نیک نیتی کا ملمع

0

کورونا وائرس نے ایک بار پھر دنیا میں خوف و ہراس کی لہردوڑا دی ہے۔کہاجارہاہے کہ اس نئی لہر کا آغاز بھی چین سے ہی ہوا ہے اور وہاں متاثر افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ حالانکہ چین نے اپنے یہاں سے اس وبا کے خاتمہ کیلئے کئی طرح کے اقدامات کیے تھے جن میں روزانہ کی بنیاد پر کورونا ٹسٹ اورظالمانہ قسم کے لاک ڈائون کا تسلسل بھی شامل تھا۔ ان اقدامات سے وبا کے پھیلائومیںتو کمی نہیں آئی لیکن اس کے خلاف چین بھر میں عوامی احتجاج کا ایک طوفان کھڑا ہوگیااور آج صورتحال یہ ہے کہ کورونا پھرچین کی سرحدوں سے باہر نکل کر دوسرے ممالک میں ہلاکت خیزی کا سبب بننے والا ہے۔
چین کے یہ حالات ’مارگزیدہ از ریسما ن می ترسد‘ کے مصداق ہندوستان میں کچھ زیادہ ہی ہراس پھیلا رہے ہیں۔لوگوں میں عجیب طرح کی بے چینی پھیل گئی ہے اور حکومت بھی بظاہر نہیں چاہتی ہے کہ ہندوستان میں پہلی اور دوسری لہر جیسے حالات پیدا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ د ودنوں سے کورونا اپ ڈیٹ دیاجارہاہے اور ایوان میں بھی حکومت کورونا کی صورتحال پر ملک کو آگاہی دے رہی ہے۔ وزیر صحت من سکھ منڈاویہ نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں ایک بار پھر کورونا کا خطرہ منڈلا رہاہے جس کیلئے حکومت ہر محاذ پر تیاری کررہی ہے اور وزیراعظم نریندر مودی خود حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی ایک سانس میں وزیرصحت نے یہ مژدہ بھی سنایا کہ ملک میں کورونا کے نئے کیسز میں مسلسل کمی بھی آرہی ہے حالانکہ دوسرے کئی ممالک میں کورونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ چین، جنوبی کوریا، امریکہ، فرانس اور اٹلی جیسے ممالک میں کورونا سے اموات اور نئے کیسزنے خطرناک صورت اختیار کرلی ہے اورپوری دنیا میں کورونا کیسز کا یومیہ اوسط 5 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔لیکن ہندوستان میں ان کا پھیلائو محدو د ہے اوریومیہ اوسطاً 153نئے کیسز ہی رجسٹر ہورہے ہیں۔ ایوان سے اپنے خطاب میں احتیاطی تدابیر کے استعمال پر زوردیتے ہوئے وزیر صحت نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ برقرار رکھیں اور سینی ٹائزر کا بھی پابندی سے استعمال کرتے رہیں۔ وزیرموصوف حکومت کی کارگزاری بیان کرنے سے بھی نہیںچوکے اور220کروڑ افراد کی ٹیکہ کاری کا ساراسہرا مودی حکومت کے سر سجاتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت وبا سے لڑنے کیلئے پرعزم ہے اور تمام ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ایئرپورٹ پر بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی رینڈم سیمپلنگ بھی کی جارہی ہے اور ریاستوںکو بھی احتیاطی تدابیر کی ہدایت اور مشورے دیے گئے ہیں۔
وزیرصحت کے اس بیان میں بظاہر کوئی غیر عقلی اور غیر منطقی بات نہیں ہے۔احتیاطی تدابیر کا مشورہ بھی سر آنکھوں پر لیکن موصوف نے صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال اور کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ’ملک کے مفاد‘میں ’بھارت جوڑو یاترا ‘کو ملتوی کرنے کی بات کہہ کرحکومت کی نیک نیتی کا سارا ملمع خود ہی اتار پھینکا۔راہل گاندھی اور کانگریس کے دوسرے لیڈروںکو دی جانے والی ان کی ہدایت سے یہ محسوس ہورہاہے کہ حکومت اور بھارتیہ جنتاپارٹی کورونا پروٹوکول پر عمل درآمد کے پردہ میں دراصل ’ بھارت جوڑو یاترا‘ کو ہی روکنا چاہتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تویہ اقدامات دو برس پہلے اس وقت کیوں نہیں سوجھے تھے جب پورا ملک کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی کا شکار تھا، عالمی ادارہ صحت بین الاقوامی نقل و حرکت روکنے کے مشورے دے رہا تھا، انفیکشن کو قابو میں رکھنے کی تدبیروں پر بات ہورہی تھی لیکن وزیراعظم مودی ’ نمستے ٹرمپ‘ کررہے تھے۔ ماہرین کے تمام مشوروں کوکبرو نخوت سے ٹھکراتے ہوئے ان ہی ایام میں بہار کے اسمبلی انتخابات بھی کرائے گئے۔ اس دوران انتخابی جلسوں میں بھارتیہ جنتاپارٹی نے جو کھیل کھیلا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔’دزدے بکف چراغ دارد‘ کی طرح انتہائی بے غیرتی کے ساتھ کوروناوائرس کے پھیلائو کا سارا ملبہ شاہین باغ اور تبلیغی جماعت پر ڈالنے کی مذموم کوشش کی گئی اور اب راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کو مورد الزام ٹھہرانے کی تیاری ہے۔
’بھارت جوڑو یاترا‘نے اپنے سفر کا 85فیصد حصہ مکمل کرلیا ہے۔ ابھی یہ یاترا ہریانہ میں ہے اورہفتہ کے روز دہلی پہنچ کر 9دنوں کا وقفہ ہوگا۔اس کے بعد صرف 570کلو میٹر ہی باقی رہ گئے ہیں۔ اپنے اس پورے سفر میں ’بھارت جوڑو یاترا ‘نے محبت، بھائی چارہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا وہ کام کیا ہے جس کی ملک کو سخت ضرورت ہے۔ یہ یاترا نفرت کے بڑھتے وائرس کے خلاف ویکسین کا کام کررہی ہے، لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ حکومت اور بی جے پی کو یہ منظورنہیںہے، اس لیے کورونا کی آڑ میں اسے بند کرنے کامشورہ اور ہدایت دی جارہی ہے۔
[email protected]