گیان واپی مسجد معاملہ: مسلم فریق نے کی مبینہ شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کی مخالفت

0

وارانسی، (ایجنسیاں) : آج وارانسی کی عدالت میں گیان واپی مسجد اور شرنگار گوری معاملے میں کاربن ڈیٹنگ کو لے کر اہم سماعت ہوئی۔ ہندو فریق کے ذریعہ گیان واپی مسجد میں موجود مبینہ شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ کو لے کر داخل عرضی پر 11 اکتوبر کو مسلم فریق نے اپنے دلائل پیش کیے۔ مسلم فریق کاربن ڈیٹنگ کی مخالفت کر رہا ہے اور اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ کاربن ڈیٹنگ سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ جس پتھر کو شیولنگ کہا جا رہا ہے، وہ دراصل فوارہ ہے۔واضح رہے کہ وارانسی کی عدالت نے گیان واپی مسجد مینجمنٹ کو عرضی دہندگان (چار خواتین) کی عرضی پر جواب داخل کرنے کو کہا تھا، جس کے بعد آج مسلم فریق نے عدالت میں اپنی طرف سے دلیل پیش کی۔ اب اس معاملے میں آئندہ سماعت کے لیے 14 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔دراصل رواں سال مئی میں گیان واپی مسجد کا سروے کیا گیا تھا۔ اس دوران ہندو فریق نے دعویٰ کیا تھا کہ مسجد کے
وضوخانہ کے درمیان میں ایک شیولنگ دریافت ہوا ہے۔ حالانکہ مسلم فریق اسے لگاتار فوارہ بتا رہا ہے۔ عرضی دہندگان کا مطالبہ ہے کہ شیولنگ کی
کاربن ڈیٹنگ کے ساتھ ساتھ سائنسی جانچ کرائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اس کے لیے شیولنگ کو کسی طرح کا نقصان نہ
پہنچایا جائے۔ عرضی دہندگان کے مطابق کاربن ڈیٹنگ کا مقصد یہ پتہ کرنا ہے کہ یہ فوارہ ہے یا شیولنگ۔ قابل ذکر ہے کہ کاربن ڈیٹنگ کو لے کر
ہندو فریق گزشتہ سماعت کے دوران ہی اپنی بات رکھ چکا ہے۔ یعنی عدالت مسلم فریق کے دلائل سننے کے بعد کوئی فیصلہ سنائے گی۔ امکان ظاہر
کیا جا رہا ہے کہ آئندہ سماعت میں بھی مسلم فریق کی طرف سے کچھ دلائل پیش کیے جائیں گے۔ کاربن ڈیٹنگ معاملے میں جلد ہی کوئی فیصلہ صادر
کیے جانے کی بھی امید کی جا رہی ہے۔
اِس سے قبل ہندو فریق کے وکیل نے 7 اکتوبرکو مبینہ شیولنگ کی کاربن ڈیٹنگ اور سائنسی جانچ کے بارے میں اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا
تھاکہ وضوخانہ میں ملنے والامبینہ شیولنگ اس مقدمے کا حصہ ہے۔ ہندو فریق کی اس بات پر انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے کہا کہ آج ہم تیار ہو
کر نہیں آئے۔ ہم حکم سننے آئے تھے، لیکن اگر ایک بات سامنے آئی ہے تو ہمیں وقت دیا جائے اور ہم اس کا جواب بھی دیں گے۔ اس کے بعد عدالت
نے انہیں 11 تاریخ کا وقت دیا۔ گزشتہ تاریخ کو ہندو فریق کے وکیل ہری شنکر جین نے ضلعی عدالت کے سامنے کہاتھا کہ ہم نے پہلے ہی اپنے
معاملہ میں کہہ چکے ہیں کہ ہندوو¿ں کو گیان واپی کمپلیکس کے تمام ظاہر اور پوشیدہ دیوتاو¿ں کی پوجا کرنے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے
کہا کہ گیان واپی مسجد کمپلیکس کے وضوخانہ سے پانی نکالنے کے بعد ’شیولنگ ‘ظاہر ہوا، اس لئے یہ ہمارے مقدمہ کا حصہ ہے۔جین نے کہا
کہ کچھ لوگوں نے یہ غلط فہمی پھیلائی ہے کہ کاربن ڈیٹنگ سے شیولنگ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس پر ہم نے عدالت سے کہا کہ جہاں کاربن
ڈیٹنگ نہیں ہو سکتی، وہاں سائنسی ٹیسٹ کرایا جائے۔ عدالت کے باہر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے کہا
کہ عدالت نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکم نامہ جاری کیا جائے۔ اس سے پہلے، کچھ سوالات ہیں، جن کو حل کرنا چاہیے، اپنی وضاحت دیں۔ پہلا
سوال یہ ہے کہ 16 مئی کو کیے گئے سروے کے دوران وہاں جو ’شیولنگ‘ ملا تھا وہ اس پراپرٹی کا حصہ ہے یا نہیں؟ اور دوسرا، سائنسی
تحقیقات کے مقصد کے لیے عدالت ایک کمیشن بنا سکتی ہے جس میں کاربن ڈیٹنگ اور دیگر طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے2
نکات رکھے ہیں۔ پہلا یہ تھا کہ ہم نے راست اور ’بالواسطہ‘ دیوتاو¿ں کی پوجا کرنے کے حق کا مطالبہ کیا تھا۔ ’شیولنگ‘ جو ’
وضوخانہ‘ میں تھا پانی کے نیچے تھا اور اس کے بعد پانی کوہٹانے کے بعد ’خفیہ دیوتا‘ سے ’پرفیکٹ دیوتا‘ بن گیا۔ لہٰذا یہ ہماری دلیل کا
ایک حصہ ہے۔