پروفیسر اخترالواسع: ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد: مت سہل انہیں جانو!

0

پروفیسر اخترالواسع

آج ہم ایک ایسی شخصیت پر قلم اٹھانے جا رہے ہیں جو علی گڑھ تحریک کے بانیوں میں تو نہیں لیکن بلاشبہ اس کے معماروں میں اس کا شمار ہوتا ہے اور 23 دسمبر کو اس کے انتقال کے 75سال ہوچکے ہیں لیکن علی گڑھ والوں نے اس کو یہ عزت دی کہ جب انگلینڈ میں اس کا انتقال ہوا تو اس کی میّت کو ہندوستان منگوا کر سرسید کے پہلو میں دفن کیا۔ اس کے نام پر ایک اقامتی ہال کو معنون کیا اور اس نابغۂ روزگار شخص نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں میڈیکل کالج کے قیام کا جو خواب دیکھا تھا اس کے پیش نظر اپنے دینٹل کالج کا نام اس کے نام پر رکھا۔ اس ہمہ دم سرگرم اور ہمہ جہت اوصاف والی شخصیت کا نام ڈاکٹر سر ضیاء الدین تھا جو 13 فروری 1873 کو میرٹھ میں پیدا ہوئے اور 23دسمبر 1947 کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد نے ایک استاد کی حیثیت سے اپنی خدمات کا آغاز ایک اسسٹنٹ ماسٹر کے طور پر شروع کیا تھا۔ بعد میں وہ اسسٹنٹ پروفیسر، پروفیسر، صدرِ شعبہ، کالج پرنسپل، پرو وائس چانسلر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ میں سب سے طویل مدت تک دو دفعہ وائس چانسلر رہے اور بعد ازاں یونیورسٹی کے ریکٹر ہونے کا شرف اور امتیاز بھی حاصل کیا۔ علی گڑھ تحریک، ایم اے او کالج اور مسلم یونیورسٹی سے ان کا تعلق دو چار برس کی بات نہیں، نصف صدی کا قصہ ہے اور جب ایم اے او کالج کے اس وقت کے پرنسپل مسٹر تھیوڈور بیک نے یہ چاہا کہ انہیں ڈپٹی کلکٹر کا عہدہ قبول کرکے برطانوی سرکار کی خدمات انجام دینی چاہئیں، تو انہوں نے کالج کی خدمت اور قوم کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے اس منصب کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سرسید ان کے اس فیصلے سے بہت خوش ہوئے اور ان کو اضافی تنخواہ کے ساتھ آئندہ پانچ سال تک کالج میں استاد کی حیثیت سے کام کرنے کا معاہدہ لکھ کر دستخط کے لیے ان کی جانب بڑھا دیا۔ نوجوان ضیاء الدین نے معاہدہ پڑھ کر کہا ’’میں نے ڈپٹی کلکٹری کا منصب محض پانچ سال کی نوکری کے لیے نہیں چھوڑا بلکہ کالج کو اپنی زندگی وقف کر دینے کے لیے یہ بڑا فیصلہ لیا ہے۔ سرسید اس جواب سے خوش ہوئے اور معاہدہ چاک کر دیا۔
انہوں نے اپنی زندگی کا تدریسی سفر شروع ہونے کے بعد بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔ انہوں نے کلکتہ یونیورسٹی سے ریاضی میں ایم اے کا امتحان اول درجے میں پاس کیا۔ 1901 میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے ریاضی میں ہی بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ایم اے او کالج میں صرف تدریسی ذمہ داریوں تک اپنے کو محدود نہیں رکھتے تھے۔ وہ ایم اے او کالج کے متعلق مختلف ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی ادا کرتے رہے۔ انہوں نے اکتوبر 1901 میں کیمبرج یونیورسٹی لندن کے ٹرینیٹی کالج میں ریاضی کے طالب علم کی حیثیت سے داخلہ لیا اور مختلف علمی مراحل کو امتیازی طور پر طے کرتے ہوئے انہیں میتھ میٹیکل سوسائٹی آف لندن کا ممبر اور رائل ایسٹرو نامیکل سوسائٹی کا فیلو منتخب کر لیا گیا۔ نیز اس کامیابی کے سلسلے میں سر آئیزک نیوٹن اسکالرشپ کے لیے بھی منتخب کیا گیا اور یہ کسی بھی ہندوستانی کو دیا جانے والا ریاضی کا پہلا وظیفہ تھا۔ انہوں نے اپنے قیامِ یوروپ کے دوران گوٹنگن یونیورسٹی جرمنی سے 1905 میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ نیز پیرس یونیورسٹی فرانس اور بلوگنا یونیورسٹی اٹلی سے بھی ماڈرن جیومٹری کے مختصر کورس کیے۔
سر ضیاء الدین جو ابھی سر کے خطاب سے متصف نہیں کیے گئے تھے، مصر بھی گئے اور علم ہیئت کے ایک ماہر سے استفادہ کیا۔ انہوں نے اپنے قیام یوروپ کے دوران فرانسیسی، جرمن، عربی اور اطالوی زبانیں بھی سیکھیں۔اس دوران ان کو متعدد اعزازات، انعامات اور تعلیمی وظائف سے نوازا گیا۔ اعلیٰ درجے کی ملازمتوں کی پیش کش بھی ہوئی مگر انہوں نے سرسید سے جو وعدہ کیا تھا اسے نبھانے کے لیے وہ کمربستہ ہو گئے اور انہوں نے قومی خدمت کے آگے تمام دنیوی فوائد اور مناصب کو ٹھکرا دیا۔ انہیں ایم اے او کالج سے کیسی بے انتہا محبت تھی، اس کا اندازہ ان کے 1905کے اس خط سے ہوتا ہے جو انہوں نے سرسید کے جانشین اور کالج کے سکریٹری محسن الملک کو لکھا تھا کہ ’’علی گڑھ کالج کے متعلق پچھلے عرصے میں، میں نے تقریباً تیس مضامین مختلف اخباروں میں لکھے جس کا ایک عجیب نتیجہ یہ پیدا ہوا کہ لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ علی گڑھ کالج، جامعہ ازہر سے زیادہ عمدہ درسگاہ ہے۔‘‘ انہوں نے کالج سے متعلق جو مضامین لکھے غالباً وہ ایم اے او کالج کو یونیورسٹی بنانے میں مدد دینے کے لیے لکھے گئے تھے۔
ڈاکٹر سر ضیاء الدین کی علمی فتوحات،آراء اور ادارہ سازی کا اگر کسی کو اندازہ لگانا ہو تو وہ محمد امین زبیری کی مرتبہ لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد کی سوانح عمری ’’ضیاء حیات‘‘ پڑھے یا پھر اللہ بھلا کرے مشہور محقق شمس بدایونی کا جو قلم کے دھنی اور اپنی علمی کاوشوں کے لیے اہلِ علم میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، کی ترتیب دیے ہوئے سر ضیاء الدین کے تعلیمی سفرنامے اور دیگر مضامین کا مطالعہ کریں۔ ڈاکٹر شمس بدایونی نے یہ کتاب ترتیب نہیںدی ہے بلکہ انتہائی دیدہ ریزی اور بے پایاں لگن کے ساتھ ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد کی بازیافت کی ہے۔ وہ سر ضیاء الدین احمد جنہیں اپنی زندگی میں سرسیدِ ثانی کہا گیا، جو دنیا کے تمام عہدوں کی پیشکش کو ٹھکرا کر صرف علی گڑھ کے ہورہے، جنہوں نے لندن، ہالینڈ، جرمنی، فرانس اور مصر کے سفر بھی کیے لیکن وہ کہیں بھی رہے ہوں علی گڑھ کے سحر سے اپنے آپ کو کبھی آزاد نہ کر سکے۔ جو سفر انہوں نے کیے ان کی روداد اور دیگر تحریریں یہ بتاتی ہیں کہ وہ بھی علی گڑھ کی محبت میںکیے گئے تھے کہ دنیا کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب ملکوں اور معاشروں میں جو کچھ اچھا ہے، اس کو کس طرح علی گڑھ میں جمع کر دیا جائے۔
ڈاکٹر سر ضیاء الدین نے مغرب سے بھرپور استفادہ کیا لیکن وہ مغرب سے نہ تو مرعوب ہوئے اورنہ احساس کمتری کا شکار۔ وہ ان لوگوںمیں سے تھے جن کا مؤقف بقولِ اقبالؔ ہمیشہ یہ رہتا ہے کہ:
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر!
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ سر ضیاء الدین بعض حلقوں میں ہمیشہ متنازع فیہ بنے رہے لیکن اگر ایسا نہ ہوتا تو تعجب ہوتا کیوں کہ جو کچھ نہیں کرتے ان سے صرف ایک ہی شکایت ہوتی ہے کہ وہ کچھ نہیں کرتے لیکن جو ہر وقت نئے جہانوں کی آباد کاری میں لگے رہتے ہیں، ان سے دس طرح کی شکایتیں رہتی ہیں اور علی گڑھ میں ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد اکیلے تو نہیں ہیں۔ سرسید ہوں یا محسن الملک یا وقار الملک، ان سے پہلے بھی اپنوں اور غیروں کی مخالفتوں سے کون بچا ہے جو وہ محفوظ رہتے۔
بہرحال مشہور صحافی اور قلم کار محمد عارف اقبال کے بقول ’’سر ضیاء الدین احمد (1873-1947) کی پہچان ایک عظیم ریاضی داں، سرسیدِ ثانی اور ماہر تعلیم کی ہے۔ شمس بدایونی نے ان کی آخری حیثیت پر پڑے پردے کو اٹھانے کی کوشش کی ہے۔‘‘ ہم عارف اقبال صاحب کے ان لفظوں کی بھرپور تائید کرتے ہوئے شمس بدایونی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے نہ صرف ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد کی بازیافت کی، نئی نسل کو ایک بار پھر ان سے متعارف کرایا بلکہ اس کتاب کا انتساب علی گڑھ کی تاریخ، تہذیب اور تعلیم کے شیدائی اور دیوانے جناب مہر الٰہی ندیم اور فاضل لغت و تحقیق پروفیسر عبدالرشید (دہلی) کے نام کرکے جس طرح علی گڑھ کے ایک عاشق صادق اور اردو زبان و ادب کے ایک پارکھ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے، اس کے لیے بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے
پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز) ہیں۔)
[email protected]

