نم آنکھوں سے دی نیتاجی کو آخری وداعی

0

بیٹے اکھلیش یادو نے دی مکھ اگنی/ سرکردہ لیڈران کی آخری رسوم میں شرکت
اٹاوہ، (ایجنسیاں) :اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ و سماجو ادی پارٹی(ایس پی) کے فاو¿نڈر ملائم سنگھ یادو کا منگل کو ان کے آبائی گاو¿ں سیفئی میں نم آنکھوں
کے ساتھ آخری رسومات کی ادائیگی کردی گئی۔ہزاروں خیرخواہوں و پارٹی کارکنوں نے آبدیدہ آنکھوں سے اپنے لیڈر کو الوداع کہا۔ملائم کے بیٹے
و ایس پی صدر اکھلیش یادو نے ’ملائم سنگھ یادو امر رہیں- دھرتی پتر امر رہیں‘ کے فلگ شگاف نعروں کے درمیان ان کے جسد خاکی کو مکھ
اگنی دی۔آخری رسومات کی ادائیگی پوری سرکاری اعزاز کے ساتھ کی گئیں۔اس موقع پر اپنے لیڈر کے آخری دیدار کےلئے میلہ گراو¿نڈ میں
عوام کا جم غفیر امڈپڑا۔اس موقع پر پورا یادو خاندان بشمول شیوپا ل سنگھ یادو، رام گوپال یادو، دھرمیندر یادو، آدتیہ یادو، ڈمپل یادو، پرتیک یادو اور
دیگر خاندانی اراکین اور رشتہ دار و لواحقین خاص طور سے موجود تھے۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ،لوک سبھا اسپیکر اوم پرکاش برلا،نیشنلسٹ
کانگریس پارٹی(این سی پی) صدر شردپوار،مختلف ریاستوں کے وزرا ءاعلیٰ،مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے ان کے آخری رسومات کی
ادائیگی سے قبل ان کا آخری دیدار کیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کی۔سوشلسٹ لیڈر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ
ملائم سنگھ جی سے ہمارے بہت خوشگوار تعلقات تھے۔ ملائم سنگھ کو زمین سے جڑا ہوا لیڈر مانا جاتا تھا۔ملائم سنگھ کا انتقال ہندوستانی سیاست
کےلئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔اس دوران یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے کہا کہ اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ و سینئر لیڈر ملائم
سنگھ یادو کا انتقال کافی تکلیف دہ ہے، آج سیفئی پہنچ کرمغموم دل کے ساتھ ان کے جسد خاکی کو خراج عقید پیش کرتے ہوئے خدا سے ان کے روح
کی تسکین کی دعا کی۔
اس سے قبل صبح ملائم کے جسد خاکی کوسیفئی میلہ گراونڈ کے پنڈال میں لایا گیا، جہاں ملائم کے آخری دیدار کےلئے عوام کا جم غفیر امڈ
پڑا۔چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راو¿،یوپی کے نائب
وزراءاعلیٰ کیشو پرساد موریہ، برجیش پاٹھک، بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو، مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو،ایس پی
کی راجیہ سبھارکن جیہ بچن اور ان کے بیٹے ابھیشیک بچن نے ملائم کو خراج عقیدت پیش کیا۔ساتھ ہی یوگ گرو بابا رام دیو، صنعت کار انل امبانی،
ایس پی کے سینئر لیڈر و لمبے عرصے تک ملائم کے ساتھ رہے محمد اعظم خان، ان کے بیٹے عبداللہ اعظم،بی جے پی ایم پی مینکا گاندھی، ان کے
بیٹے و ایم پی ورون گاندھی، کانگریس لیڈر ملک ارجن کھڑگے، سابق وفاقی وزیر پرفل پٹیل، سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی(ایس بی ایس پی)صدر اوم
پرکاش راج بھراور متعدد سیاسی لیڈران نے نیتا جی کو خراج عقیدت پیش کیا۔قابل ذکر ہے کہ لمبی علالت کے بعد سابق وزیر دفاع ملائم سنگھ یادو کا
پیر کی صبح گرو گرام کے میدانتا اسپتال میں انتقال ہوگیا تھا۔82سالہ سوشلسٹ رہنما گزشتہ تقریباً ڈیڑھ مہینوں سے یہیں زیر علاج تھے۔ ان کے
جسم کے کئی اعضاءنے کام کرنا بند کردیا تھا۔ گروگرام کے میدانتا اسپتال سے ان کے جسد خاکی کو کل ہی ان کے آبائی گاو¿ں سیفئی لایا گیا
تھا،جہاں یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، جل شکتی وزیر سوتنتر دیو سنگھ اور بی جے پی ریاستی صدر بھوپیندر سنگھ نے پہنچ کر ملائم سنگھ
کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔معروف سوشلسٹ رہنما کے انتقال پر ریاستی حکومت نے تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو 22 نومبر 1939 کو اٹاوہ ضلع کے سیفئی گاو¿ں میں ایک کسان خاندان میں اپنی آنکھیں کھولیں۔ ان کے والد
کا نام سوگھر سنگھ یادو اور ماں کا نام مورتی دیوی ہے۔ انہوں نے اپنے سفر کا آغاز ریسلنگ سے کیا، سیاست میں آنے سے پہلے ملائم سنگھ یادو
انٹر کالج میں کچھ عرصے تک درس و تدریس کی خدمات انجام دیا۔ ملائم سنگھ یادو 1967 میں پہلی بار اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے رکن
منتخب ہوئے۔ اس کے بعد سے انہوں نے پیچھے موڑ کر نہیں دیکھا۔ 1977 میں ملائم سنگھ، جوچودھری چرن سنگھ کے قریبی تھے، 1980
میں لوک دل کے صدر بنے اور 1982 میں قانون ساز کونسل میں اپوزیشن کے لیڈر منتخب ہوئے۔ وہ 1989 میں جنتا دل کی جیت کے بعد پہلی
بار یوپی کے وزیر اعلیٰ بنے۔ 1992 میں انہوں نے سماج وادی پارٹی بنائی اور 1993 میں دوسری بار اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ بنے۔
2003 میں وہ تیسری بار یوپی کے وزیراعلیٰ بنے۔ 2004 میں انہوں نے گنور اسمبلی سیٹ پر ریکارڈ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