خلافت کے بنیادی ستون اور خلفائے راشدین

0

ڈاکٹرحافظ کرناٹکی

حکومت اور حکمرانی سننے میں بہت پر لطف اور پرشکوہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر کامیابی کے ساتھ حکمرانی کرنا یا حکومت چلانا بہت مشکل کام ہے۔ سچ پوچھئے تو حکومت اور حکمرانی کے لئے بھی تین بنیادی ستون اسلام نے ہی قائم کئے جن کے تصوّر کے بغیر کوئی بھی حکومت کامیابی کے ساتھ اور نیک نامی کے ساتھ تادیر قائم نہیں رہ سکتی ہے۔
اسلامی حکومت کے تین بنیادی عناصر میں پہلا نمبر ہے حاکمیت کا اور دوسرا نمبر ہے شوریٰ کا اور تیسرا نمبر ہے عدل یعنی انصاف کا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ نساء میں فرمایا ہے کہ؛ ’’اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا حکم مانو رسول ؐ کا اور ان کاجو تم میں حکم والے ہیں پھر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اللہ اور رسول ؐکے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے۔‘‘
اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کہنا کہ حکم مانو ان کا جو تم میں حکم والے ہیں صاف طور پر اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسلم حکمراں اور حکام کی اطاعت واجب ہے جب تک کہ وہ حق پر قائم ہوں۔ اس حکم میں قاضی، منصف، افسر سبھی شامل ہیں اور ان کے لیے وہی شرط ہے کہ وہ حق پرست ہوں۔ انصاف اور عدل کے خوگر ہوں، حضورؐ کے وصال کے بعد تیس سالوں تک خلافت قائم رہی۔ اس کے بعد جو اسلامی بلکہ یوں کہیں کہ مسلم حکمرانی قائم ہوئی ان پر خلافت کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ امت میں کوئی ایسا فرد بھی دیکھنے میں نہیں آتا ہے جنہیں امامت کے تسلسل کی کڑی کے طور پر دیکھا اور مانا جائے۔ گویا خلافت ہی نہیں امامت بھی ختم ہوچکی ہے۔امامت کے لیے ایک شرط یہ مانی جاتی ہے کہ امامت کا حق انہیں ملے گا جو اہل قریش ہوں گے اور یہ سلسلہ اب بہت واضح طور پر خالی ہی نظر آتا ہے۔ رہی بات سلطنت کی تو وہ اب بھی قائم ہے اور کئی ملکوں میں اسلامی حکومت، سلطنت، یا اسلامی جمہوری حکمرانی آج بھی نظر آتی ہے۔
قرآن کے حکم کے مطابق سلطان، امیر، وزیر اعظم، اور صدر مملکت اسلامیہ کی اطاعت ہر مسلمان پر لازم ہے، کیوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ؛ ’’تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے، جب تک اپنے آپس کے جھگڑوں میں تمہیں حاکم نہ بنائیں، پھر جو کچھ تم حکم دو وہ اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی جان سے مان لیں۔‘‘ (نساء)
ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ پہاڑ سے آنیوالے پانی جس سے باغوں کی سینچائی ہوتی تھی اس پر ایک انصار ی کا حضرت زبیرؓ سے اختلاف ہو گیا۔ معاملہ حضورؐ کے سامنے پیش کیا گیا تو نبی اکرمؐ نے حکم دیا کہ زبیرؓ تم اپنے باغ کو پانی دینے کے بعد پانی کا رخ اپنے پڑوسی کے باغ کی طرف موڑدو، یہ بات انصاری کو کچھ ناگوار گذری اور اس کی زبان سے یہ بات نکل گئی کہ چوں کہ حضرت زبیرؓ آپ ؐ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں، اس لیے انہیں اوّلیت دی گئی ہے۔ حضورؐ کے فیصلے میں حضرت زبیرؓ کے لیے صاف حکم تھا کہ وہ انصاری کے ساتھ حسن سلوک کریں، لیکن انصاری نے اس کی قدر نہیں کی چنانچہ حضورؐ نے حضرت زبیرؓ کو حکم دیا کہ اپنے باغ کو سینچنے کے بعد پانی روک لو، کیوں کہ انصاف کے تقاضے کے مطابق قریب والا ہی پانی کے استعمال کرنے کا زیادہ مستحق ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ؛ ’’اور نہ کسی مسلمان مرد اور نہ کسی مسلمان عورت کو حق پہونچتا ہے کہ جب رسولؐ فرمائیں تو انہیں اپنے معاملے کا کوئی اختیار رہے، اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول ؐکا وہ بے شک صریح گمراہ ہے۔‘‘ (الاحزاب)
غزوہ بدر میں جب بہت سارے کفار و مشرکین قیدی بنا کر لائے گئے تو حضورؐ نے صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ حضرت عمرؓ نے مشورہ دیا کہ ان سب مشرکین اور اللہ و رسول ؐکے دشمنوں کو قتل کردیا جائے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنے اپنے رشتے داروں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرے۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ مشورہ دیا کہ آخر یہ سب کے سب اپنے ہی عزیز و اقارب ہیں لہٰذا انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ ان لوگوں سے بطور فدیہ کچھ رقم لے کر ان سب کو رہا کر دیا جائے۔ اس وقت مسلمانوں کی مالی حالت بہت کمزور ہے فدیہ کی رقم سے مسلمانوں کی مالی حالت کا استحکام بھی ہوجائے گا اور شاید اللہ کی امداد سے آئندہ یہ لوگ مسلمان بھی ہوجائیں۔
حضورؐ نے حضرت ابوبکرؓ کی رائے کو پسند فرمایا اور ان قیدیوں کے وارثین سے چارچار ہزار فدیہ لے کر چھوڑدیا۔ ان قیدیوں میں سے جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے ان کے لئے یہ فدیہ طئے کیا گیا کہ وہ انصار کے دس لڑکوں کو لکھنا پڑھنا سکھادیں۔
معلوم یہ ہوا کہ اسلام میں یاخلافت اسلامی کے قیام اور نفاذ میں شوریٰ کی بڑی اہمیت ہے۔ حد یہ کہ اگر کسی وجہ سے اجتماعی طور پر کوئی فیصلہ لے لیا جائے اور بعد میں یہ معلوم ہو کہ اس فیصلے سے بہتر فیصلہ ہے تو اس سے رجوع بھی کرلیا جائے جیسا کہ نماز کے لیے پکار نے کے بارے میں دیکھنے میں آیا۔ اسلام میں عدل وانصاف کا جو معیار ہے وہ کسی بھی حکومت کے لیے سب سے اعلیٰ معیار اور پیمانہ ہے۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ اسلام کا دوسرا نام ہی عدل ہے، انصاف ہے۔
انگریزی کاقول مشہور ہے کہ؛ If you want peace work for Justiceیعنی اگر تم امن و سلامتی چاہتے ہو تو انصاف پسند بنو، عدل قائم کرو۔ اسلام نے خلافت و حکومت کی جو مثالیں پیش کی ہیں، اور خلفائے راشدین نے اپنی جن اہم خواہشوں کا اظہار کیا ہے اس پر نظر کریں تو معلوم ہوگا حکمرانوں کو کیسا ہونا چاہیے۔
حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا ہے کہ ساری دنیا کی نعمتوں اور لذتوں میں مجھے جن چیزوں سے پیار و محبت ہے۔ ایک رسولؐ کے جمال نبوّت کا دیدار کرنا، دوسرے محبوب خدا پر اپنی دولت نثار کرنا، تیسرے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی زوجیت برقرار رہنا، غور فرمائیے کہ انسان حاکم سے اس قدر محبت کرتا ہو اور اس پر اپنی دولت لگانے کو اپنی خوش بختی سمجھتا ہو وہ کس قدر انصاف پسند ہوگا اور وہ خدا اور رسولؐ اور دین حق کی سربلندی کے لیے کتنے ایثارسے کام کیا ہوگا۔ یہ ان کی حکمت، خلوص، عشق خداو ررسولؐ ہی کی بصیرت تھی کہ انہوں نے ہر طرف سے فتنے میں گھرے اسلامی حکومت اور اسلام کو نہ صرف یہ کہ بچایا بلکہ اسے ایسا مستحکم بنادیا کہ پھر کسی کی جرأت نہ ہوئی کہ اسلامی قوانین اور حکم کے خلاف آواز بلند کرسکے۔ حضرت عمرفاروقؓ جو اسلام کے دوسرے خلیفہ تھے انہوں نے بھی اپنی تین پسندیدہ چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ اوّل یہ کہ میں لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم دوں، دوسرے یہ کہ میں لوگوں کو برے کاموں سے روکوں، اور تیسرے یہ کہ میں معمولی یا پرانا لباس پہنوں۔
آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ جس ملک کے بادشاہ کی پسندیدہ ترین خواہش یہ ہوگی کہ وہ لوگوں کو اچھے کاموں پر آمادہ کرے اور برے کاموں سے روکے اور خود عیش و عشرت اور زیبائش سے کوسوں دور رہے، اس کے ملک میں انصاف کا کتنا بول بالا ہوگا۔ اور اس ملک کی رعیت کتنے سکون و اطمینان سے زندگی گزارے گی۔
جب بادشاہ ہی کے دل میں کسی چیز کی لالچ نہ ہوگی وہ بادشاہ ہو کر بھی پیوندلگے کپڑے پہنے گا، بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لیے مزدوروں کی طرح پیٹھ پر اناج کی بوریاں ڈھوئے گا، اس کی حکومت میں کوئی کرپشن کے بارے میں سوچنے کی بھی ہمت کرسکے گا؟
اسلام کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے فرمایا ہے کہ ؛ مجھے دنیا کی تین چیزیں بہت پسند ہیں۔ اوّل بھوکوں کو کھانا کھلانا، دوم ننگوں کو کپڑا پہنانا، سوم قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔ قرآن کریم زندگی گزار نے اور حکومت قائم کرنے کا سب سے مہتم بالشان دستور ہے۔ یہ وہ کتاب الٰہی ہے جس کی ایک آیت سے کافر مسلمان ہوجاتا ہے۔ ظالم انصاف پرور بن جاتا ہے۔ گمراہ راہ راست پر آجاتا ہے۔ تو غور فرمائیے کہ جو بادشاہ، جو خلیفہ اپنی شرم و حیا، اور ایمان ایقان کی پاکیزگی کے لیے مثالی مانا جاتا ہے اس پر اس کتاب ہدایت کی تلاوت کا کتنا اثر ہوتا رہا ہوگا۔ اور جبکہ ان کے پسندیدہ کاموں میں بھوکوں کو کھانا کھلانا اور ننگوں کو کپڑا پہنانا شامل ہے۔ وہ قوم اور ملک بہت خوش قسمت ہوتا ہے جسے اس پایہ کا حاکم، امیر، سلطان یا حکمران ملتا ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات کی دین تھی کہ اسلام کے خلفا خود فقیروں کی طرح جیتے تھے اور اپنی رعایا کے لیے ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کو اپنی ذمہ داری جانتے تھے۔ اور خوف خدا سے لرزتے رہتے تھے کہ کسی بھی پل کوئی چوک نہ ہوجائے۔ اسلام میں حکومت اور حکمرانی، اور حاکم کا انداز اور معیار دیکھیے حضرت علیؓ اسلام کے چوتھے خلیفہ ہیں۔ انہوں نے خود کہا کہ مجھے دنیا کی تین چیزیں محبوب ہیں۔ایک مہمانوں کی خدمت کرنا، دوم گرمیوں میں روزہ رکھنا، سوم جہاد میں تلوار چلانا۔ آپ نے دنیا کی تاریخ میں کسی بھی اس طرح کے بادشاہوں، یا خلفا کا تذکرہ پڑھا اور سنا ہے۔ معمولی وزیروں سے ملنے کے لیے لوگ دھکے کھاتے پھرتے ہیں، افسروں تک سے ملنے کے مواقع نہیں مل پاتے ہیں لیکن یہ اسلامی سلطنت کے خلیفہ ہیں جنہیں مہمانوں کی خدمت میں سب سے زیادہ مزہ آتا ہے۔ آج ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جنہیں ہر طرح کے آسائش میں بھی روزہ رکھنا گوارہ نہیں ہے۔ مگر ہمارے خلیفہ کو عرب کی شدید ترین گرمیوں میں روزہ رکھنا بے حد پسند ہے۔
آج کسی ملک پر کوئی دوسرا ملک حملہ کردیتا ہے یا انصاف، حق اورخدا کے نام پر دشمن خدا ایک دوسرے ملک پر چڑھ دوڑتا ہے تو لڑنے کا فریضہ سپاہی اور فوجی ادا کرتے ہیں، حاکم شیش محل میں بیٹھ کر چین کی ہنسی بجاتے ہیں۔ مگر حضرت علیؓ کو جہاد فی سبیل اللہ میں تلوار چلانے میں سب سے زیادہ مزہ آتا ہے۔ خلفائے راشدین اور مسلم حکمرانوں کی انہیں صفات کریمانہ نے دنیا کے اس سرے سے لے کر اس سرے تک دین اسلام کے پرچم کو بلند کیا۔لوگوں کے دلوں کو فتح کیا، انصاف کے نام پر سزا کے لیے کبھی بھی اپنے پرائے کا خیال نہیں کیا، ان کی نظریں ہمیشہ فرمان الٰہی اور فرمان رسولؐ پر ٹکی رہیں۔ وہ قصر سلطانی میں بیٹھ کر عذاب قبر اور دوزخ کے عذاب کے خوف سے لرزتے رہے۔ جبکہ یہ وہ بزرگان خوش بخت اور قابل احترام ہستیاں تھیں جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھی۔
کہنے کا مطلب یہ کہ آج جو ساری دنیا میں ایک افراتفری کا ماحول ہے، اور لوگ ایک دوسرے پر ظلم ڈھانے کی تاک میں لگے ہوئے ہیں، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں اور ملکوں نے انصاف کو اپنا وطیرہ نہیں بنارکھا ہے۔ یہ وہ حاکم اور حکمراں ہیں جو قانون کے مطابق سزا صرف کمزوروں کو یا ان لوگوں کو دیتے ہیں جنہیں وہ اپنا دوست نہیں سمجھتے ہیں۔ جبکہ اپنوں کی ہر غلطی سے چشم پوشی برتتے ہیں ضرورت پڑتی ہے تو اپنے لوگوں کے سنگین سے سنگین جرائم کی پردہ پوشی کرنے میں کوئی برائی نہیں محسوس کرتے ہیں۔ بعض حکمراں تو ایسے بھی ہیں جو کھلے عام اپنے ظالم ہونے یا اپنے طرفدار ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ اگر آج بھی دنیا کو امن و امان کا گہوارہ بنانا ہے تو ضروری ہے کہ اسلام کے عدل و انصاف کے پیمانے کو عام کیا جائے۔