ترقی کے نئے طول و عرض قائم کرتا ہندوستان

0

ایم اے کنول جعفری

آزادی کے کئی برس بعد تک کپڑا سینے کی سوئی جیسی معمولی چیزوں کے لیے غیر ممالک کی جانب دیکھناپڑتا تھا۔ ہندوستانیوں کے ہاتھوں میں آنے والی لالٹین، ٹارچ، بلیڈ،ریزر، گھڑی، پنسل، قلم، ہولڈر ، فاؤنٹین پین، عینک، چھڑی وغیرہ زیادہ تر اشیا پر میڈ ان جاپان، میڈ ان جرمنی، میڈ ان سوئٹزرلینڈ، میڈ ان چائنا، میڈ ان میکسیکو وغیرہ لکھا ہوتا تھا۔کچھ لوگ جہاں غیر ممالک کی چیزوں کا استعمال کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے وہیں سودیشی کو فوقیت دینے والے افراد اس سوچ میں ڈوب کر خود سے سوال کرتے تھے کہ وہ دن کب آئے گا جب روز مرہ استعمال ہونے والی عام چیزیں اپنے ملک میں بنا کریںگی۔ آج وطن عزیز نے سوئی سے سیٹیلائٹ اور روئی سے راکٹ تک کا سفر طے کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ملک کے سائنس دانوں، انجینئروں، کامگاروں اور ہر شعبے کے ماہرین نے لگاتارکوشش کرتے ہوئے نئے نئے تجربات کیے اور عام انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے کام کو بہتر طریقے سے انجام دیا ہے۔ پھاوڑے یاہل اور بیلوں کی مدد سے ہونے والی کھیتی میں ٹریکٹر، کلٹی ویٹر اورتھریسروغیرہ آلات کا کردار اہم ہو گیا۔کسانوں نے بیجوں کی نئی نئی اقسام کے ساتھ یوریا، این پی کے اور ڈایا وغیرہ کھادیں اور کھیتی کے لیے لازمی کیمکلس کی بدولت گیہوں، چاول اور گنے کی پیداوار کو بڑھایا۔ اتنا ہی نہیں، انہوں نے دلہن میں چنا، اڑد، مٹر، مونگ، مسور اور ارہر اور تلہن میں تل اور سرسوں وغیرہ کی پیداوار میںاضافہ کرکے بھوک اور افلاس کے فرق کو کم کرنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی۔ پہلے کھیتی کا دارومدار بارش پر تھا۔ بارش ہوتی تھی تو کسان کے گھر میں اناج آتا تھا اوراگرسوکھا پڑجاتا تھا تو کسان اور مزدور کے سامنے قرض لینے کی نوبت آنا لازمی امر تھا۔ رفتہ رفتہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔آزاد ہندوستان میں سینچائی کا کام سرکاری ٹیوب ویلوں کے علاوہ نجی ٹیوب ویلوں سے بھی ہونے لگا۔ پانی کی قلت دور ہوئی تو کسان کے چہروں پر رونق دکھائی دینے لگی ۔ آسان شرح سود پربینکوں سے ملنے والے قرض اور کسان سوسائٹیوں کے ذریعے آسانی سے ملنے والے بیج، کھاد اور دواؤں نے کسانوں کو کافی راحت پہنچائی۔ کسان کی جی توڑ محنت اور سرحد پر موجود جوان کی قربانی پر خاص نگاہ رکھنے والے ملک کے دوسرے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے ’جے جوان ،جے کسان‘ کا نعرہ دیا۔ انہوں نے اس نعرے کے ساتھ عوام کو باور کرایا کہ ہرایک ہندوستانی جو تین روٹی کھاتا ہے،اس میں ایک روٹی غیرملک کے اناج سے بنی ہوتی ہے۔ ملک کے خود کفیل ہونے کے لیے جہاں کھیتی کے زمرے میں نئے تجربات کیے جانے کی ضرورت ہے وہیں قومی جذبے کے تحت باہر سے درآمد گیہوں کی ایک روٹی کو اپنی خوراک سے کم کر دیا جائے۔ عوام نے شاستری کی اپیل کو لبیک کہتے ہوئے ’ دو روٹی کھائیں گے، پربھو کے گن گائیں گے‘ سلوگن پر عمل کرتے ہوئے وطن دوستی کا ثبوت دیا۔ غذائی قلت کا سامنا کر رہے ملک کے لیے عوام کی اس قربانی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔آزادی کے شروعاتی دور میں وسیع پیمانے پر پائی جانے والی غربت اور فاقہ کشی کو گزشتہ 75 برسوں میں بہت حد تک کم کیے جانے کے کارنامے کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے آزادی کے بعد کی کئی دہائیوں کے لیے ہندوستان کی سیاسی، معاشرتی، معاشی، تعلیمی اور ثقافتی سمت کا تعین کرکے ملک کو خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مغربی کلچر سے متاثر نہرو ماڈرن ذہن کے مالک ہی نہیں تھے۔ وہ صاحب بصیرت اور اعلیٰ درجے کے سیاست داں بھی تھے۔ وہ ملک کی ترقی کے لیے بڑے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں لگانے کے زبردست حمایتی تھے۔ حالانکہ ملک کی ترقی کے لیے انسان کے مقابلے مشینوں سے کام لینے کو ترجیح دینے والے نہرو کی قیادت والی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں کئی زمروں میں ترقی کی منزلیں طے کرنا شروع کردی تھیں لیکن ان کے بعد ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے وزرائے اعظم نے بھی نئی سوچ اور نئے نظریے کے مدنظر ترقیاتی اقدام جاری رکھے۔ اندرا گاندھی کے دور اقتدار میں خلائی مشن شروع ہوا ۔ خلا میں جانے والے 128 ویں انسان راکیش شرما کی ٹیم نے خلائی پرواز کی۔ اندرا گاندھی نے لائیو لنک کے ذریعے راکیش شرما سے معلوم کیا کہ خلا سے انڈیا کیسا لگتا ہے۔ راکیش شرما نے جواب دیا تھا، ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘۔ بری، بحری اور فضائیہ افواج کے لیے نئی تکنیک سے تیار کیے جانے والے دفاعی اور حربی اسلحہ مہیا کرائے گئے۔ اس سے نہ صرف حفاظتی دستوں کے حوصلے بلند ہوئے بلکہ ملک کی سرحدیں پوری طرح محفوظ ہوگئیں۔
وزیراعظم اندرا گاندھی کے بہیمانہ قتل کے بعد وزیراعظم بنے راجیو گاندھی نے اپنے دور حکومت میں کمپیوٹر کی تعلیم اور اس کے استعمال پر زور دیا۔ اس سے جدت طرازی اور صنعت کاری کو تقویت حاصل ہوئی۔ دفاتر میں کمپیوٹر کے استعمال نے ہاتھ سے کیے جانے والے کام کاج کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ جدید بھارت کا شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جہاں کمپیوٹر اور نئی تکنیک کی رسائی نہ ہو۔ آج ملک کا اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم نہ صرف دنیا کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب ثابت ہوا ہے بلکہ دنیا کے کونے کونے میں ہندوستان کی صلاحیتوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے دور اقتدار میں 1998 میں بھارت نے زیر زمین پانچ جوہری تجربے کیے۔ پوکھرن دوم نام کے یہ تجربے 1974 میں ہونے والے پہلے جوہری تجربے ’ اسمائلنگ بدھا‘ کے 24 برس بعد کیے گئے۔ تجربوں کے بعد جہاں روس اور فرانس نے جوہری ہتھیار والے ممالک کی فہرست میں شامل ہونے والے بھارت کا ساتھ دیا وہیں امریکہ، کنیڈا، جاپان، برطانیہ اور یوروپی یونین نے شدید مخالفت کرتے ہوئے انفارمیشن، ذخائر اور ٹیکنالوجی وغیرہ میں پابندی عائد کر دی۔ اقتصادی پابندیوں اور عالمی تنقید کے باوجود اٹل جی کے جوہری تجربا ت ان کی حکمت عملی اور اٹل فیصلے کو روشناس کراتا ہے۔ حالانکہ عالمی پابندیاں ناکام ہوئیں اور چھ مہینے کے اندر تمام ممالک بالخصوص امریکہ نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ملک میں معاشی اصلاحات کے معمار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 1991 میں شروع ہونے والی معاشی اصلاحات سروسز سیکٹر کی توسیع میں لبرل سرمایہ کاری اور تجارتی انتظامات سے کافی مددحاصل ہوئی۔ انہوں نے بینکنگ اور مالیاتی شعبوں میں اصلاحات پر بھی کام کیا۔ماہرین معاشیات اور کئی دیگر لیڈران کے ذریعہ تعریف کیے جانے والے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 2005 میں مشکل ترین سیل ٹیکس کی جگہ وی اے ٹی (ویٹ) کو متعارف کرایا۔ اسی سال قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو بھی متعارف کرایا گیا۔ سماجی تحفظ کی اس اسکیم کا مقصد دیہات کے غریبوں، مزدوروں اور بے روزگاروں کوایک سال میں کم سے کم 100دن کا گارنٹی شدہ روزگار فراہم کرانا ہے۔ اس سے بے روزگاروں کی حالت میں کسی قدر سدھار ہوا۔ انہیں عوام کو معلومات فراہم کرانے والے ’رائٹ ٹو انفارمیشن‘ نافذ کرنے کے لیے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ حق معلومات کی وجہ سے اب کچھ بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔آج اس کا استعمال کر کوئی بھی شخص کسی بھی شعبے سے حسب منشا جانکاری حاصل کر سکتا ہے۔
2014 میں زبردست کامیابی کے ساتھ برسر اقتدار آئی بی جے پی کے رہنما اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے شروعاتی دنوں میں ’ میک اِن انڈیا‘ کاخواب دیکھا اور اسے عوام کے ساتھ ساجھا کیا۔ تب اسے صرف خواب سمجھ کر توجہ نہیں دی گئی لیکن آٹھ برس کی مسلسل جدوجہد کے بعد وہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ہندوستان کو اپنے دفاع کا سازوسامان، اسلحہ جات اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ جہاز غیر ممالک سے خریدنے پڑتے تھے لیکن آج ایسا نہیں ہے ۔ اب وہی ممالک ہندوستان سے ہتھیار اور جہاز خریدنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ ملک میں تیار کیے گئے سودیشی جیٹ جہاز ’تیجس‘ نے دنیا بھر میں سراسیمگی پیدا کر دی ۔ ’تیجس‘ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ کے ذریعہ تیار کیا گیا ایک انجن والا ہلکا اور کثیرالجہتی جہاز ہے جو خطرناک ماحول میں بھی بیحد سلیقے سے اپنا کام کر سکتا ہے۔ اس کی ا ہمیت کا اندازہ اسی سے ہو جاتا ہے کہ وزارت دفاع نے انڈین ایئر فورس کے لیے پچھلے سال 83 جہاز خریدنے کا قرار کیا ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی سازوسامان برآمد کرنے والا ملک امریکہ بھی اس میں دلچسپی لے رہا ہے۔ سرکار کے ذریعہ پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان میں جانکاری دی گئی کہ امریکہ،آسٹریلیا، انڈونیشیا اور فلپائن سمیت 6 ممالک نے ہندوستان میں تیار ہونے والے جنگی طیارے ’تیجس‘ کی خریداری میں دلچسپی دکھائی ہے۔ ملیشیا پہلے ہی 18 ’تیجس‘ خریدنے کی تیاری کر چکا ہے۔ طیاروں کی ڈلیوری 2023 میں کی جائے گی ۔ فلپائن کے بعد انڈونیشیا بھی بھارت میں بنے اینٹی شپ ویرینٹ برہموس سپر سونک میزائل خرید رہا ہے۔ دفاعی ہتھیار سپلائی کرنے والے 25 ممالک میں بھارت کا شمار بھی ملک کی ترقی کو نشان زد کرتا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ دفاعی اسلحہ جات اور ان سے جڑے309 درآمد ہونے والے آلات کی فہرست تیار کی گئی ہے۔آئندہ کچھ سالوں میں انہیں باہر سے منگانے کے بجائے ملک میں ہی تیار کر لیا جائے گا۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ہم 2047 تک اپنے مجاہدین آزادی کے خوابوں کو پوری طرح شرمندۂ تعبیر کر لیں گے۔ 15 اگست کو وزیراعظم نریندر مودی نے آشکار بھارت، غلامی کے تخیل سے آزادی، وراثت کے تئیں فخر، اپنے پرائے کا امتیاز ختم اور عزم محکم سے بڑا کرنے کے پانچ عہد پر کاربند رہنے کی اپیل کی۔ امید کی جانی چاہیے کہ آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہندوستان آئندہ 25 برس میں جب آزادی کا صد سالہ جشن منا رہا ہوگا تو غریبی،بے روزگاری ، بیماری، مزاحمت، عدم برداشت،عدم مساوات، مذہبی امتیاز، نفرت اور اقتصادی نابرابری جیسے مسائل کے انبار پر قابو پاتے ہوئے ترقی کے نئے طول و عروض قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔n
( مضمون نگار سینئر صحافی، شاعر اور ادیب ہیں)
[email protected]