قرآنی کافور-ایک سائنسی جائزہ

0

ڈاکٹر محمد اقتدار حسین فاروقی
قرآنی آیت بسلسلۂ کافور۔
ترجمہ : نیک لوگ (جنت میں) شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی‘
سورۃ الدہر (سورہ الانسان)کی اس آیت میںجنت کے مکینوں کے لئے ایسی شراب کاذکر ہوا ہے جس میںکافور کامزہ ہوگا۔ اسی سورۃ کی ایک دوسری آیت (نمبر17) میں فرمایا گیا ہے کہ جنت کی شراب میں سونٹھ یعنی زنجبیل کی آمیزش ہوگی۔
تفسیر ماجدی میں کافور کے فوائد بیان کرتے ہوئے تحریر ہوا ہے کہ دنیا کی کسی چیزسے بھی جنت کی کسی نعمت کوتشبیہ دی جاتی ہے، تو وہ اس کی حسن وخوبی کے لحاظ سے ہوتی ہے نہ کہ کسی ضرر اور قبح کے لحاظ سے۔ مولانا ماجد کی نظر میں دنیا کی کافور میں اگر کچھ مضرتیں ہوں بھی توجنت کی کافور پر ان کا کیا اثر، ٹھیک اسی طرح جیسے دنیاکی مشروبات کے سکر کا مطلق اثر شراب جنت کے لذّت وسرور پر نہیں۔
تفہیم القرآن میں کہاگیا ہے کہ کافور ملا ہوا پانی نہ ہوگا بلکہ ایک ایسا قدرتی چشمہ ہوگا، جس کے پانی کی صفائی، ٹھنڈک اور خوشبو کافور سے ملتی جلتی ہوگی۔
تفسیر حقانی میں ارشاد ہوا ہے کہ جنت میںشراب طہور کا پیالہ پینے کو ملے گا جس میں چشمۂ کافور کی آمیزش ہوگی یا اس کا مزاج کافوری ہوگا، کوئی گرمی اور سوزش نہ ہوگی تاکہ حشر کی سب گرمی دور ہوجائے۔
بیان القرآن میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کافور دنیا کا کافور نہ ہوگا بلکہ جنت کا کافور ہوگا۔ جناب یوسف علی نے کافور کو انگریزی لفظ Camphor کا ہم معنی بتایا ہے (نوٹ نمبر5835) اور لکھا ہے وہ ٹھنڈک پہنچاتا ہے، تازگی دیتا ہے اورمشرق میں ایک ٹانک ہے۔ ان کے خیال میں اگر تھوڑی سی کافور کسی چیز میں ملا دی جائے تووہ چیز خوشبو اورمزہ کے لحاظ سے قابل قبول ہوگی۔ جناب پکٹہال اورجناب عبداللطیف نے قرآن پاک کے انگریزی ترجموں میں لفظ کافور ہی تحریر کیا ہے۔
لسان العرب میںکافور کے کئی معنی دئے گئے ہیں اور ابن درید کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ عرب قفور اور قافور بھی کہتے ہیں۔اس کوایک ایسا پودہ بتایا گیاہے جس کی کلیاں اخوان کی کلیوں کی طرح ہوتی ہیں۔ اس کے سوا کافور کے معنی اس شے کے بھی بتائے گئے ہیں جو ہرن کے جسم سے دستیاب ہوتی ہے۔ المنجد میں کافور کوایک خوشبودار گھاس نیز کھجور کے شگوفہ کاغلاف اورخوشہ انگور نکلنے کی جگہ بتایا گیا ہے۔
لغات القرآن میں کافور سے مراد اس خول کی دی ہے جو شگوفہ کو اپنی آغوش میں چھپائے ہوتاہے۔ مزید برآں یہ ایک دوا کانام بھی ہے جوحدت کم کرتا ہے۔ اس کو سفید تیز خوشبودار تلخ مادہ بھی بتایا گیا ہے جودرخت کافور سے رس کر جم جاتا ہے۔ یہ درخت بحر ہند کے بعض جزیروں میں پیدا ہوتاہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی کی رائے میں کافور کا تعلق سنسکرت لفظ کپور یاکرپور سے ہے۔
اس سے قبل کہ جنت کے ضمن میں جس کافور کا ذکر قرآن پاک میں ہوا ہے اس کی حقیقت اور ہیئت معلوم کرنے کی سعی کی جائے مناسب ہوگا کہ پہلے آج کے کافور بہ معنی Camphorکی تاریخ پر ایک نظر ڈالی جائے اور پتہ چلایا جائے کہ دنیا کافور سے کب اورکیسے واقف ہوئی اور عربوں کواس کا علم کس دور میں ہوا۔
زمانۂ قدیم سے کافور کا ذریعہ دو بالکل مختلف نباتاتی خاندان کے پودے رہے ہیں ایک توجاوا (انڈونیشیا) کادرخت ہے جو s aromatica Dryobalanopکہلاتا ہے اس کاخاندان Dipterocarpaceae ہے۔ دوسرا ذریعہ جاپان اور چین کا دراز قد پیڑ ہے جس کو camphora Cinnamomumکہتے ہیں۔ یہ Lauraceae خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ ملیشیائی کافور درخت کی چھال سے رستا ہے اور جم جاتا ہے جس کوکھرچ کر نکال لیا جاتا ہے، جبکہ چینی کافور حاصل کرنے کے لئے درخت کی لکڑی کو پانی میں جوش دے کر عرق کو جما لیتے ہیں۔ ہندوستان میں کافی عرصہ قبل، پہلے جاوا کا کافور لایا گیا جوہندوستانی زبان میں کپوریا کرپور کہلایا۔ یہ بہت قیمتی ہوتاتھا۔ پھر کئی سو سال بعدیعنی غالباً بارہویں یا تیرہویں صدی عیسوی میں چینی کافور ہندوستانی بازاروں میں فروخت ہونے لگا جونسبتاً ارزاں تھاملایا کے کافور کو بھیم سینی کپور یا قیصوری کپور اور کبھی کبھی فنصوری کپور کہاجاتا تھا جب کہ چینی کافور صرف کپور کہلاتا تھا۔
عربوں کے ہندوستان سے پرانے تجارتی تعلقات رہے ہیں جو اسلام سے قبل بھی تھے اوراسلام کے بعد بھی، بلکہ اسلام کے بعد ان میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ چنانچہ یہ عین ممکن ہے کہ کافی عرصہ قبل عربوں نے ہندوستان کے توسط سے کافور سے واقفیت حاصل کر لی ہو اور اس کی تجارت کرتے ہوں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عربوں کو کافور کا علم کب اور کس دور میں ہوا۔ یہ بات تو یقینی اورحتمی طور سے کہی جاسکتی ہے کہ مصر، یونان، روم وغیرہ کی پرانی تہذیبوں میں ایک بھی حوالہ ایسا نہیں ملتا ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ براہِ راست یابالواسطہ وہاں کے عوام یا خواص حضرت عیسیٰؑ سے قبل یا پھر کئی سو سال بعد تک کافور سے واقف رہے ہوں۔ مصر کے تہذیبی عجائب، عمارات اور Mummies میں مختلف اقسام کی خوشبودار اشیا کے استعمال کا ثبوت تو ملتا ہے جن میں قابل ذکر لوبان، (عربی، لبان، انگریزی Frankincense)۔ روغن بلسان (Balsam) اورمر مکی (Myrrh) ہیں، لیکن کوئی ایسی چیز، نشانی یا حوالہ نہیں پایا گیا جس میں کافور کاشائبہ بھی ہو۔ یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ عرب جن چیزوں کی تجارت ہندوستان سے کرتے تھے ان سب کومصر کے بازاروں میں فراہم کرتے تھے جہاں سے کافی اشیایونان تک لے جائے جاتی تھیں۔
یونان کے طبی ادب میں جس سونٹھ یعنی زنجبیل کا ذکر ملتا ہے اس کو ہندوستان سے یونان پہنچانے کا سہراعربوں کو جاتا ہے۔ اسی طرح دیگر ہندوستانی عطریات، مسالے اور موتی وغیرہ کے تذکرے اور حوالے مصرویونان کے قدیم ادب میں ملتے ہیں لیکن کافور کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا ہے۔ یونان اور روم کے معروف دانشوروں اور مفکروں میں سے کسی ایک نے بھی کافور کاذکر نہیں کیا ہے۔ ارسطو، افلاطون، پلائنی (Pliny)، ڈائس کورائڈ (Dioscorides)، تھیوفراسٹس (Theophrastus) اور ہیروڈوٹس (Herodotus)جیسے عالموں نے اپنی کسی تصنیف میں کافور کا حوالہ نہیں دیا ہے۔ حکیم جالینوس کی تصنیفات میں بھی کافور کا بیان نہیں پایا جاتا ہے۔ جارج واٹ نے کافور کی تاریخ کاجائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ پہلی مرتبہ ایک مشہور عرب طبیب حکیم اسحاق ابن عمان نے نویں صدی عیسوی میں ملایا کی کافور کی طبی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ وہی دور ہے جب مشہور جغرافیہ داں خردازبہ نے اپنی کتاب میں کافور پر تبصرہ کیا ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے بھی لکھا ہے کہ نویں صدی میں ایک عرب سیاح نے بتایاکہ عرب لائی جانے والی ہندوستانی پیداوار میں آبنوس، بید، عود، کافور، لونگ، جوزبوا اور کئی قسم کی عطریات ہوتی تھیں۔ برخلاف اس کے 14ھ میں جس سیاح نے حضرت عمر کوجن ہندوستانی درآمدات کی تفصیل بتائی تھی اس میں کافور کا نام نہ تھا۔ فلپ ہٹی نے تاریخ عرب کی انگریزی تصنیف میںعراق اورایران کے باب میں لکھا ہے کہ اسلام کے ظہور میںآنے کے زمانے تک عرب کافور سے ناواقف اور لاعلم تھے اور ا س کے ثبوت میں وہ واقعہ بیان کیا ہے کہ جب حضرت سعد بن وقاص کی قیادت میںعراق وایران فتح کر لیا گیا تو کچھ عرب سپاہیوں کوایک بستی میں کافور ملا۔ جس سے پہلے وہ واقف نہ تھے، لہٰذا نمک سمجھ کر کھانے میں ڈال لیا۔ اسی واقعہ کو ابن الطقطقی (الفخری) نے حضرت سعد کے باب میں زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ کافور پانے کا واقعہ مدینہ میںحضرت عمر کو سنایا گیا۔ روایت یوں بیان ہوئی ہے :
’’کسی عرب کو وہاں (عراق وایران کی مہم کے دوران) ایک چمڑے کی تھیلی ملی جس میں کافور تھا، اس نے اپنے ساتھیوں کو لا کر دیا۔ ان سبھوں نے اسے نمک سمجھ کر کھانے میں ڈالا، اس سے قبل وہ کافور کے مزہ سے واقف نہ تھے اور نہ ان کو یہ علم تھا کہ یہ کیا ہے‘‘۔
انہوں نے اس کافور کو دو درہم کے عوض خرید لیا۔ یہ واقعہ تاریخ طبری میں بھی درج ہے۔مندرجہ بالا دی گئی کافور کی تاریخ سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ چھٹی صدی تک عرب کافور سے بالکل ناواقف تھے۔اورغالباً ہندوستان میں بھی یہ کوئی عام استعمال کی چیز نہ تھی۔ اسلام کے ظہور میں آنے کے فوراً بعد عربوں کے لئے علم کے خزانے کھل گئے اور سائنس کے ہر شعبہ میں انہوں نے زبردست پیش رفت کی۔ علم طب کی ترقی تو مسلمانوں کاایک عظیم کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی ہی میں یونانی اور ہندوستانی زبانوں میں لکھی گئی اہم سائنسی اورطبی موضوعات کی کتابوں کے عربی میںتراجم ہوئے اور نباتاتی دوائوں کے استعمال کوایک ایسی شکل دی گئی جس سے بعد میں ساری دنیا مستفید ہوئی۔ علم کی ترقی کے اسی دور میں عربوں کوایران کے ذریعہ ہندوستان کے کافور کی طبی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ اور پھر عربوں کے توسط سے ساری دنیا میںکافور کو ایک اہم دوا کے طورپر تسلیم کیا جانے لگا۔ لیکن عربوں نے اور نہ ہی یورپین اقوام نے کافور کو عطریات میں شامل کرکے غذا یا مشروبات میں استعمال میں لانے کی کوشش کی کیونکہ یقینا وہ کافور کے اندرونی استعمال کے نقصانات سے واقف تھے۔
جاوا کا کافور اس وقت تک بہت کمیاب اور قیمتی رہاجب تک کہ چینی کافور بین الاقوامی طور پر بازاروں میںنہ آگیا۔تیرہویں صدی میں مارکوپورلو نے جب انڈونیشیا کا سفر کیا تو اسے وہاں کافور پیدا کرنے والے درختوں aromatica Dryobalanops کودیکھنے کا موقع ملا۔ اس زمانے میں بھی کافور کی قیمت سونے کی قیمت کے برابر تھی۔ چینی کافور غالباً پندرہویں صدی کے اواخر یا سولہویں صدی کے اوائل میں یورپ لایا گیا۔
اب اگر کافور کی تاریخ مختصراً بیان کی جائے توکہاجاسکتا ہے کہ ہندوستان کا کرپور (کپور)ایران میں کافور کہلایا اور ایران ہی کے ذریعہ ساتویں اور آٹھویں صدی میں عرب اس سے نسبتاً مانوس ہوئے اور جب انہوں نے اس کی طبی خصوصیات کو پرکھ لیا تو نویں صدی تک وہ شہرت عطا کردی جس کاسلسلہ آج تک چلا آرہا ہے۔ بو علی سینا کے بتائے ہوئے کافوری علاج ساری دنیا میں تسلیم کر لئے گئے۔
کافور ایک نہایت تیز بو اور تلخ مزہ کی نباتاتی شئے ہے۔ جاوا کی کافورکا اصل جز d-borneol ہے جبکہ چینی کافور کاجز
2- camphanoneہے یہ دونوں کیمیاوی اجزاء toxicہوتے ہیں اورغذا میں قطعا استعمال نہیں کئے جاسکتے ہیں
کافور کا استعمال متلی، چکر اور شدید پیٹ کادرد پیدا کرسکتا ہے۔ فالج کا بھی اثر ہوسکتا ہے۔ اسی لئے کافور سے بنی دوائوں کے استعمال میںاحتیاط لازم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کافوری دوائوں کو بچوں سے بچا کر رکھنا چاہئے کیونکہ غلطی سے استعمال سے ان کی ہلاکت ہوسکتی ہے۔ کافور کااصل استعمال خارجی طور سے لگائے جانے والے مرہموں میں ہوتاہے۔ ایسے مرہم دردکش ہوتے ہیں اور Fibrositis neuralgia جیسے نہ جانے کتنے امراض میں نہایت کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔ غذا اور مشروبات میں کافور کا ملانا نہ توطبی اعتبار سے صحیح ہے اور نہ مزہ کے اعتبار سے۔ دنیا کے کسی علاقہ اور کسی دور میں کافور کو پانی، مشروبات اور غذا میںاستعمال نہیں کیاگیا جبکہ دوا کے طور پر اس کے خارجی اورداخلی استعمال کی افادیت مسلم ہے۔
کافور کی تاریخ اور سائنسی خصوصیات کی روشنی میں دو باتیں ابھرکر سامنے آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ بعثتِ نبوی کے زمانہ میں عرب عوام جوقرآنی آیات کے مخاطب اول تھے، کافور سے مانوس نہ تھے۔ دوسرے یہ کہ جب ساتویں صدی عیسوی میں یا اس کے بعد وہ اس سے مانوس ہوئے بھی تو عطر (خوشبو) یا غذائی اشیا کی حیثیت سے نہیں بلکہ نہایت مفید دوا کے طور پر۔ اب اگر ان تاریخی اور سائنسی وطبی نتائج کو سچ مان لیاجائے تواس بات کے امکانات اجاگر ہوجاتے ہیں کہ قرآنی آیت (سورۃ الدہر) میں جس کافور کا ذکر ہوا ہے وہ موجودہ انڈونیشیائی یا چینی کافور نہیں ہے بلکہ ایسی خوشبو اورعطر کا نام ہے جوعربوں کوبہت پسندرہی ہوگی اوروہ اس سے بہت مانوس رہے ہوں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ وہ ادرک (زنجبیل) کے شوقین تھے چنانچہ غذا اور مشروبات میںاس کو ملاتے تھے۔ اسی لئے سورۃالدہر کی آیت نمبر 17میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ جنتیوں کو سونٹھ ملی شراب سے نوازا جائے گا۔ یہ امر ذہن نشین رہناچاہئے کہ قرآنِ پاک میںجن نباتات، اثمار یا نباتاتی اشیاکاذکر کیاگیا ہے ان سب سے قرآن پاک کے مخاطب اول خوب واقف تھے۔ مثلاً پھلوں میں انگور، زیتون، انار کھجور او رانجیر کا ذکر ہے لیکن آم یا امرود وغیرہ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے جو ان کے لئے مہیا ہونے والے پھل نہ تھے۔ یہی بات ان سارے نباتات کی بابت کہی جاسکتی ہے جن کے حوالے مختلف آیات میں ملتے ہیں۔ صرف ایک دوزخ کازقوم غالباً ایسادرخت ضرور ہے جس کے ہیبت ناک اور زہریلے ہونے کی اطلاع منکروں کو دی گئی تاکہ ان میںڈر پیدا ہو اور وہ گناہوں سے پرہیز کریں۔ حالانکہ زیادہ واقفیت نہ ہونے کی بنا پر اسلام دشمن عناصر نے ایک واویلا مچادیا اور ابو جہل نے تویہاں تک کہہ دیاکہ زقوم حقیقتاً کھجور ہے جسے وہ اوراس کے ساتھی جہنم میںکھائیں گے۔ غرض کہ ان تفصیلات کے تحت یہی نتیجہ اخذ کیاجاسکتا ہے کہ کافور یقینا کوئی ایسی چیز تھی جس کی خوشبو اور شربتی خوبیوں کا عرب اچھی طرح علم رکھتے تھے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ قرآنی لفظ کافور کاتعلق اگر موجودہ کافور سے نہیں ہے توپھر وہ کیا ہے۔ اس مسئلہ کے حل کیلئے ہمیں بائبل کی کتاب Song of Soloman- (باب اول) کی آیت نمبر ۱۴پر غور کرنا ہوگا۔ اس آیت میں ایک لفظ آیا ہے جس کاتلفظ عبرانی زبان میںکافیر (Kopher) کوفیر یا کوفر (Copher) بتایا گیا ہے۔ مذکورہ آیت میں حضرت سلیمان فرماتے ہیں :’’میرے لئے محبوب ایسا ہے جیسے کہ باغ کے لئے کافیر (یاقافیر) کاخوبصورت گچھا‘‘۔
مولڈنکے نے لکھاہے کہ شروع کے انگریزی اوردیگر یوروپین زبانوں میں بائبل کے تراجم میںاس لفظ کو Camphire کا ہم معنی سمجھاگیا لیکن بعد ازاں جب نباتاتی تاریخ اور عبرانی ویونانی زبان میں نباتات کے ناموں کاجائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ زمانہ قدیم میں حِنا یعنی مہندی کو عبرانی زبان میں کافیر اور یونانی زبان میں کوفرس کہتے تھے۔ یہ بھی علم میں آیا کہ مہندی کادرخت حضرت سلیمان کے زمانے میں سارے عرب علاقوں اورمصر میں عام طور سے پیدا ہوتا تھا جو اپنی پتیوںاورخوشبودار پھولوں کی وجہ سے بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ برخلاف اس کے کافیر بہ معنی Camphor کا سلیمانی دور میں کوئی وجود نہ تھا اور نہ کوئی تصور۔ ان حقائق کی روشنی میں آج جتنے بھی بائبل کے اہم تراجم ہیں ان میںکافیر کاترجمہ حناکیا گیا ہے۔ Jastrow Version – Version-Moffat Goodspeed Version اس کی چند اہم مثالیں ہیں۔
یہاں ڈائس کورائڈس کاحوالہ دینا بھی بہت ضروری ہے۔ وہ اپنے زمانے کا ایک جید عالم گزرا ہے اس نے طبی اور نباتاتی سائنس پر جو کتابیں لکھی ہیں ان کو آج بھی ساری دنیا میں قدر کی نظر سے پڑھا جاتا ہے اور پودوں کی تاریخ بیان کرنے میں ان کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ان تصنیفات میں (جن کادور پہلی صدی عیسوی کاہے) مہندی کے لئے جس لفظ کا بار بار استعمال کیاگیا ہے وہ کوفراس ہی ہے۔(جاری)
rvr