1947کے بعد کا ہندوستان

0

شاہد زبیری

انگریزوں کی سیکڑوں سال کی غلامی کے بعد 1947میں ہندوستان کو جو آزادی نصیب ہوئی وہ تقسیم وطن کے خون میں نہائی ہوئی تھی جو اس وقت کی ہماری ذی ہوش کہی جانے والی قیادت کے نقل آبادی کے نا عاقبت اندیشانہ فیصلہ کا فوری اور بھیانک نتیجہ تھی کہا جا تا ہے کہ اس نقل مکانی میں 10لاکھ انسان قتل کیے گئے بستیاں کی بستیاں آگ اور خون میں نہلا دی گئیں، جو ٹرینیں دو نوں طرف کے خانماں برباد لوگوں کو لے کر ادھر سے ادھر گئیں ان ٹرینوں میں سوار انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا گیا اللہ اورایشور کو بھلا دیا گیا،مذہب کی روشن تعلیمات پر تعصب اور انتقام کی سیا ہی پوت دی گئی ۔ تاریخ کے اس بھیانک المیہ کو اس وقت کے 4 بڑے ادیبوں اور قلم کاروں کی آنکھ سے کوئی دیکھنا چاہے تو اس کو کرشن چندر کا ناول’ہم وحشی ہیں‘ راما نند ساگر کا ناول’ اور انسان مرگیا‘سعادت حسن منٹو کی کتاب ’سیاہ حاشے‘اورخوشونت سنگھ کی کتاب ‘A Train To Pakistan’ ــ کا مطالعہ کر نا پڑے گا۔ خشونت سنگھ کی کتاب پر تو فلم بھی بن چکی ہے، تینوں ناول راقم نے پڑھے ہیں اور فلم بھی دیکھی ہے۔ اس کے علاوہ بھی خون میں ڈوبی کچھ تحریریں ہیں جو اس وقت کے ادیبوں اور قلمکاروں کے قلم سے نکلی ہیں ۔آزادی کے ساتھ تقسیم وطن کے وقت 10لاکھ لوگوں کاقتل سیاست اور مذہب کی آمیزش کا نتیجہ تھا اتنے لوگ تو تحریک آزادی کے دوران بھی انگریزوں کے ہاتھوں ہلاک نہیں کیے گئے،اتنے سہاگ نہیں لوٹے گئے، اتنی گودیں نہیں اجاڑی گئیں، اتنی عصمتیں نہیں لوٹی گئیںاور اتنا قہر نہیں ڈھایا گیا جوبرصغیر کے لوگوں نے تقسیم کے وقت ایک دوسرے پر ڈھایا ۔اس کے لیے دامودر نائک ویر ساورکر اور محمد علی جناح کا دو قومی نظریہ سب سے زیاہ ذمہ دار ہے۔ اس دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہی ملک تقسیم ہوا ورنہ آج ہندوستان ایشیاکی سب سے بڑی طاقت ہوتا اور فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کا جو زہر تیزی سے ہماری رگوں میں سرایت کررہا ہے، ہم اس سے بھی بڑی حد تک محفوظ رہتے ۔
1947میں ہندوستان دو لخت ہوا تو دنیا کے نقشہ پر ایک ’مملکت خداداد‘ کہا جا نے والا ملک پاکستان وجود میں آیا۔ ہر چند کہ آج پاکستان سے ہندوستا ن کا موازنہ خواہ وہ کسی بھی سطح پر ہو نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ایک کلمہ ،ایک دین کے ماننے والوں کا ملک تھا جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا لیکن پاکستان کے شہریوں نے آج تک اسلامی طرزحکومت کی’جنت‘کا مزا نہیں چکھا نہ اور نہ جمہوریت اور سیکولرزم کے گلشن کو لہلہا تا دیکھا۔ وڈیروں اور جاگیرداروںکے مظالم ،مسلک اور مذہب کے جھگڑے اور فوج کا تسلط یہ روزاوّل سے پاکستان کا مقدّر ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم کا میدان ہو یا سائنس اور ٹیکنا لوجی کا یا میڈیسن اور میڈیکل سائنس کا یا معیشت کا، پاکستان کسی بھی سطح پر ہندوستان کا مقابلہ نہیں کرتا ۔
ملک آزاد ہوا مذہب کے نام پرتقسیم کا گھائو بھی لگا لیکن اس وقت کی ہندوستان کی گاندھی ،نہرو ،سردار پٹیل ،ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈ کر اور مولانا ابو الکلام آزاد کی بیدار مغز قیادت نے جو کارنامہ انجام دیا وہ تھا ملک کو تھیوکریٹک اورمذہبی ریاست کے بجائے جمہوری اور سیکولر ریاست بنائے جا نے کا فیصلہ ، جس کو چلانے کے لیے جمہوریت اور سیکولرزم کی بنیادوں پر ایک آئین تشکیل دیا گیا ۔ ہندو اکثریت کے ہوتے ہوئے ہندو راشٹر کی بجائے جمہوری ،سیکو لر اور سوشلسٹ راشٹر کا قیام ہندو مہاسبھا اورسنگھ پریوار کو ایک آنکھ نہیں بھا یااور آج بھی یہ ان کی آنکھوں کی کرکری ہے۔ذرا تصور کیجیے اگر ہندوستان بھی پاکستان کی طرح ایک مذہبی ملک ہوتا جو ترقی آج ہم دیکھتے ہیں کیا وہ ترقی ممکن تھی اس ملک کا بھی وہی حال ہوتا جو آج پاکستان کا ہے ۔
ہندوستان جب آزاد ہوا تو ہمارے ملک کی شرح نمو (جی ڈی پی) 2.7لاکھ کروڑ روپے تھی اور 2021 میں135.1 3لاکھ کروڑ ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور میں یہ شرح نمو، جی ڈی پی اس سے بھی زیادہ تھی ۔پنڈت نہرو کے ہاتھوں سائنس اور ٹیکنا لوجی کے میدان میں جو کارہا ئے نما یاں انجا م دیے گئے ان کو جھٹلایا نہیں جاسکتا یہ اسی سائنس اورٹیکنالوجی کی د ین ہے کہ آج ہمارے سیّارے خلائوں میں تیر رہے ہیں اور وہاں کی تصاویر ہمیں بھیج رہے ہیں۔ ہمارے پاس’اسرو ‘جیسا خلائی تحقیق کا ایک مایہ ناز ادا رہ ہے ،میڈیسن اور میڈیکل سائنس میں ہم کتنا آگے بڑھ چکے ہیں اس کا اندازہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے کہ پاکستان سمیت ہمارے پڑوسی ممالک ہارٹ سرجری سے لے کر انسانی اعضاء کی پیوندکاری تک کے لیے ہمارے ملک کا رخ کرتے ہیں۔ ملک کو اجناس کی پیداوار میں خود کفیل بنا نے کے لیے نہرو کے عہد میںہی ’سبز انقلاب‘ کی بنیاد رکھ دی گئی تھی، دریائوں پر بڑے بڑے ڈیم کی تعمیر کا مقصد جہاں زمین کو زرخیز کرنا اور اجناس کے معاملہ میں ملک کو خود کفیل بنا نا بھی تھا اور بجلی کی پیداوار بھی تھا جس کے دم پر ہمارے کل کارخانے حرکت میں آئے اور صنعتی ترقی ممکن ہو ئی اور سوئی سے لے کر کاریںاور طیّار ے تک ہمارے ملک میں بنائے جا نے لگے۔ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہتھیار اور اسلحہ سازی کے کارخانے قائم ہوئے ٹینک اور راکٹ بنائے جانے لگے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب راجیو گاندھی کے دورحکومت میں کمپیوٹر نے انقلاب برپا کردیا اور ہم سائنس اور ٹیکنا لوجی سے آگے بڑھ کر انفامیشن ٹیکنالوجی تک آگئے۔ اگر حالات سازگار رہے تو وہ دن دور نہیںکہ جب سائنس اور ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آگے بڑھ کرآرٹیفیشیل انٹیلی جینس کے دروازے پر ہمارا ملک دستک دے گا۔آج ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں، ہماری برّی ،فضائی اور بحری افواج کی طاقت کا لوہا دنیا مانتی ہے۔
آج سوال یہ ہے کہ کیا ہم آگے بھی اس طرح اور اسی رفتار سے ہر میدان میں آگے بڑھتے رہیں گے ؟ملک کے موجودہ حالات سے ہمیں تو نہیں لگتا اس لیے کہ مذہبی منافرت، ایک دوسرے کے مذہب کے بارے میں بد ظنی بد گمانی، مذہبی معتقدات اور جذبات پر حملے،مذہبی پیشوائوں کی کردار کشی، عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ،فرقہ وارانہ جھگڑے اور فسادات ، نسل کشی کی دھمکیاں ،ماب لنچنگ اور ان سب مذموم اور غیر انسانی حرکتوں کی سیاسی پشت پناہی یہ ہماری ترقی کی راہ کے وہ پتھر ہیںجو ترقی کی رفتار کو کم کرتے ہیں اور تو اور اب ملک کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی پٹری سے اتارکر مذہب کی پٹری پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور دھرم سنسد میں سادھو سنت ہمارے جمہوری، سیکو لر اور سوشلسٹ آئین کے مقابلہ ہندو راشٹر کے آئین کا مسودہ تیار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایک جمہوری ،سیکولر اور سوشلسٹ ملک میں اپوزیشن جماعتوں کا وجود دن بدن سکڑ رہا ہے جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرہ کا الارم ہے ۔ پبلک پراپرٹیز اور کاشت کی زمین کا نجی سیکٹر کے ہاتھوں میں دیا جا نا ملک کی معیشت پر چند کارپوریٹ گھرانوں کے مضبوط پنجوں کی گرفت اور دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز ،عوام پر ٹیکسوں کے ساتھ مہنگائی کا بڑھتا بوجھ اور تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی فوج میں اضافہ ان سب کے ہوتے ہوئے آزادی کے 75سال پورے ہونے پر آزادی کے ’امرت مہوتسو‘ کے جشن پرسوال کھڑا ہوتا ہے اور اس سے یہ خطرات اور اندیشے جنم لیتے ہیں کہ اگر ملک میں سب کچھ ایسا ہی ہوتا رہا تو 1947کے بعد سے آج تک جو ترقی ہم نے کی ہے اور جو ہم نے پایا ہے کیا وہ ہم برقرار رکھ پائیں گے ؟n
( مضمون نگار سینئر صحافی ہیں)