ملی اور مذہبی اداروں کے خلاف شر انگیزی : شاہد زبیری

0

شاہد زبیری
ملک میں فسادات کا لامتنا ہی سلسلہ کم تو ہوا ہے ختم نہیں ہوا ،مسلم اقلیت کے خلاف ہر سطح پر امتیازی سلوک اور زیادتیوں کا سلسلہ جاری ہے،ملک اور صوبوں میں سرکاریںکسی کی رہی ہوں، لیکن مسلمان ہمیشہ امتیازی سلوک کا شکار رہا ہے حتیٰ کہ مساجد ، مدارس،مقابر، مزارات اور درگاہیں نشانہ پر ہیں مسلمانوں کی یہ شکایات عام ہیں ۔
حالیہ معاملہ میں دارالعلوم دیو بند کے خلاف کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (CPCR )کی طر ف سے دارالعلوم دیوبند پر غزوئہ ہند کی بابت دئے گئے فتویٰ کو لے کر لگائے گئے بچکانہ الزامات کا معاملہ سامنے آچکا ہے ،سہارنپور ضلع انتظامیہ کو دارالعلوم دیوبندکے خلاف ایف آئی آر درج کرائے جا نے کی ہدایات دی جا چکی ہیں لیکن ضلع انتظامیہ نے ایف آئی آر درج کرنے کی بجا ئے اعلیٰ افسران سے جانچ کرائی ہے۔ خبر ہے کہ اس کی رپورٹ کمیشن کو ارسال کر دی گئی ہے کمیشن آئندہ اس پر کیا کارروائی کرتا ہے یہ دیکھنا باقی ہے گزشتہ کالم میں اس پر تفصیل سے لکھا جا چکا ہے ۔اس مسئلہ کو لے کر 28 فروری کودارالعلوم دیوبند کی شوریٰ کی میٹنگ میںواضح موقف اختیار کرتے ہوئے جہاں فتویٰ ویب سائٹ جا ری رکھنے کا فیصلہ لیا گیا یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر دارالعلوم دیو بند کے خلاف کوئی کارروائی کی جا تی ہے تو اس کا جواب دینے کیلئے عدالت کا رخ کیا جا ئے گا۔ دارالعلوم دیوبند کی دینی اور اخلاقی روایات کا پاس رکھتے ہوئے دارالعلوم دیوبندکے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی یا شوریٰ نے اس معاملہ میں کسی جذباتی رد عمل کااظہار نہیں کیابلکہ عدالت کا رخ کر نے کی بات کہی ہے ۔جبکہ اس مسئلہ کو لے کر حسب عادت گودی میڈیا نے آسمان سرپر اٹھا لیا تھا،سوشل میڈیا پر فرقہ پرستوں کی طرف سے دارالعلوم دیو بند کے خلاف ابھی بھی ایک طوفان اٹھا رکھا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ کوٹہ کے ایک اسکول میں نام نہاد لو جہاد کو لے کر گودی میڈیا کے پرو پیگنڈہ پر براڈ کاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈ اتھارٹی (BDSA)نے ٹائمز نائو بھارت پر ایک لاکھ روپے ،نیوز 18پر 50ہزار کا جرمانہ لگا یا ہے اور سب سے تیز چینل ہونے کا دعویٰ کر نے والے آج تک کو پھٹکار لگا ئی ہے اور آئندہ کیلئے وارننگ دی ہے اور ان چینلوں کے منھ پھٹ اینکروں پر لگام کسی ہے، اس بابت ہماری سرکاروں کوبھی سخت اقدامات کرنے چا ہئے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کی مشکیں کسنی چا ہئے، لیکن ملک میں جو فرقہ وارانہ فضابنی ہوئی ہے، اس لئے ایسی امیدیں کم ہی ہیں ۔ افسوس یہ کہ ہماری سیاسی پارٹیوں نے اس پر مکمل سکوت اختیار کررکھی ہے اورحکمراں جماعت نے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے یہ زہر ہمارے سماج میں تیزی سے سرایت کرتی جا رہی ہے ورنہ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ انسانیت اور روحانیت کا پیغام دینے والے اجمیر کے خواجہ غریب نوازؒ کی درگاہ کو کسی فرقہ پرست تنظیم کا صدر مندر بتا کر لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا جائے گا۔ کون نہیں جانتا صدیاں گزرگئیں خواجہ کی درگاہ سے جو مرادیں مانگنے آتے ہیں ان میں کسی ایک فرقہ یا مذہب یاکسی ایک ملک کے باشندے ہی نہیںبلکہ ہماری سیاسی پارٹیاں اور ہماری سرکاریں بھی شامل ہیں مر کزی کی بی جے پی کی سرکار ہو یا اتراکھنڈ کی بی جے پی سرکار اور ملک کے دیگر صوبوں کی سرکاریں ہر سرکار کی طرف سے خواجہ ؒ کی درگاہ پر چادر چڑھا ئی جا تی ہے۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم سے لے کر آج کے وزیر اعظم نریندر مودی تک کی جانب سے یہ کام کیا جا تا رہا ہے اس سال عرس کے موقع پر بھی وزیر اعظم نریندر مودی نے چادر بھیجی ہے ،فلم انڈسٹری کے اسٹار ہوں یا پرو ڈیوسر س اور ڈائریکٹرس ،صنعتکار ہو یا تجار ،امیر ہو کہ غریب روزانہ ہزاروں کی تعداد خواجہؒ کی چوکھٹ چومنے آتی ہے اور عقیدت کا نذرانہ چڑھا تی ہے باوجود اس کے ہندو شکتی دل نام کی فرقہ پرست تنظیم کے صدر اور ممبران کی طرف سے شر انگیزی کی گئی اور 21فروری کومبینہ طورپر ایک میمورنڈم ایڈیشنل ڈی ایم کو دیا اور حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ کے حوالہ سے غلط حقائق کی بنیاد پر قابلِ اعتراض ویڈو کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔ بتایا جا تا ہے کہ اس دلخراش اور توہین آمیز ویڈیو کا معاملہ راجستھان سرکار کے اقلیتی کمیشن کے پاس بھی پہنچ گیا ہے۔ اس سلسلہ میں کلاک ٹاور تھانہ کے تحت رہنے والے خادم شکیل عباسی کی جانب سے مقدمہ بھی درج کرا یا گیا ہے ۔اس معاملہ میں خواجہ ؒکی درگاہ کے دیوان سیّدزین العابدین کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ان کے بیٹے نصیرالدین چشتی نے درگاہ تھانہ میں ایف آئی آر درج کرا ئی ہے اور انہوں نے سوشل میڈیا پرقابل اعتراض ویڈیوز شیئر کر نے اور مذہبی جذبات بھڑکانے والوں کے خلاف کارروائی کئے جا نے کا مطا لبہ کیا ہے ۔نصیرالدین چشتی اپنی شکایت میں حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی شخصیت ،ان کے افکارو نظریات اور انسانی خدمات اور باہمی اخو ت کا بھی حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ واضح طور مذہبی جذبات کو ہوا دینے کیلئے نفرت انگیز ی کے زمرے میں آتا ہے جس سے خواجہ غریب نوازؒ کے لاکھوںچاہنے والوں میں شدید غم وغصہ پا یا جا تا ہے ۔خبر یہ بھی ہے کہ راجستھان کے اقلیتی کمیشن کے سکریٹری نے ایس پی اجمیر سے بات کی اور کہا کہ ہندو شکتی دل کے صدر کی طرف سے کئے گئے قابل اعتراض تبصروں اور توہین آمیز الفاظ سے فرقہ وارانہ ماحول خراب کیا جارہا ہے۔ سکریٹری نے ضلع انتظامیہ سے ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے اور کمیشن کو اس کی اطلاع دینے کی ہدا یت کی ہے۔معلوم نہیں ضلع انتظامیہ راجستھان کمیشن کی بات پر کان دھرتا ہے کہ نہیں۔ قومی اقلیتی کمیشن ہو یا صوبائی کے اقلیتی کمیشن اگر کچھ کرتے تو نہ تو دہلی کے قطب مینار کے پاس واقع مسجد اور مدرسہ ڈی ڈی اے کے ہاتھوں منہدم کیاجا تا اور نہ ہی ہلدوانی کی مسجد اور مدرسہ پر بی جے پی کی اترا کھنڈ سرکار کی قیادت میں نگر نگم کا بلڈوزر چلتا اور پانچ انسانی جانوں کا اتلاف ہو تا اور نہ ہلدوانی کے لوگوں پر قیامت ٹوٹتی۔ اترا کھنڈ میں مبینہ طور اترا کھنڈ سرکار اور وہاں کے فرقہ پرست تنظیموں کے ہاتھوں مزارات منہدم کئے جا نے کی آئے دن شکایات سامنے آتی ہیں اگر اترا کھنڈ کا اقلیتی کمیشن فعال ہوتا تو ان شکایات کی حقیقت بھی سامنے آتی اور ان کا ازالہ بھی ہوتا ۔
موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ معاملہ چا ہے دارالعلوم دیوبند کا ہو یا خواجہ غریب نوازؒکی درگاہ کا یا گیان واپی مسجد اور متھرا کی عید گاہ کا ان سب پر فرقہ پرستوں کی نگاہیں ہیں اور ان کو بی جے پی سرکارنے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ جیسے جیسے لوک سبھا کے انتخابات کی تاریخیں قریب آرہی ہیں اس طرح کے واقعات میں اضافہ کا خدشہ رہے گا۔ مسلم اقلیت کیلئے یہ ایک آزمائشی دور ہے جس میں انتہائی صبرو تحمل کی ضرورت ہے، جس کا مظاہرہ من حیثیت ملت مسلمان کر بھی رہے ہیں، آئندہ بھی ایسا ہی کیا جانا چاہئے اور عدالت کے دروازہ پر ہی دستک دینی چا ہئے، جیسے بھی ہو فرقہ پرست عناصر کی شر انگیزیوں پرمشتعل نہیں ہو نا چاہئے۔ درگاہ خواجہ غریب نواز ؒ کی انتظامیہ نے بھی دارلعلوم دیوبند کی شوریٰ کی طرح اس شر انگیزی کے جواب میں قانون کا ہی راستہ اختیار کیا ۔
بات اقلیتی کمیشن کی: قومی اقلیتی کمیشن ہو یا صوبائی اقلیتی کمیشن کچھ ان کی بھی آئینی اور قانونی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ ہو نے والے امتیازات اورزیادتیوں پر ایکشن لیں اور جو وطیرہ ان کمیشنوں نے اختیار کر رکھا ہے اس کو ترک کریں اس سے ان کی ساکھ ختم ہو رہی ہے اور اقلیتوں میں عام تاثر بن گیا ہے کہ قومی اقلیتی کمیشن سمیت سارے اقلیتی کمیشن مفلوج ہیں بہت کم ایسا ملے گا کہ اقلیتوں خاص طور پر مسلم اقلیت اور عیسائی اقلیت کے معاملات میں کمیشن نے اپنی آئینی اور قانونی حیثیت کا استعمال کیا ہو بعض استثنیٰ کے ساتھ ۔ہماری ملی تنظیموں نے بھی اقلیتی کمیشن کی کار کردگی پر کبھی سوال کھڑے نہیں کئے اور سرکاروں کو کمیشن کی عدم فعالیت کی طرف توجہ نہیں دلائی، اقلیتی ممبرانِ اسمبلی اور ارکانِ پارلیمان نے بھی یہ زحمت نہیں اٹھائی کبھی اقلیتی کمیشن کی کا ر کردگی پر ہائوس میں سوال پو چھا ہو؟ اقلیتی کمیشن کے برعکس ایس سی / ایس ٹی کمیشن زیادہ فعال نظر آتا ہے۔ اقلیتی کمیشن کو اس سے سبق لینا چاہئے ، اقلیتوں سے متعلق امتیازی سلوک اور زیادتیوں کی شکایات کا از خود نوٹس لینا چا ہئے، اقلیتوں کے آئینی حقوق جس طرح پامال کئے جارہے ہیں اس پر بھی کارروائی کی جانی چاہیے۔شکر ہے کہ خواجہؒ کی درگا ہ کے معاملہ میں راجستھان کے اقلیتی کمیشن نے پہل کی ہے ۔ ٭٭

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS