منیش سسودیا کے گھر پر سی بی آئی کے چھاپے پر سی ایم کیجریوال کا ردعمل

0

نئی دہلی (ایجنسی) :دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے گھر پر آج صبح سی بی آئی نے چھاپہ ماری کی۔ خود سسودیا نے ٹویٹ کرکے یہ اطلاع دی۔ اب اس پر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اپنا ردعمل دیا ہے۔ کیجریوال نے کہا کہ سی بی آئی کا خیر مقدم ہے۔ دہلی کے اچھے کام کو روکنے نہیں دیں گے۔ گزشتہ کئی دنوں سے دہلی کے سی ایم اروند کیجریوال دعویٰ کر رہے تھے کہ ستیندر جین کے بعد مرکزی ایجنسیاں منیش سسودیا کے خلاف کارروائی کر سکتی ہیں۔ کیجریوال نے ٹویٹ کیاکہ”پوری دنیا دہلی کے تعلیم اور صحت کے ماڈل پر بحث کر رہی ہے۔ وہ اسے روکنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے دہلی کے صحت اور تعلیم کے وزراء پر چھاپے ماری کی جارہی ہے اور انہیں گرفتار بھی کیا جارہا ہے۔ 75 سال میں جس نے بھی اچھا کام کرنے کی کوشش کی اسے روک دیا گیا۔ اسی لیے ہمارا ملک پیچھے رہ گیا۔ دہلی کے اچھے کاموں کو روکنے نہیں دیں گے۔


اس کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ جس دن دہلی کے تعلیمی ماڈل کی تعریف ہوئی اور امریکہ کے سب سے بڑے اخبار NYT کے صفحہ اول پر منیش سسودیا کی تصویر چھپی، اسی دن منیش سسودیا کے گھر مرکز نے سی بی آئی کو بھیجا۔ہم سی بی آئی کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔منیش سسودیا نے ٹویٹ کیا کہ سی بی سے ہم تعاون کرئے گے۔ لاکھوں بچوں کا مستقبل بنانا۔


یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں اچھے کام کرنے والوں کو اس طرح ہراساں کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ابھی تک نمبر 1 نہیں بن سکا ہے۔‘‘انہوں نے مزید لکھا، ’’یہ لوگ دہلی کی تعلیم اور صحت کے شاندار کام سے پریشان ہیں۔ اسی لیے دہلی کے وزیر صحت اور وزیر تعلیم کو گرفتار کیا گیا ہے تاکہ تعلیم صحت کے اچھے کام کو روکا جا سکے۔ ہم دونوں پر جھوٹے الزامات ہیں۔ عدالت میں سچ سامنے آئے گا۔ اس کے ساتھ ہی سسودیا نے کہا کہ ہم سی بی آئی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے تاکہ جلد حقیقت سامنے آسکے۔ اب تک میرے خلاف کئی مقدمات درج ہوئے لیکن کچھ نہیں نکلا۔ اس سے بھی کچھ نہیں نکلے گا۔ ملک میں اچھی تعلیم کے لیے میرا کام نہیں روکا جا سکتا۔ دہلی میں 20 مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ سی بی آئی دہلی میں 20 مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ منیش سسودیا کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا ہے۔ ایکسائز گھوٹالے میں سسودیا کے گھر پر چھاپہ مارا جا رہا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے دہلی کے چیف سکریٹری کی رپورٹ کی بنیاد پر سی بی آئی انکوائری کی سفارش کی تھی۔ یہ رپورٹ ایل جی کو 8 جولائی کو بھیجی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں گزشتہ سال لاگو کی گئی ایکسائز پالیسی پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

دانش رحمٰن