کھڑگے کے ہاتھوں میں کانگریس کا مستقبل

0

علیزے نجف
ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کانگریس اپنا صدارتی خلا پر کرنے میں کامیاب ہو گئی پارٹی کے سینئر اور قدآور لیڈر ملکا رجن کھڑگے کے سر پہ کانگریس کے قومی صدارت کا کانٹوں بھرا تاج رکھ دیا گیا ہے یہ صدارتی عہدہ تقریباً چوبیس سال کے بعد غیر گاندھی خاندان کے کسی لیڈر کو حاصل ہوا ہے۔ اس وقت ملکی سیاست میں کانگریس کی دگرگوں حالت کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے وہ بیک وقت کئی محاذوں پہ نبرد آزما ہے اندرونی خلفشار، قیادت کا فقدان اور اقتدار سے محرومی کے ساتھ ساتھ عوام کا عدم اعتماد غرض یہ کہ کانگریس کو چاروں طرف سے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حالات میں کانگریس کی کمان سنبھالنا کھڑگے کے لئے بالکل آسان نہیں ہوگا۔اس وقت راہل گاندھی بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے کانگریس کی دھندلائی ہوئی شبیہ کو صاف کرنے میں مصروف ہیں۔ ملک کو کئی طرح کے بحران کا سامنا ہے بیروزگاری،مہنگائی جیسے بنیادی مسائل نے عوام کی زندگی کو تتر بتر کر کے رکھ دیا ہے بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے راہل گاندھی نے عوام کی سوچوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ عوام اس مشکل وقت سے باہر نکلنے کے لئے ایک بار پھر سے کانگریس کی طرف دیکھ رہے ہیں ایسے میں کانگریس پارٹی کے صدر کا تعین دوسرا اہم فیصلہ ہے اس کے ذریعے کانگریس نے اپنی مقبولیت کو واپس پانے کے لئے راہ ہموار کی ہے۔ لیکن عوام کا اعتماد کانگریس پہ اسی وقت مضبوط ہو سکتا ہے جب کانگریس اپنے باہمی انتشار کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ان غلطیوں کی تلافی کرنے کی کوشش کرے گی جس کی وجہ سے اسے عوام نے اقتدار سے بے دخل کیا ہے۔پچھلے کچھ سالوں سے کانگریس عبوری صدر کے سہارے آگے بڑھ رہی تھی کانگریس کی پے درپے ناکامی نے کانگریس کے لیڈروں کو جس طرح باغی بنا دیا تھا ان کو سنبھالنا سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے بس میں نہیں تھا ایسے میں صدارتی انتخاب وہ بھی غیر گاندھی خاندان میں وقت کی ضرورت تھی تاکہ پارٹی لیڈران کا قبلہ درست کیا جا سکے اب جبکہ پارٹی کے تجربہ کار اور کامیاب 80 سالہ لیڈر ملکا رجن کھڑگے جنوبی ہند کے ہی سینئر کانگریس لیڈر ششی تھرور کو بھاری ووٹوں سے شکست دے کر صدر بننے میں کامیاب ہوگئے ہیں تو یہ خلا بظاہر پْر ہو گیا ہے۔ اب کھڑ گے کے سامنے کئی طرح کے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کے لئے انھیں قومی صدارت کی طاقت کے ساتھ ساتھ کانگریسی لیڈران کا اعتماد حاصل کرنا بھی ضروری ہوگا۔ کیوں کہ قیادت کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ زیر قیادت سبھی کا اعتماد اور تعاون حاصل ہو جو کہ جبر اور رعونت سے قطعا ممکن نہیں۔
ملکا رجن کھڑگے پچاس سال سے زائد عرصے سے سیاست میں سرگرم ہیں وہ آنجہانی جگ جیون رام کے بعد پارٹی کے پہلے دلت لیڈر ہیں جو اس عہدے تک پہنچے انھوں نے سیاست میں نشیب و فراز دونوں کا ہی سامنا بڑی پامردی کے ساتھ کیا ہے انھیں ایک ایسے جنگجو کے طور پہ جانا جاتا ہے جو ہار نہیں مانتا۔ کانگریس کی قومی صدارت کے ذریعے ان کی اس خوبی کا امتحان ہونا طے ہے اگر وہ کانگریس کو منجدھار سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ان کے سیاسی کیریر کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ کسی بھی صدر کی کامیابی کا عام پیمانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ہوتا ہے جس پہ عوام اور سیاسی لیڈران سب کی نظریں جمی ہوتی ہیں شاید یہی وجہ تھی راہل گاندھی 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے صدارت سے مستعفی ہو گئے تھے اسی نظریے سے رشید قدوائی کا کہنا تھا کہ کھڑگے کی کامیابی کا امتحان ہماچل پردیش، گجرات اور کرناٹک میں آئندہ اسمبلی انتخابات ہوں گے کیونکہ کسی بھی رہنما کی کامیابی کا پیمانہ انتخابی کامیابی کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔ اگر پارٹی ان انتخابات میں کامیاب نہیں ہوتی ہے تو کھڑگے کی قیادت پر بہر حال سوالات اٹھائے جائیں گے۔ ووٹوں کے ذریعے اگرچہ انھیں اس عہدے کا اہل قرار دے دیا گیا ہے لیکن ان کی اہلیت کا حتمی فیصلہ تو عملی میدان میں ہی ہونا ہے کھڑگے کے لئے یہ صدارتی عہدہ آگ کے دریا کو پار کرنے کے جیسا ہے۔
کانگریس پارٹی نے جس طرح جمہوری طریقے سے پارٹی صدر کا انتخاب کیا ہے یہ ایک طرف جمہوریت کی ضرورت کی توثیق کرتا ہے وہیں دوسری طرف ایسا کرنا ضروری بھی تھا کیونکہ کانگریس ابھی اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کوئی متنازع فیصلہ لے سکے۔ کانگریس پارٹی کی بقا کے لئے ضروری تھا کہ عوام کے ساتھ پارٹی کے لیڈران کا بھی اعتماد بحال کیا جائے کانگریس پہ جس طرح اقربا پروری کے الزام لگائے جاتے ہیں بالخصوص بی جے پی کی طرف سے اس کی نفی کرنے کے لئے راہل گاندھی اور سونیا گاندھی نے مکمل طور سے خود کو اس سے الگ کر لیا تھا اور ان کی غیر جانبداری اتنی واضح تھی کہ انھوں نے کسی بھی امیدوار کے حق میں کوئی تائیدی بیان دینے سے بھی گریز کیا۔
اب ایسے میں لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوچ پائی جا رہی ہے کہ اگرچہ بظاہر گاندھی خاندان صدر نہیں ہے لیکن کھڑگے کے فیصلوں کو گاندھی خاندان متاثر کرنے کی کوشش ضرور کرے گا ایسے میں گویا بندوق کھڑگے کے کندھے پہ ہو گی اس ساری صورتحال میں کھڑگے کا عمل ردعمل ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو ظاہر کرے گا کہ وہ کس طرح گاندھی خاندان سے تال میل بنا کر پارٹی کو ترقی کی سمت مائل کرتے ہیں جیسا کہ سیاسی تجزیہ نگار ارملیش نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا”سب کچھ اس پر منحصر کرے گا کہ دونوں کے درمیان کیسا تال میل رہتا ہے کیونکہ ماضی میں جب سیتارام کیسری صدر بنے تھے تویہ کہا جاتا ہے کہ گاندھی نہرو خاندان کا ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں رہا۔” ارملیش نے تاہم امید ظاہر کی کہ کانگریس ماضی کی اپنی غلطیوں سے سبق لے گی۔ ارملیش نے بالکل صحیح کہا کہ کانگریس اس وقت معمولی سی غلطی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ڈھلان سے اوپر چڑھنے کے لئے قدموں میں جماؤ اور احتیاط کا ہونا ضروری ہوتا ہے اس وقت کھڑگے اور گاندھی خاندان دونوں کی ہی آزمائش کا وقت ہے ساتھ ہی ساتھ یہ مدت راہل گاندھی کے لئے کسی عملی ٹریننگ سے کم نہیں اہم یہ ہے کہ وہ اس کو کس طرح اہمیت دیتے ہیں اور کس طرح اپنے نظریات میں وسعت پیدا کرتے ہیں۔