 

 

Previous articleجاپان کا دوبارہ فوجی طاقت بننے کا عزم
Next articleحج مشن 2023: یکم جنوری سے درخواست فارم جاری ہونے کا امکان
Akhtarul Wasey (born September 1, 1951) is the president of Maulana Azad University, Jodhpur, India, and a former professor of Islamic Studies. He taught at Jamia Millia Islamia (Central University) in New Delhi, where he remains professor emeritus in the Department of Islamic Studies. Early life and education: Wasey was born on September 1, 1951, in Aligarh, Uttar Pradesh to Hairat bin Wahid and Shahida Hairat. He is the oldest of six children. Wasey attended Primary School No. 16, the City High School of Aligarh Muslim University, and Aligarh Muslim University where he earned a Bachelor of Arts (Hons.) in Islamic studies in 1971, a Bachelor of Theology in 1975, a Master of Theology in 1976, and an Master of Arts in Islamic studies in 1977. He also completed a short-term course in the Turkish language from Istanbul University in 1983. Career: On August 1, 1980 he joined Jamia Millia Islamia, Delhi as lecturer and worked there till 31 August 2016.Wasey was a lecturer, reader and professor at Jamia Milia Islamia University in New Delhi from 1980-2016, serving as the director of Zakir Husain Institute of Islamic Studies and later becoming head of the Department of Islamic Studies and Dean of the Faculty of Humanities and Languages. He is currently the president of Maulana Azad University in Jodhpur and remains a Professor Emeritus in the Department of Islamic Studies at Jamia Millia Islamia. In March 2014, Wasey was appointed by Indian President Shri Pranab Mukherjee to a three-year term as Commissioner for Linguistic Minorities in India, and became the first Urdu-speaking commissioner since 1957. Wasey is the editor of four Islamic journals: Islam Aur Asr-e-Jadeed; Islam and the Modern Age; Risala Jamia; and Islam Aur Adhunik Yug. Awards and honors: 1985 Award from Urdu Academy, Delhi and UP Urdu Academy on "Sir Syed Ki Taleemi Tehreek" 1996 Maulana Mohammad Ali Jauhar Award 2008 Fulbright Fellowship 2013 Padma Shri award from President Pranab Mukherjee of India 2014 Makhdoom Quli Medal from the President of Turkmenistan 2014 Daktur-e-Adab from Jamia Urdu, Aligarh