اسلام میں شجرکاری کی اہمیت

0

محمد فہیم محی الدین

اسلام انسان کو زندگی گزارنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے میں اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ دنیا اس وقت گلوبل وارمنگ کے مسائل سے جوجھ رہی ہے۔ کہیں سیلاب آرہے ہیں تو کہیں سوکھا پڑرہا ہے۔ ان سب کے پیچھے پیڑپودوں کی کٹائی اصل سبب ہے۔ شجرکاری کی اسلام میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ درخت لگانے کے فضائل بیان کیے گئے تو دوسری طرف درخت کاٹنے پر تنبیہ بیان کی گئی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:’’بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا؟ پھر ہم نے اس پانی سے بارونق باغ اگائے، تمہارے بس میں نہیں تھا کہ تم ان کے درختوں کو اُگا سکتے۔ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے؟ نہیں! بلکہ ان لوگوں نے راستے سے منہ موڑ رکھا ہے‘‘۔(سورۃ النمل)
ایک حدیث شریف میں ہے آپ ؐ نے اپنی زبانِ رسالت سے یہ ارشاد فر ماکر ’’جو مسلمان دَرخت لگائے یا فَصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا اِنسان یا چوپایا کھائے تو وہ اس کی طرف سے صَدَقہ شمار ہوگا۔‘‘
انسانوں کی بھلائی کے لیے درخت لگانا چاہئے۔ راستوں کے اطراف درخت لگانا چاہئے تاکہ سفر کے دوران کوئی اس کے سایہ میں آرام کرسکے۔ اس کے پھل پرندے کھا سکے۔ درخت کی وجہ سے آکسیجن حاصل ہوتی ہے۔ درخت ماحولیاتی توازن برقراررکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں درخت کی اہمیت کے پیش نظر اس کو بڑھاوا دیاجاتا ہے۔ ہالینڈ میں ہر پیدا ہونے والے بچے کے نام کا درخت لگانا اور اس کی حفاظت کرنا اس خاندان کی قانوناً ذمہ داری ہوتی ہے۔ لبنان میں درختوں کی بہت حفاظت کی جاتی ہے۔ وہاں چیڑ کے بے شمار درخت موجود ہیں جن کی عمریں ہزاروں سال ہیں۔ ایسے بے شمار درختوں کو یورپی اقوام نے بّرِاعظم امریکا پر قبضہ کے دوران کاٹ کر استعمال کرلیا مگر اب بھی بہت سے درخت موجود ہیں۔ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے۔ یہ زندگی کو تحفظ دیتا ہے۔ہمارے ملک کی دیگر ریاستوں کو حیدرآباد سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ حیدرآباد میں مختلف حکومتوں نے شجرکاری کو بڑھاوادیا۔ یہاں کے عوام میں شجرکاری کی اہمیت واضح کی جس کے نتیجہ میں ہندوستان کے شہر حیدرآباد کو’’عالمی شہر سبز 2022، انٹرنیشنل گرین سٹی 2022 ایوارڈ، سے نوازا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ جنوبی کوریا کے شہر’’جیجو‘‘ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ’’باغبانی پروڈیوسرزکی بین الاقوامی انجمن ’’انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ہارٹیکلچرل پروڈیوسرز‘‘، کی جانب سے دیا گیا ہے۔ حیدرآباد ہندوستان کا واحد شہر ہے جسے یہ ایوارڈ ملا ہے۔
شجرکاری کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے بھی ہوتا ہے جس میں رسول اللہ ؐ نے فرمایا: اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں درخت ہو اور وہ اس بات پر قادر ہو کہ قیامت قائم ہونے سے پہلے وہ اسے لگا لے گا تو ضرور لگائے۔ (مسند احمد) درخت لگانے کی بعد اگر وہ ضائع ہونے کا امکان ہوتب بھی ہمیں یہ نیکی اور بھلائی کا کام کرنے میں پس و پیش نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کام کو انجام دے دینا چاہئے۔ درخت کی اسی افادیت کے پیش نظر آپؐ نے ایسے درخت وغیرہ جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے، کاٹنے یا برباد کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔ نبی ؐ نے حالت جنگ میں بھی اشجار کو کانٹے سے منع فرمایا ہے، آپ لشکر کی روانگی کے وقت دیگر ہدایات کے ساتھ ایک ہدایت یہ بھی فرماتے تھے کہ: کھیتی کو نہ جلانا اور کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دورِ اقتدار میں باغ بانی اور شجرکاری میں گہری دل چسپی دکھائی ہے اور اسے علوم وفنون کی شکل دے کر دنیا میں خوب فروغ دیا ہے۔ بعض احادیث میں پھل دار درخت کو کاٹنے سخت قابل سزا جرم قراردیا ہے۔ ناحق کسی کو تکلیف پہنچانے کے لیے یا ایک فائدے کی چیز کو ختم کرنا ویسے بھی گناہ کا کام ہے۔حضرت عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص (بلا ضرورت) بیری کا درخت کاٹے گا۔ اللہ اسے سر کے بل جہنم میں گرا دے گا‘‘۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شجرکاری کرنے اور انسانیت کی بھلائی کے لیے نیکی کے کام کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

 

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS