوبے اور نئی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں، جاپانی حکومت نے 16 دسمبر کو کہا کہ وہ جنگی ساز وسامان کے اسپیئر پارٹس اور دیگر جنگی سازوسامان کی بھی ذخیرہ اندوزی کرے گی۔ لاجسٹکس کو تقویت دے گی، سائبر جنگ کی صلاحیتوں کو فروغ دے گی، اور امریکہ کے ساتھ مزید قریبی تعاون میں اضافہ کرے گی۔ ساتھ ہی جاپان دیگر ہم خیال ممالک کے ساتھ جو کہ بین الاقوامی نظام کو لاحق خطرات کو روکنے کے لیے پابند ہیں۔
پڑوسیوں کا ردعمل
ہمسایہ ملک جنوبی کوریا نے قومی سلامتی کی حکمت عملی میںبیان کیے گئے، متنازعہ جزائر پر جاپان کے علاقائی دعوے کے خلاف سخت احتجاج درج کیا ہے، جبکہ ٹوکیو بے مثال فوجی تعمیر کے منصوبوں کا محتاط انداز میں جواب دیا ہے۔ جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے جاپان کی قومی حکمت عملی کی دستاویزات سے علاقائی دعووں کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے، ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان ”باہم دوستی پر مبنی تعلقات استوار کرنے” میں مدد کے لیے کچھ بھی موجود نہیں ہے۔ اپنی طرف سے، جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول جنہوں نے مئی میں عہدہ سنبھالا تھا، نے ٹوکیو کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، جو جزائر پر علاقائی تنازعات اور جاپان کے 1910-1945 کے کوریا پر قبضے سے پیدا ہونے والے تاریخی تنازعات کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔تاہم، صدر یون نے نومبر میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر جاپان کے لیے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا قابل فہم ہے۔
اسی دوران چین نے کہا ہے کہ بیجنگ کو الزام دیتے ہوئے اپنی فوجی تیاری کی پشت پناہی کرنے کا جاپانی منصوبہ’’ناکام ہو جائے گا۔‘‘ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا ہے کہ جاپان کی نئی دفاعی پالیسی حقائق کو نظر انداز کرتی ہے، چین-جاپان تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفاہمت کے عزم سے انحراف کرتی ہے اور چین کی دفاعی طاقت اور معمول کی فوجی سرگرمیوں کو بے بنیاد طور پر بدنام کرتی ہے۔ چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور اس نے سفارتی ذرائع کے ذریعے جاپانی فریق کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکی تعریف
امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے جاپان کی نئی قومی سلامتی اور دفاعی حکمت عملی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ-جاپان اتحاد کی بھی حمایت کرتی ہے۔ سلیوان نے جاپانی وزیر اعظم Fumio Kishida کے بین الاقوامی امن، جوہری عدم پھیلاؤ، اور یوکرین کے لیے حمایت سمیت ان کی قیادت کے عزم کی بھی تعریف کی۔
امریکہ کی طرف سے جاپانی فیصلے کا خیرمقدم کرنے کی وجہ دراصل وہ دفاعی نظریہ ہے، جسے وہ چین کو دیکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ امریکہ چین کو ’’واحد حریف کے طور پر دیکھتا ہے جس کا مقصد بین الاقوامی نظام کو نئی شکل دینے کا ارادہ ہے اور اس مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے اقتصادی، سفارتی، فوجی اور تکنیکی طاقت سبھی کا استعمال کرے گا۔‘‘
بڑے فوجی اخراجات کرنے والا تیسرا ملک
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، ماضی کی انتظامیہ کے تحت ناقابلِ تصور اس اقدام کو زیادہ تر ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ رائے عامہ کے کچھ سرووں کے مطابق تقریباً 70 فیصد ووٹر نئی حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں۔ کشیدا کا منصوبہ اگلے پانچ سالوں میں دفاعی اخراجات کو دوگنا کر کے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 2 فیصد تک لے جائے گا، اور وزارت دفاع کے حصے کو تمام عوامی اخراجات کے تقریباً دسواں حصہ تک لے جائے گا۔اس سے جاپان امریکہ کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا فوجی خرچ کرنے والا ملک بن جائے گااور چین بجٹ کی بنیاد پر دوسرا۔
کشیدا حکومت نے اپنے پانچ سالہ اخراجات کا روڈ میپ کسی تفصیلی منصوبے کے ساتھ پیش نہیں کیا ہے کہ انتظامیہ اس کی ادائیگی کیسے کرے گی، کیونکہ حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے قانون ساز اس بات پر بحث کرتے رہے ہیں کہ آیا اس مقصد کے لیے ٹیکس بڑھانا چاہیے یا قرض لینا چاہیے۔
نئی حکمت عملی کے تحت جاپان نئی فوجی صلاحیتیں حاصل کرے گا، جیسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل جو لانچ پیڈ پر دشمن کے میزائلوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اور وہ مستقبل میں سائبر اور خلا جیسے شعبوں میں ہائی ٹیک صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔یعنی کہ ان شعبوں میںجیسے کہ سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبے۔جن میں جاپانی مہارت پہلے ہی قائم ہے۔ مکمل طور پر، مستقبل قریب میں جاپان کی مسلح افواج تیزی سے بہت زیادہ مضبوط ہو جائیں گی۔
درحقیقت، جاپان جرمنی کے بعد دوسرا ملک بن گیا ہے جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد روس-یوکرین جنگ کے پس منظر میں فوجی طاقت کے تعلق سے اپنا موقف ترک کردیا ہے۔ لیکن قابلِ ذکر نکتہ یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں امریکہ نے دونوں حکومتوں کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، کیونکہ دراصل یہ فیصلے اسلحے کی صنعت کے لیے بڑے کاروبار میں تبدیل ہوں گے، جس کا فائدہ بائیڈن انتظامیہ کو بھی پہنچے گا۔مجموعی طور پر جاپانی فیصلہ ناوابستگی کے خاتمے اور ہتھیاروں کے بغیر عالمی امن قائم کرنے کی کوششوں کو ختم کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ، ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمزدبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ رابطہ کے لیے:
www.asadmirza.in)