کھڑگے کا بھاری ووٹوں سے کامیابی حاصل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ لوگ کھڑگے کی تجربہ کار قیادت سے بہتری کی امید رکھتے ہیں کھڑگے کے اندر اپنی بات کہنے اور سامنے والے کو کنوینس کرنے کی صلاحیت ہے انھوں نے اب تک سیاست کے نشیب و فراز سے بہت کچھ سیکھا ہے انھوں نے خود کو بیجا تنازعات سے ہمیشہ دور رکھا ہے انھیں اپنے پچاس سالہ سیاسی کیریر میں کانگریس کی اعلی قیادت کا ہمیشہ اعتماد حاصل رہا ہے یہی وجہ ہے کہ انھیں غیر متنازع لیڈر کے طور پہ بھی دیکھا جاتا ہے۔
کھڑگے نے صدر منتخب ہونے کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمیں ملک کے آئین اور جمہوریت پر ہونے والے حملوں کا متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ ہم تنظیم کو مضبوط کریں گے اور ان چیلنجز کا بھی مقابلہ کریں گے۔ ملک کو ایک تانا شاہ کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں پارلیمنٹ سے سڑک تک ہر جگہ لڑ نا ہوگا۔ ”کانگریس کے لئے اس وقت اپنی اندرونی صف میں قیادت پیدا کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے کیوں کہ یہ انتشار عوام کو یہ پیغام دیتا ہے کہ جو پارٹی خود اپنے درمیان اتحاد پیدا کرنے میں ناکام ہے تو وہ ملک کے مستقبل کو کیسے تحفظ دے سکتی ہے ان کی یہ تشویش بجا بھی ہے۔ اگر گہرائی سے ان سارے پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو یہ دونوں ہی صورتحال ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں اگر کانگریس پارٹی واپس اپنا اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ بغاوت تمام نظریاتی اختلافات کے باوجود دم توڑ دے گی کیوں کہ سارا کھیل اقتدار کا ہے اور اقتدار میں استحکام محکم نظریات سے ہی ممکن ہے۔ اس زوال پزیر وقت میں گاندھی خاندان نے اپنے وفاداروں اور بیوفاؤں کو یقینا بہت اچھی طرح سے پہچان لیا ہوگا اور ساتھ میں انھیں یہ بھی سمجھ میں آ جانا چاہئے کہ عوام پہ حکومت بنائے رکھنے کے لیے زمینی حقائق کے ساتھ جڑے رہنا کس قدر ضروری ہے۔
اس وقت بات کھڑ گے کی ہو رہی ہے
ان کا تعلق دلت برادری سے ہے۔ دلتوں کی اکثریت کانگریس چھوڑ کر بی جے پی اور دوسری جماعتوں کی طر ف جا چکی ہے۔ کانگریس کے دلت رہنماؤں کا خیال ہے کہ ان کے صدر بننے سے ملک کے موجودہ حالات میں بہت سے دلت ایک بار پھر کانگریس کی طرف واپس آ سکتے ہیں۔ لیکن یہ اتنا بھی آسان نہیں ہوگا کہ محض دلت صدر آ جانے سے عوام یکسر اپنی سوچ کا رخ تبدیل کر دیں اس سے کسی ایک ریاست کے فیصلے میں بھی فرق بمشکل واقع ہو سکتا ہے کجا کہ ملکی سیاست کا رخ تبدیل ہوتے دیکھنے کی خواہش کرنا یہ دور کافی ترقی کر چکا ہے ہر طرح کی خبریں ایک کلک سے پوری دنیا میں گردش کرنے لگتی ہے عوام سے کوئی بھی حقیقت زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتی۔ اس وقت کھڑ گے کی صدارتی کامیابی کا تخمینہ ان کے کئے جانے والے فیصلوں سے ہی کیا جائے گا 80 سالہ کھڑگے کو پرانی ڈگر کا رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ انھیں اپنے تجربوں کے ساتھ نوجوان نسل کے ذہنوں کو ایڈریس کرنے کے لئے نئی تکنیکوں پہ بھی کام کرنا ہوگا ہر سطح پر خود کو مضبوط کرنے کے لئے موجودہ وقت کے تقاضوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ ایسے میں ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کے صدر بننے سے پارٹی میں نئی روح پیدا ہو سکے گی ؟ کیا وہ بی جے پی جیسی ایک مضبوط جماعت کو انتخابات میں شکست دینے کے قابل بنا سکیں گے ؟ اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا اور ان کے جوابات آنے والے وقتوں میں ہی مل سکتے ہیں۔