میں ہمیشہ ایڈمنسٹریٹر نہیں رہ سکتا: گانگولی

0

کولکاتا (ایجنسیاں) : بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے صدر سوربھ گانگلولی جلد ہی یہ عہدہ چھوڑنے جا رہے ہیں، کیونکہ اس بات کا پورا امکان ہے کہ راجر بنی اب اس کرسی پر بیٹھنے والے ہیں۔ تاہم، کئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گانگلولی بورڈ کے سربراہ کے طور پر جاری رہنا چاہتے تھے، لیکن مبینہ طور پر وہ دوسرے اراکین سے وہ حمایت حاصل نہیں کر سکے جس کی انہیں ضرورت تھی۔ اس پر ان کی طرف سے کوئی سرکاری بیان نہیں آیا ہے، لیکن انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ بی سی سی آئی کے باس نہیں رہیں گے کیونکہ وہ کچھ اور کرنے والے ہیں۔ گانگلولی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ایڈمنسٹریٹر نہیں رہ سکتے۔
بندھن بینک کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے سوربھ گانگلولی نے تصدیق کی کہ وہ طویل عرصے سے ایڈمنسٹریٹر ہیں اور اب کچھ اور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تقریب میں کہا ’’میں طویل عرصے سے ایڈمنسٹریٹر ہوں اور میں کسی اور چیز کی طرف بڑھوں گا۔ آپ زندگی میں جو بھی کریں، لیکن بہترین دن وہ ہوتے ہیں جب آپ ہندوستان کے لیے کھیلتے ہیں۔ میںنے بی سی سی آئی کی قیادت کی ہے اور میں عظیم کام کرتا رہوں گا۔ آپ ہمیشہ کے لیے کھلاڑی نہیں رہ سکتے، آپ ہمیشہ کے لیے منتظم نہیں رہ سکتے۔ دونوں کو کرنا بہت اچھا تھا‘‘۔
بی سی سی آئی صدر کو بندھن بینک نے اپنا برانڈایمبسڈر مقرر کیا ہے۔ اس دوران انہوں نے مزید کہا،’’میں نے کبھی تاریخ پر یقین نہیں کیا، لیکن ماضی میں اعلیٰ سطح پر کھیلنے کے لیے ٹیلنٹ کی کمی تھی۔ وہاں جانے کے لیے، کام کرنا ہے۔آپ ایک دن میں امبانی یا نریندر مودی نہیں بن جاتے، اس کے لیے برسوں کی محنت اور لگن درکار ہوتی ہے۔‘‘
گانگلولی نے بطور کپتان ہندوستانی ٹیم کی قیادت کرنے کے اپنے تجربے کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا،’’اس وقت ٹیم کی قیادت کرنے والے 6 کپتان تھے۔ میں راہل کے لیے اس وقت کھڑا ہوا جب وہ ون ڈے ٹیم سے تقریباً باہر ہو چکے تھے۔ میں نے ٹیم کے انتخاب میں ان کے مشورے لیے۔ ٹیم کے ماحول میں ان چیزوں پر غور نہیں کیا گیا۔‘‘
ہندوستان کے سابق کھلاڑی راجر بنی بی سی سی آئی کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ پہلے ہی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا چکے ہیں اور امکان ہے کہ وہ بلا مقابلہ صدربن جائیں گے۔ جے شاہ بی سی سی آئی سکریٹری کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔آپ کو بتادیں کہ گانگلولی کے دور اقتدار میں کئی اتار چڑھائو آئے، اس دوران انہیں کئی بیماریوں نے بھی گھیرا تاہم انہوں نے اپنی معیاد مکمل کی، ان کی خواہش تھی کہ وہ دوسری بار بھی اس عہدے پر فائز رہے جو نہیں ہوسکا۔