خوب سے خوب تر کے متلاشی تھے حکیم عبدالحمید

0

ڈاکٹر عقیل احمد

حکیم صاحب نے ایک سادہ مگر غیر معمولی زندگی گزاری، (14؍ستمبر1908تا 20 جولائی 1999)   92سال کی عمر میں حکیم عبدالحمید صاحب نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جس کی وجہ سے وہ صدیوں تو کیا ایک تہذیب کی بقا تک یاد کئے جائیں گے صرف انھیں کاموں سے جو انھوں نے انجام دیا ہے بلکہ ان منصوبوں سے زیادہ جانے جائیں گے جن کی تکمیل ہنوز باقی ہے۔
حکیم صاحب نے جب آنکھیں کھولیں تو ان کے یہاں دولت کی فراوانی نہ تھی۔ ان کے والد حکیم حافظ عبدالمجید صاحب نے دوا خانہ کھولنے کا ارادہ کیا تھا اس کے لیے ہمدرد لال کنواں والی عمارت حاصل کرلی تھی دواخانے کا افتتاح بھی نہیں ہوا تھا کہ ان کا1922میں انتقال ہوگیا اس وقت حکیم صاحب کی عمر تیرہ برس تھی۔طب کی تعلیم شروع بھی نہ ہوئی تھی۔1913میں نعمانیہ پھاٹک حبش خاں کے مدرسے میں داخل ہوئے دوسال بعد چوڑی والان کے اسکول میں داخل ہوئے۔چھٹی جماعت کے لیے اینگلو عربک اسکول میں داخل ہوئے۔ترک موالات کی تحریک کے پیش نظر حکیم صاحب کی تعلیم بھی زدمیں آگئی ۔والد صاحب کے انتقال کے بعد ماموں جان حافظ نور صاحب کی ایما پر طب کی تعلیم طبیہ کالج کے استاد حکیم عبدالرحمن سے لینے لگے۔لیکن گھر پر تعلیم کا نظام نہیں چل سکا۔1925میں طبیہ کالج میں داخلہ لیا۔تین سال مستقل کلاس کرتے رہے اور انھیں محسوس ہوا کہ کسی مضمون میں نمبر کم آئے ہیں اس کے لیے حکیم اجمل خاں کے مطب گئے وہاں چار پانچ گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔اس وقفے میں انھوں نے مطب کا ،مریضوںاورادویات کا پورا جائزہ لیا ،ان پانچ گھنٹوں کا اثر زندگی بھر رہا۔ گیارہ سال کی عمر سے حکیم صاحب کی زندگی ضابطوں میں رہی نماز،روزہ اور تہجد کی پابندی کرنے لگے۔
1931سے حکیم صاحب خود مطب کرنے لگے ہمدرد کی روزبروز ترقی ہونے لگی اولاً مسجد گلی شریف بیگ کی ازسر نو تعمیر کا کام پورا کیا۔اس کے بعد حکیم صاحب دواخانے کی توسیع اور تعلیمی ادارووں کے قیام میں لگ گئے۔چار سال بعد1935میں ہی غالب اکیڈمی قائم کرنے کے لیے مزار غالب کے پاس ایک قطعہ آراضی خرید لی۔غالباً حکیم صاحب کا یہ پہلا منصوبہ تھا۔مزار غالب کے سلسلے میں کمیٹیاں اور سوسائٹیاں بن رہی تھیں ان میں حکیم صاحب بھی شامل تھے تھوڑا بہت کام ہو بھی رہا تھا لیکن غالب کی یاد میں اکیڈمی قائم کرنا یہ حکیم صاحب کا ہی تصور تھا جو22؍ فروری1969کو پائے تکمیل کو پہنچا۔
حکیم عبدالحمید صاحب نے جتنے ادارے قائم کئے اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔تاریخ میں کوئی مثال دی جاتی ہے تو سر سید احمد خان کی اور حکیم عبدالحمید کی۔ دونوں بزرگوں نے ہندستان کے لیے جو کارنامے انجام دیے ہیں انھیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔سر سید احمد خاں کا بیشترکام1857کے بعد شروع ہوتا ہے اور حکیم عبدالحمید کا1947کے بعد ۔دونوں ہی سال ہندستان کی تاریخ میں بہت اہم ہیں۔1857میں برطانیہ کو ہندستان پر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔1947میں ہندستان تقسیم ہوکر آزاد ہوا۔ 1857 میںہندستانی سپاہیوں اور عوام کو تہہ تیغ کیا گیا پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا۔1947میں فرقہ وارانہ فساد برپاہوا نتیجے کے طور پر بے شمار جانی نقصان ہوا۔ ہزاروں سال کی گنگا جمنی تہذیب کے ٹکڑے کرد یے گئے ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا۔ مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ ہندستان کو چھوڑ کر پاکستان چلا گیا۔1857میں ہندستان پر برطانیہ کی براہ راست حکومت قائم ہوئی۔بہادر شاہ گرفتار کر کے برما لے جائے گئے۔ قلعے سے تعلق رکھنے والوں کو یا تو مار دیا گیا یا کالا پانی کی سزادی گئی۔ آزادی کی جنگ میں انگریزوں نے مسلمانوں کو قصوروار سمجھا اور ان سے انتقام لیا۔ سرسید احمد خاں نے اسباب بغاوت ہند لکھ کر مسلمانوں کو اس الزام سے بری کرانے کی کوشش کی۔ ہندستان خاص کر مسلمانوں کو پستی سے نکالنے کے لیے حصول تعلیم پر توجہ مرکوز کی۔ اسکولوں کے قیام کاسلسلہ شروع کیا۔سائنس اور انگریزی کی تعلیم پر زور دیا آکسفورڈ اور کیمرج کی طرز پر اینگلو محمڈن اورینٹل اقامتی کالج علی گڑھ میں قائم کیا اس کے لیے سر سید نے پورے ملک کا دورہ کیا تعلیمی بیداری پیدا کی اور کالج کے اخراجات کے لیے چندہ بھی کیا۔اس وقت ان کی خوب مخالفت بھی ہوئی اور پذیرائی بھی ہوئی۔ اسی کالج کو بعد میں یونیورسٹی کا درجہ ملا اور یہیں کے تعلیم یافتہ طلبہ کی کثیر تعداد پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔1947کا سال ہندستان کی آزادی اور خوشی کا ہے ۔ تقسیم نے آزادی کی خوشی کو ماند کردیا اور فر قہ و ارانہ فسادات ہونے لگے کسی نہ کسی صورت میں ہر ہندوستانی متاثر ہوا۔حکیم صاحب کے چھوٹے بھائی حکیم محمد سعید ہجرت کرکے پاکستان چلے گئے۔ہندوستان کا بیشتر مسلم تعلیم یافتہ طبقہ پاکستان چلا گیا۔ ہندوستانی معاشرے میں تقریباً وہی صورت حال پیدا ہوگی جو1857میں تھی۔حکیم صاحب نے ایک فائونڈیشن بنا کر تعلیم کے میدان میں قدم رکھا۔1947میں جب لوگ ہجرت کر رہے تھے توحکیم صاحب تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے زمینیں خرید رہے تھے۔ ادارے قائم کرنے کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پیسے کا ہوتا ہے حکیم صاحب نے دواخانے کی آمدنی کا زیادہ حصہ وقف کردیا۔ پھر ایک کے بعد ایک نئے نئے تعلیمی ادارے کھلنے کا سلسلہ شروع ہوگیا جن کا بعد میں جامعہ ہمدرد میں انضمام ہوگیا اور کچھ الگ ادارے کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں جیسے ہمدرد ایجوکیشن سوسائٹی، ہمدرد پبلک اسکول،رابعہ گرلس پبلک اسکول اور غالب اکیڈمی،ہمدرد اسٹڈی سرکل وغیرہ۔
حکیم صاحب کے پیش نظر تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبا کے روزگار کا مسئلہ بھی تھا۔ اس لیے ان اداروں میںزیادہ تر پیشے ورانہ تعلیم پر توجہ دی گئی اور اس کے لیے ہمدرد بزنس ایمپلائمنٹ بیورو بھی بنایا گیا تھا۔ہمدرد کالج آف فارمیسی،ہمدرد طبیہ کالج،رفیدہ نرسنگ کالج،  ہمدرد اسٹدی سرکل برائے آئی اے ایس کوچنگ ان اداروں میں اس طرح کی تعلیم وتربیت کا انتظام تھا کہ فارغ ہوتے ہی طلبا کو ملازمت مل جاتی تھی۔
بعض خالص ادبی اور ثقافتی اداروں میں بھی روزگار سے وابستہ کورسز کی گنجائش نکال لی گئی تھی۔جیسے غالب اکیڈمی میں خوش نویسی ،خطاطی،ٹائپ اور کمپیوٹر کورسز کرائے جاتے تھے۔ ہمدرد اسٹڈی سرکل کے زیر اہتمام طلبا کا انتخاب کرکے آئی اے ایس کی تیاری کا بندوبست کیا گیا ان کے رہنے ،کھانے اور لائبریری کی سہولت بھی دی گئی۔
1963میں حکیم صاحب نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز قائم کیا جس کے ڈائرکٹر سید اوصاف علی مرحوم تھے یہ ادارہ بعد میں جامعہ ہمددر کا حصہ بن گیا۔ اس ادرے کا دائرہ صرف اسلامی تعلیمات تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد بین مذاہب کی تعلیمات کا مطالعہ تھا اور تمام مذاہب کی یکساں تعلیمات کو پیش کرنا تھا۔1965میں جب حکیم صاحب نے آصف علی روڈ پر ہمدرد ریسرچ کلینک اینڈ نرسنگ ہوم کھولا تو اس میں یونانی طریقِ علاج کے ساتھ ساتھ انگریزی طریق علاج کو بھی اپنایا گیا۔خون کی جانچ بخار کی جانچ اور دیگر ٹیسٹ انگریزی طریق کار سے ہوتے تھے مرض کی تشخیص کے بعد مریض اپنے حساب سے علاج کرواتا تھا۔حکیموں کے ساتھ ساتھ ایلوپتھی کے قابل ڈاکٹر کی خدمات اس نرسنگ ہوم کو حاصل تھیں۔ ایک بہت ہی قابل ڈاکٹر سنسارچند المست تھے۔جنھوں نے گیتا کا اردو ترجمہ کرکے بیرون ملک اپنے عزیزوں کو بھیجا تھا۔یہی نرسنگ ہوم بعد میںمجیدیہ اسپتال بنا۔ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اینڈ ریسرچ اسی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔
حکیم صاحب نے دودرجن سے زائد ادارے مع پروجیکٹس قائم کئے۔ پروجیکٹس کا کام حکیم صاحب کی نگرانی اور سرپرستی میں ہوتا تھا۔ان پروجیکٹس میںتحقیقی کام ہوتا تھا خوب سے خوب تر کی تلاش ہوتی تھی۔غالب اکیڈمی میںہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل ریسرچ،ٹیکنیکل ٹرمس ریسرچ پروجیکٹس اور ہندوستانی پروجیکٹس کے ذریعے تحقیقی کام ہوئے۔ ہسٹاریکل پروجیکٹ کے ڈائرکٹر پروفیسر اکبر علی ترمذی تھے اس کے صدر حکیم صاحب خود تھے۔اس کمیٹی میں پروفیسر بپن چندر،پروفیسر ستیش چندر،پروفیسر ضیاء الحسن فاروقی،پروفیسر ایم ایس اگوانی،پروفیسر محمد امین وغیرہ شامل تھے۔ ان میں سے شاید اب کوئی باحیات نہیں ہے یہ سب ہندستان کے اعلیٰ ترین دانشور اور تاریخ داں تھے خاص طور سے پروفیسر بپن چندر کا نام جدید ہندوستان کے مورخوں میں سب سے بڑا نام ہے۔ اس ادارے نے تقسیم ہند سے پیدا شدہ مسائل پر کام کیا تھا۔1996میں اس کا انضمام جامعہ ہمدرد میں کردیا گیا۔
منصوبہ تحقیق اصطلاحات ،ہندوستانی پروجیکٹ اور ہندوستان کی دینی درسگا ہیں۔یہ پروجیکٹس کافی اہم ہیں ان سے حکیم صاحب کی دور اندیشی کا اندازہ ہوتا ہے۔
دینی درسگاہوں کا پروجیکٹ ہمدرد ایجوکیشن سوسائٹی کے سکریٹری سید حامد صاحب کی زیر سرپرستی میں ہوا۔اس کے سروے کا کام ڈاکٹر قمر الدین کی نگرانی میں ہوا تھاAssisting investigator  اسمٰعیل غازی صاحب تھے۔ امیتاز احمد خاں،عبدالسلام صدیقی،ثاقب فاروقی اور محمد زبیر احمد کی معاونت اس سروے کو حاصل تھی۔یہ رپورٹ کتابی صورت میں شائع ہوگئی ہے پیش لفظ حکیم صاحب نے لکھا ہے۔
ہندوستانی پروجیکٹ بھی حکیم صاحب کا بہت اہم پروجیکٹ تھا۔حکیم صاحب کی اپنی لسانی پالیسی تھی۔وہ بی بی سی کی اردو اور ہندی خبریں سنتے تھے اور خبروں میں استعمال ہوئے عربی فارسی کے لفظ تحریر فرما لیا کرتے تھے۔ اس بات کا وہ اکثر ذکر کیا کرتے تھے کہ ہندی والوں نے اپنی زبان میں عربی،فارسی اور دیگر زبانوں کے الفاظ شامل کرکے اپنی زبان کو فصیح بنا لیا جب کہ اردو والوں نے فارسی اور عربی الفاظ کی کثرت سے اپنی زبان کو ثقیل بنا لیا۔بی بی سی کی ہندی خبروں کی زبان فصیح ہوگئی تھی لیکن ہندوستان میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی ہندی سنسکرت الفاظ کی کثرت کی وجہ سے ثقیل ہوگئی تھی لیکن حالات بدلے پرائیوٹ چینلوںکا دور شروع ہوا زبان میں نمایاں تبدیلی آئی اور حکیم صاحب جو چاہتے تھے وہی زبان میڈیا کی زبان بن گئی۔
حکیم صاحب گاندھی جی کی زبان ہندستانی کے حامی تھے یہ ایسی زبان تھی جو ہندوستان کے کونے کونے میں سمجھی جاتی تھی جسے آسان اردو یا آسان ہندی کہہ سکتے تھے۔ یہ ہندوستان کی قومی زبان تو نہیں بن سکی۔ لیکن حکیم صاحب اس زبان کوسارک ممالک کے لیے موزوں سمجھتے تھے۔اس پروجیکٹ کے ذریعے سارک ممالک کی زبان کے امکانات پر کافی کام ہوا۔ سابق وزیر اعظم آئی کے گجرال  سینئر صحافی آنجہانی کلدیپ نیر،جی ڈی چندن،سنٹرل ہندی ڈائرکٹریٹ کے ڈائرکٹر آنجہانی گنگا پرساد ومل اور چنچل چوہان اور دوسرے دانشور اس پروجیکٹ کے مذاکروں میں شرکت کرتے تھے۔اس پروجیکٹ پر کام کا باضابطہ آغاز1992میں ہوا تھا لیکن اس سے بہت پہلے حکیم صاحب ہندی کے مشہور شعرا کے کلام میں عربی، فارسی ترکی الفاظ کی فرہنگ تیار کروا رہے تھے۔سور،تلسی،کبیر کے کلام میں ان الفاظ کی فرہنگ بنائی گئی۔گوروگرنتھ صاحب میں عربی،فارسی اور ترکی الفاظ کی فرہنگ بھی بنائی گئی تھی۔ اس پروجیکٹ کے تحت اردو ہندی اور انگریزی میں کچھ کتابیں بھی شائع کی گئی تھیں۔ اردو میں’’ہندوستانی رنگ‘‘ اردو اور ہندی کی آسان شاعری کا انتخاب اور ہندوستانی محاورے انگریزی میں جنوبی ایشیا میں رابطے کی زبان ، ہندی میں ہندوستانی بولی وغیرہ کتابیں شائع کی گئیں ۔ اس پروجیکٹ کی مدت  محض دوسال تھی۔کافی کام ہوا اور بہت کچھ کرنے کی گنجائش ہے۔
حکیم صاحب کی زندگی کا آخری ادارہ ہمدرد آرکائیوز اینڈ ریسرچ سینٹر ہے جس کی عمارت کا افتتاح خود حکیم صاحب نے11؍ نومبر1998کو کیا تھا۔اس کی عظیم الشان عمارت کا بیشتر حصہ حکیم صاحب کی حیات میں تیار ہوگیاتھا۔ اس کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے سید اوصاف علی صاحب کو فائز کردیا گیا تھا۔ اس سینٹر کا مقصد ہمدرد کی کم و بیش کی صدی بھر کی تاریخ کودستاویز کے ساتھ محفوظ کیا جاسکے۔ ہمدرد کے اداروں کی تفصیل،دواخانے کی عہد بہ عہد تاریخ کے تاریخی دستاویز اور جو پروجیکٹ مکمل نہیں ہوسکے ان کا سارا مواد ایک جگہ رکھا جاسکے اور ان پر ریسرچ کے دروازے کھل سکیں۔ حکیم صاحب کی عادت تھی کہ یادداشت کے طور پر چھوٹے سے کاغذ پر لکھ لیا کرتے تھے اسے وہ ضائع نہیں کرتے تھے وہ سب محفوظ ہیں۔ ان کی مدد سے روز نامچہ بھی تیار ہوسکتا ہے۔حکیم صاحب  بے شمار فائلیں چھوڑ گئے ہیں ان کی چھان بین اور درجہ بندی اس سینٹر میں ہو رہی ہے۔
حکیم عبدالحمید ادارہ ساز تھے۔ ہندوستان کی تعلیمی پسماندگی کی انھیں فکر تھی۔ان کے سامنے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مثال موجود تھی۔سرسید احمد خاں علی گڑھ مسلم اورینٹل کالج کو آکسفورڈ کے طرز پر بنانا چاہتے تھے اس کے لیے انھوں نے چندہ جمع کیا اور اہل علم کی ایک جماعت تیار کی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام ایک ایسے ادارے کی حیثیت سے ہوا جو حکومت سے عدم اشتراک کے طور پر ہوا۔ یہ کام اہل خیر حضرات کے چندے سے ہوا۔یہاںکا طرز تعلیم ہندوستانی تھا گاندھی ،مولانا محمد علی جوہر،مختار احمد انصاری وغیرہ کی کوششوں سے یہ ادارہ وجود میں آیا۔حکیم صاحب نے عصر حاضر میں مروجہ تمام طرز تعلیم اور طریق کار سے استفادہ کرکے بہترین خوبیوں کو اپنایا۔ حکیم صاحب نے اپنے سرمایے اور اپنی فکر ،سوچ ،تخیل اور تصور سے ادارے قائم کئے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS