متھرا عید گاہ کا بھی ہوگا سروے

0

بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازع چل رہا تھا تو ایسا لگتا تھا کہ مذہبی مقامات کے سلسلے میں یہ آخری تنازع ہوگا، اس کے بعد کوئی تنازع سامنے نہیں آئے گا جبکہ اس وقت اس طرح کے بیانات بھی آتے تھے جن سے یہ خدشہ پیدا ہوتا تھا کہ مذہبی مقامات کے سلسلے میں یہ آخری تنازع نہیں ہوگا لیکن ملک کے قانون پر یقین رکھنے والوں کو یہ امید تھی کہ بابری مسجد-رام جنم بھومی جیسا کوئی اور تنازع پیدا نہیں ہوگا۔ کیا اب بھی یہ بات سوچی جا سکتی ہے؟ نہیں، بالکل نہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کب کون سا مذہبی مقام متنازع بنا دیا جائے گا اور عدالت اس پر سماعت کے لیے تیار ہو جائے گی، متھرا کی ایک مقامی عدالت نے شری کرشن جنم بھومی اور شاہی عیدگاہ تنازع پر سماعت کرتے ہوئے عید گاہ کا سروے کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ حکم ہندو سینا کے دعوے پر عدالت نے دیا ہے یعنی اترپردیش کے شہر وارانسی کی گیان واپی مسجد کے بعد متھرا کی شاہی عیدگاہ کا بھی سروے کیا جائے گا۔ اس سروے اور پھر اس کی رپورٹ پر آنے والے دنوں میں اگر بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے، ایک ماحول بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
عدالت شری کرشن جنم بھومی اور شاہی عیدگاہ کا سروے غالباً جلد از جلد کرانا چاہتی ہے۔ اسی لیے دو ہفتے کے اندر یعنی 2 جنوری، 2023 سے سروے کیا جائے گا اور اس کے امین کو اگلی سماعت سے پہلے سروے رپورٹ عدالت کے سپرد کرنی ہوگی۔ تنازع کی اگلی سماعت کے لیے عدالت نے 20 جنوری، 2023 کی تاریخ متعین کی ہے۔ مدعی کے وکیل شیلیش دوبے کے حوالے سے آنے والی خبر کے مطابق، ’ 8 دسمبر کو دہلی کے باشندے ہندو سینا کے قومی صدر وشنو گپتا اور نائب صدر سرجیت سنگھ یادو نے سول جج سینئر ڈویژن(سوم) کی جسٹس سونیکا ورما کی عدالت میں یہ دعویٰ کیا تھاکہ شری کرشن جنم استھان کی 13.37 ایکڑ زمین پر اورنگ زیب کے ذریعہ مندر توڑ کر عیدگاہ تیار کرائی گئی تھی۔‘ مدعی کے وکیل موصوف نے 1968 میں شری کرشن جنم استھان سیوا سنگھ بنام شاہی عیدگاہ کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کو بھی غیر قانونی بتاتے ہوئے اسے مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اپنی بات کو درست ثابت کرنے کے لیے اوربھی دلائل پیش کیے۔ ادھر ایک اور معاملے میں شری کرشن جنم بھومی مکتی نیاس کے سربراہ وکیل مہندر پرتاپ سنگھ نے یہ دعویٰ ایک بار پھر کیا کہ ’مغل حکمراں اورنگ زیب نے بھگوان کرشن کے مندر کو منہدم کرکے اس میں موجود ٹھاکر کیشو دیو کی مورتی کو آگرہ بھجوا کر لال قلعے کی مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے دبوا دیا تھا۔‘ اور فاسٹ ٹریک کورٹ سینئر ڈویژن نیرج گوڑ کی عدالت میں عرضی داخل کرکے یہ اپیل کی کہ ’بیگم صاحبہ کی مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے دبی ان مورتیوں کو نکال کر ٹھاکر کیشو دیو مندر میں قائم کیا جائے اور ایسا نہ ہونے تک ان سیڑھیوں پر سبھی کی آمدورفت بند کی جائے۔‘ عدالت اس معاملے کی سماعت 23 جنوری، 2023 کو کرے گی۔
اس طرح کے معاملے ایک نہیں، کئی ہیں۔ ایک طرف ایسی رپورٹیں آتی رہتی ہیں کہ عدالتوں پر کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور دوسری طرف اس طرح کے معاملوں کی سنوائی کے لیے عدالتیں تیار ہو جاتی ہیں تو کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس طرح کے معاملوں کو اہمیت دے رہی ہیں؟ یہ سوال جواب طلب ہے کہ اس طرح کے معاملوں کا سلسلہ کہاں جاکر رکے گا؟ سوال یہ بھی ہے کہ تاریخ کی اصلاح کی جارہی ہے یا نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے؟ بحث اگراسی بات پر کی جاتی رہی کہ ماضی میں کیا ہوا، کیوں ہوا تو پھر حال اور مستقبل کی چنوتیوں پر بحث کب کی جائے گی؟ ان سے نمٹنے کے اقدام کب کیے جائیں گے؟ وطن عزیز ہندوستان کیا اسی طرح وشو گرو بنے گا؟ آج تاج محل سے لے کر قطب مینار تک پر دعوے کیے جا رہے ہیں، کیا سارے معاملے دیربدیر کھلیں گے؟ ایسا کوئی معاملہ جب کبھی سامنے آتا ہے تو الیکٹرانک میڈیا کے کئی اینکر بحث و مباحثے سے ایک خاص طرح کا ماحول بنانے لگتے ہیں اور اگر ایسا نئے سال 2023 میں بھی ہوا تو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ 2024 میں لوک سبھا انتخابات ہونے ہیں جبکہ 2023میں کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ فروری 2023 میں تریپورہ، میگھالیہ اور ناگالینڈ میں، مئی 2023 میں کرناٹک میں تو نومبر2023 میں چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، میزورم اور دسمبر 2023 میں راجستھان، تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات ہونے کی امید ہے۔ 2023 میں جموں اور کشمیر میں بھی انتخابات ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں گیان واپی مسجد اور متھرا کی عید گاہ کا تنازع خبروں میں رہے تو کسے حیرت ہوگی؟
[email protected]